وہ ہم سے تین چار برس چھوٹا تھا ، اس لئے میں جب ایمرسن کالج سے بی اے کر رہا تھا تو ایف اے کے ایک طالب علم کی تنظیم سازی ، تعلیمی لیاقت اور تھوڑی سی گپ بازی کی دھوم تھی ، وہ فیاض احمد حسین ، اصغر ندیم سید اور فضل الرحمن ( مولانا) کی طرح ملت ہائی سکول ملتان سے میٹرک کر کے آیا تھا ۔ایوب خان کے اقتدار کے ستون لڑکھڑا رہے تھے کالج میں بھی تعمیر نو وغیرہ کے ناموں والی تنظیموں کی بھرمار تھی ایسے میں وہ ایک تنظیم ” ینگ بلڈ ” کا پھریرا لے کر آگیا ۔
امروز ملتان کے تعلیمی صفحے پر اس کا بھی کالم چھپتا تھا ، پھر سٹوڈنٹس یونین کا صدر فخر بلوچ ہو گیا گرفتاریاں ہوئیں فخر ، خورشید خان ، باسط کے ساتھ تنویر اقبال بھی گرفتار ہوگیا تب وکلاء ایسی تحریکوں کے ساتھ ہوتے تھے ایک ایڈیشنل سیشن جج نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا، ضمانت کے مچلکے بھرنے کے لئے تنویر اقبال کی طرح کے دبلے پتلے چھوٹی داڑھی والے اس کے والد آئے ۔ تنویر رہا ہوا تو عبدالرؤ ف شیخ نے اسے آڑے ہاتھوں لیا کہ تم تو کہتے تھے کہ تم سید ہو مگر تمہارے والد نے اپنی ” قوم ” شیخ لکھی ہے ۔تنویر ہتھیار ڈالنے والوں میں سے نہیں تھا اس نے کہا ” لالہ روف ! کچھ برس پہلے والد صاحب کے سر پر چوٹ لگی جس سے ان کی یادداشت متاثر ہوئی ہے "۔
حلیم اسکوائر میں اس کی فوٹو سٹیٹ مشینوں وغیرہ کی دکان تھی جہاں نوجوان انقلابی جمع ہوتے اور ان میں دیگر موضوعات کے ساتھ ایک لڑکی بھی زیر بحث آتی جس پر ایک نازک مزاج استاد کے ساتھ سید منظر گیلانی ، شیخ تنویر اقبال کے ڈوئل لڑنے کے چیلنج اچھالے جاتے ۔
5 جولائی 1977 کے بعد قرض خواہوں یا کچھ افسردگیوں کے سبب تنویر روپوش ہوگیا بہت دیر کے بعد ملاقات ہوئی تو وہ لاہور میں کسی ادارے کے ساتھ کام کر رہا تھا غائب ہونے کا سبب پوچھا تو اس نے حسب عادت ایک بات
” چھوڑی ”
” لالہ! تمہیں عابد عمیق اور صلاح الدین حیدر نے بتایا نہیں کہ میں بھی شاہی قلعے میں زیر تفتیش رہا ، بلکہ ان دونوں کے برابر والے سیل میں تھا ”
پھر مسعود اشعر مشعل فاونڈیشن سے وابستہ ہوئے تو تنویر اقبال نے آٹھ دس اہم کتابوں کے ترجمے کئے مگر اس کی مبالغہ آرائی اور ” گپ بازی ” کے باوجود میں نے خوش حالی کی کوئی رمق اس کے چہرے پر نہ دیکھی ۔وہ جرمنی میں بھی اپنے قیام کا ذکر کرتا تھا اور بہت عرصے تک اپنی کلاس کو تنقید پڑھاتے ہوئے ارسطو کے اس فقرے( قرین قیاس ناممکنات بہتر ہیں خلاف قیاس امکانات سے ) کی توضیح کے لئے تنویر اقبال کی مثال دیا کرتا تھا کہ وہ کسی دوست کے گھر پانی پیتے ہوئے بھی بون یا برلن کے گلاسوں کا ذکر ایسے کرتا کہ اس کا قیام جرمنی خلاف قیاس ہو جاتا ۔ کل ڈاکٹر محمود ناصر ملک نے اپنی منقش دیوار گریہ پر لکھا ملتان کی یادوں کے نگار خانے میں سے ایک اور تصویر اپنے فریم سمیت گر گئی ۔ پھر میں نے اس کے سکول فیلو اور فکری ساتھی کامریڈ فیاض باقر کو بتایا اس نے کہا "لالہ ! قرآن خوانی تاں کرا گھن "
فیس بک کمینٹ

