اسلام آباد : پاکستان کی وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ مختصر قیام کے حج کی سہولت سے متعلق تجویز پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں زیر غور رہی ہے۔
وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمر بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نگران وزیر انیق احمد نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں یہ تجویز پیش کی۔محمد عمر بٹ کا کہنا تھا کہ اس تجویز کو رواں سال کی حج پالیسی میں شامل کر کے کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ’جب حج پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی تو اس میں بتایا جائے گا کہ مختصر قیام کا حج کتنے دنوں پر مشتمل ہو گا۔‘سرکاری حج سکیم کے تحت سعودی عرب جانے والے عازمین کا قیام 40 روز کا ہوتا ہے لیکن اب یہ تجویز زیر غور ہے کہ اس وقت کو حج کے خواہمشند افراد کے لیے کم کیا جائے۔
حج کے لیے سعودی عرب جانے والے عازمین کی ایک بڑی تعداد سرکاری حج سکیم کے تحت ہی یہ فریضہ ادا کرتی ہے۔رواں سال پاکستانی حجاج کے لیے مختص 179,210 کوٹے میں سے 81 ہزار پاکستانیوں نے سرکاری حج سکیم کے تحت یہ مذہبی فریضہ ادا کیا۔محمد عمر کا کہنا ہے کہ ’پرائیویٹ حج سکیم کے تحت تو سعودی عرب میں مختصر قیام کی سہولت موجود تھی لیکن سرکاری طور پر حج کے لیے جانے والوں کا مطالبہ تھا کہ انہیں بھی ایسی سہولت فراہم کی جائے۔‘
’بہت سے حجاج جو حج کے لیے جانا چاہتے ہیں ان کو چھٹیوں کا مسئلہ ہوتا ہے، وہ اپنے بچے پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں۔ کچھ تارکین وطن ہیں جو پاکستان میں آ کر اپنے بوڑھے والدین کو حج کے لیے لے کر جاتے ہیں ان کو چھٹیوں کا مسئل ہوتا ہے۔ تو کئی ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ عازمین حج کے لیے سعودی عرب میں 40 سے 45 دن کا قیام زیادہ ہوتا ہے۔‘وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر مختصر قیام کے حج کی تجویز زیر غور ہے۔

