پیارے شاکر تمہارے لیے دعائیں۔ آج بھی تمہارا خط نہیں ملا تو زیادہ فکر لاحق ہوگئی۔ تمہاری صحت کے حوالے سے تشویش ہے ورنہ تم اتنی دیر نہیں کرتے۔ ۔یعنی تمہارا خط آئے ہوئے بیس دن ہوگئے ہیں۔ آخری مرتبہ تمہارا وہ خط آیا تھا جس میں تم نے عمرے والا مضمون بھیجاتھا۔ وہ مضمون بھی شائع ہوگیا لیکن خط نہیں آیا۔ یاتو تمہارا کوئی لفافہ گم ہوگیا یا پھر سعودی ڈاک کی مہربانی ہے۔
ملتان مَیں کل صبح آیاتھا اورآج اتوار کی شام تمہیں خط لکھ رہاہوں۔ ۔ بلکہ اب سوموار کی صبح ہوگئی۔کل خط لکھتے ہوئے لائف آف ہوگئی تھی۔ اب باقی خط لاہور دفتر سے لکھ رہاہوں۔ ۔صورت یہ ہے کہ ملتان بالکل خیریت سے ہے اور عین اپنی جگہ پر موجودہے۔ ۔
لو بھئی تمہارا خط بھی آگیا جو تم نے 19فروری کو لکھا تھا۔ حیرت ہے تمہیں میرے دو خطوط نہیں ملے ،ایک میں تو میں نے ہوتل بابے والا دید شنید کاکالم بھی بھیجاتھا۔ وہ خط دوفروری کو ارسال کیاتھا۔دوسرا چارفروری کولکھا اس میں فرحت نواز والے مضمون کی فوٹو کاپی تھی اور تمہیں تفصیل سے بتایا تھا کہ جوہرٹاﺅن میں پلاٹ لینے کی ضرورت نہیں۔
میں نے وہ درخواست بھی جمع نہیں کرائی۔ تفصیلات پچھلے خط میں لکھی تھیں ۔دوبارہ کیا لکھوں۔ ملوگے تو بتاﺅں گا کہ میں نے درست ہی کیا ہے (ویسے میں ہرکام درست ہی کرتاہوں تمہیں تو معلوم ہے)۔
بیدارملک کی سن لو، ان کی خواہش تھی کہ میں بشریٰ رحمان کا ادارہ چھوڑ کر ان کے ساتھ کام کروں۔ میں نے انکارکردیاکہ میں وطن دوست نہیں چھوڑ سکتا۔ دیدشنید والا کالم میں تمہیں ایک دوروز میں بھجواﺅں گا کیونکہ پرچہ گھرپڑا ہے۔ یہ خط میں آج ہی پوسٹ کرنا چاہتاہوں۔
اب کچھ سیاسی حال احوال ۔یار ملتان کاجلسہ سب جلسوں پر نمبر لے گیا۔ اتنا جوش وخروش ،اتنابڑا مجمع بس یوں سمجھو کہ لاکھوں کا جلسہ تھا۔جلوسوں کی قطاریں تھیں اور بھٹو ہی بھٹو تھا۔ وہ جسے انہوں نے ماردیاتھا ان کے مارنے سے بھی نہیں مرسکا۔ چوک نواں شہر پر میلے کاسماں تھا۔فرحت عباس بھی اس روز ہمارے ساتھ تھا۔قمررضا شہزاد اور حسنین اصغر تبسم کبیروالہ کے ایک جلوس کے ساتھ ملتان پہنچے تھے۔ شہبازنقوی بھی لیہ سے آیاتھا۔نصراللہ خان میلوں لمبا جلوس لے کر مظفرگڑھ سے ملتان پہنچے۔ کوئی آدھ پون گھنٹے تک ٹرکوں اور بسوں کا جلوس گزرتا رہا۔ہر طرف جھنڈے اور پیپلزپارٹی کے رنگوں والے کپڑے ۔۔سب ایک دوسرے کودیکھ کر وکٹری کانشان بناتے تھے اورہم بھی جواب میں وکٹری بناتے تھے۔مجھے لگ رہا ہے کہ اس حکومت کااب چل چلاﺅ ہے یا پھر کانا سور کوئی ایسی چال چلے گا کہ بازی پلٹ دے گا۔ اصل کھیل بے نظیر کی واپسی پرشروع ہوگا۔جلسے میں فضل الرحمن نے مزے کی بات کی۔کہنے لگا پاکستان ایک ایسا کنواں ہے جس میں آٹھ برس سے مرا ہوا کتا پڑا ہے لوگ کنویں سے پانی تو نکال رہے ہیں مگر کتانہیں نکال رہے۔۔سڑکوں ،بازاروں میں ہرطرف بھٹو ،نصرت بھٹو اور بے نظیر کی قدآدم تصاویر تھیں اور سنگ میل اخبار دھڑا دھڑ فروخت ہورہا تھا۔ انہوں نے فرنٹ پر بھٹو کی تصویر کے ساتھ کیلنڈر چھاپاہواتھا۔
کبیروالہ مًیں جمعرات کوگیاتھاوہاں مشاعرہ تھا کاروان ادب کا۔ رات کو سحر صاحب بھی آگئے تو ان کی صدارت ہوگئی۔ ان کے ساتھ مناظر حسین نظرتھا۔واپسی پرمیں ا ورسحر صاحب مناظر کی جیپ میں آئے ۔عجیب آدمی ہے۔سارے رستے غزلیں سناتا آیا۔
تمہارا عمرے والا مضمون لوگوں نے خوب پسند کیا۔اب خط سمیٹتا ہوں ،سب کوسلام ،گھر سے سب تمہیں سلام کہتے ہیں ۔کل پرسوں تمہیں ہوتل بابا بھجوادوں گا۔ اب تو نیا کالم بھی آنے والا ہے۔ آنس معین کاایک شعر سنو جو اس نے ایک مشاعرے میں پڑھاتھاتم بھی وہاں موجودتھے میرے ساتھ۔
عجب انداز سے یہ گھرگرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے
( آنس نے پانچ فروری 1986 کو خود کشی کی تھی )
والسلام
تمہارا رضی
چوبیس فروری انیس سو چھیاسی
ملتان مَیں کل صبح آیاتھا اورآج اتوار کی شام تمہیں خط لکھ رہاہوں۔ ۔ بلکہ اب سوموار کی صبح ہوگئی۔کل خط لکھتے ہوئے لائف آف ہوگئی تھی۔ اب باقی خط لاہور دفتر سے لکھ رہاہوں۔ ۔صورت یہ ہے کہ ملتان بالکل خیریت سے ہے اور عین اپنی جگہ پر موجودہے۔ ۔
لو بھئی تمہارا خط بھی آگیا جو تم نے 19فروری کو لکھا تھا۔ حیرت ہے تمہیں میرے دو خطوط نہیں ملے ،ایک میں تو میں نے ہوتل بابے والا دید شنید کاکالم بھی بھیجاتھا۔ وہ خط دوفروری کو ارسال کیاتھا۔دوسرا چارفروری کولکھا اس میں فرحت نواز والے مضمون کی فوٹو کاپی تھی اور تمہیں تفصیل سے بتایا تھا کہ جوہرٹاﺅن میں پلاٹ لینے کی ضرورت نہیں۔
میں نے وہ درخواست بھی جمع نہیں کرائی۔ تفصیلات پچھلے خط میں لکھی تھیں ۔دوبارہ کیا لکھوں۔ ملوگے تو بتاﺅں گا کہ میں نے درست ہی کیا ہے (ویسے میں ہرکام درست ہی کرتاہوں تمہیں تو معلوم ہے)۔
بیدارملک کی سن لو، ان کی خواہش تھی کہ میں بشریٰ رحمان کا ادارہ چھوڑ کر ان کے ساتھ کام کروں۔ میں نے انکارکردیاکہ میں وطن دوست نہیں چھوڑ سکتا۔ دیدشنید والا کالم میں تمہیں ایک دوروز میں بھجواﺅں گا کیونکہ پرچہ گھرپڑا ہے۔ یہ خط میں آج ہی پوسٹ کرنا چاہتاہوں۔
اب کچھ سیاسی حال احوال ۔یار ملتان کاجلسہ سب جلسوں پر نمبر لے گیا۔ اتنا جوش وخروش ،اتنابڑا مجمع بس یوں سمجھو کہ لاکھوں کا جلسہ تھا۔جلوسوں کی قطاریں تھیں اور بھٹو ہی بھٹو تھا۔ وہ جسے انہوں نے ماردیاتھا ان کے مارنے سے بھی نہیں مرسکا۔ چوک نواں شہر پر میلے کاسماں تھا۔فرحت عباس بھی اس روز ہمارے ساتھ تھا۔قمررضا شہزاد اور حسنین اصغر تبسم کبیروالہ کے ایک جلوس کے ساتھ ملتان پہنچے تھے۔ شہبازنقوی بھی لیہ سے آیاتھا۔نصراللہ خان میلوں لمبا جلوس لے کر مظفرگڑھ سے ملتان پہنچے۔ کوئی آدھ پون گھنٹے تک ٹرکوں اور بسوں کا جلوس گزرتا رہا۔ہر طرف جھنڈے اور پیپلزپارٹی کے رنگوں والے کپڑے ۔۔سب ایک دوسرے کودیکھ کر وکٹری کانشان بناتے تھے اورہم بھی جواب میں وکٹری بناتے تھے۔مجھے لگ رہا ہے کہ اس حکومت کااب چل چلاﺅ ہے یا پھر کانا سور کوئی ایسی چال چلے گا کہ بازی پلٹ دے گا۔ اصل کھیل بے نظیر کی واپسی پرشروع ہوگا۔جلسے میں فضل الرحمن نے مزے کی بات کی۔کہنے لگا پاکستان ایک ایسا کنواں ہے جس میں آٹھ برس سے مرا ہوا کتا پڑا ہے لوگ کنویں سے پانی تو نکال رہے ہیں مگر کتانہیں نکال رہے۔۔سڑکوں ،بازاروں میں ہرطرف بھٹو ،نصرت بھٹو اور بے نظیر کی قدآدم تصاویر تھیں اور سنگ میل اخبار دھڑا دھڑ فروخت ہورہا تھا۔ انہوں نے فرنٹ پر بھٹو کی تصویر کے ساتھ کیلنڈر چھاپاہواتھا۔
کبیروالہ مًیں جمعرات کوگیاتھاوہاں مشاعرہ تھا کاروان ادب کا۔ رات کو سحر صاحب بھی آگئے تو ان کی صدارت ہوگئی۔ ان کے ساتھ مناظر حسین نظرتھا۔واپسی پرمیں ا ورسحر صاحب مناظر کی جیپ میں آئے ۔عجیب آدمی ہے۔سارے رستے غزلیں سناتا آیا۔
تمہارا عمرے والا مضمون لوگوں نے خوب پسند کیا۔اب خط سمیٹتا ہوں ،سب کوسلام ،گھر سے سب تمہیں سلام کہتے ہیں ۔کل پرسوں تمہیں ہوتل بابا بھجوادوں گا۔ اب تو نیا کالم بھی آنے والا ہے۔ آنس معین کاایک شعر سنو جو اس نے ایک مشاعرے میں پڑھاتھاتم بھی وہاں موجودتھے میرے ساتھ۔
عجب انداز سے یہ گھرگرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے
( آنس نے پانچ فروری 1986 کو خود کشی کی تھی )
والسلام
تمہارا رضی
چوبیس فروری انیس سو چھیاسی
فیس بک کمینٹ

