پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ان واضح اشاروں کے بعد کہ وہ ملکی سیاست میں واپسی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں سے مفاہمت و مواصلت پر تیار ہے، پارٹی کے چئیرمین عمران خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں ملک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو ’لندن معاہدے‘ کا نام دیا ہے جو ان کے بقول ’قانون کے ایک بھگوڑے‘ اور ان کے سہولت کاروں کے درمیان ہؤا ہے۔
عمران خان کا بیان گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے سائفر کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس میں نواز شریف کے بارے میں سخت لب و لہجہ اختیار کیا گیا اور بالواسطہ طور سے فوج پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ پیغام انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے جاری کیا جسے ان کے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کیا گیا۔ اس بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں حال ہی میں رونما ہونے والے حالات قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں ۔ یہ لندن منصوبہ ہی کا حصہ ہیں جو درحقیقت لندن معاہدہ ہے جس پر قانون کے بھگوڑے اور بدعنوان مجرم نے اپنے سہولت کاروں کے ہمراہ دستخط کیے ہیں۔ ایک سزا یافتہ مجرم ریاستی اداروں کو تباہ کرکے ہی ملک واپس آسکتا تھا ‘۔
اس بیان میں عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ میں ملک چھوڑ کر جانے سے انکار کرتا ہوں، اس لیے جیل میں میری جان لینے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہ مجھے آہستگی سے اثر کرنے والا زہر بھی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف مقدمات کو قطعی بوگس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہے۔ اب ہم یہ وقوعہ اپنی آنکھوں سے رونما ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن بڑھتے ہوئے عوامی شعور نے بند کمروں میں سازشیں کرنے والوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ عوام کو اپنے حقوق اور ملک کی آزادی کے لیے خود لڑنا ہوگا۔ میں نے اپنے وکیلوں اور پارٹی لیڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک بھر میں کنونشن منعقد کریں اور انتخابی مہم چلائیں۔
عمران خان نے اس بیان میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام لیے بغیر سخت الزامات عائد کیے ۔حالانکہ جیسے نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں، اسی طرح عمران خان بھی توشہ خانہ کیس میں سزا پاچکے ہیں۔ دونوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ ہی نے اس مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے تک ضمانت دی ہوئی ہے۔ ایسے میں یہ تو ممکن نہیں ہے کہ عمران خان کو دی گئی ضمانت جائز اور درست قانونی بنیاد پر ہو لیکن اگر ان کے کسی سیاسی مخالف کو عدالت سے کوئی ریلیف ملتا ہے تو اسے ملی بھگت، لندن معاہدے اور درپردہ سازش کا نام دیا جائے۔ یہ سیاسی ہتھکنڈے درحقیقت ملک میں سیاسی ماحول خراب کرنے اور نظام عدل کے بارے میں مزید شبہات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا طریقہ درست نہیں ہے۔ متعدد سیاسی حلقوں کی جانب سے اسے مسترد کیا گیا ہے۔ ان سطور میں بھی یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ کسی شفاف قانونی کارروائی کے بغیر مشتبہ الزامات میں کسی بھی پارٹی کے لیڈر اور دیگر رہنماؤں کو جیل میں ڈالنا درست طریقہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس کا مشاہدہ ہؤا تھا۔ اس مدت میں نواز شریف دیگر سیاسی رہنماؤں کو نہ صرف یہ کہ عدالتوں سے سزائیں ہوئیں بلکہ وزیر اعظم کے طور پر عمران خان خود بھی اس حوالے سے سخت بیان بازی کرتے رہے تھے۔ حتی کہ انہوں نے یہ حکم بھی دیا کہ سیاسی لیڈروں کو اپنے سابقہ عہدے اور معاشرتی حیثیت کی بنا پر ملنے والی مراعات ختم کی جائیں۔ البتہ سانحہ 9 کے بعد جو حالات سامنے آئے، ان میں عمران خان کو خود ایک مشکل اور تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے۔ انہیں ایک مقدمے میں سزا دے دی گئی ہے اور سائفر کیس میں ان کے خلاف کارروائی کے طریقہ سے یہ شبہ ہونے لگا ہے کہ انہیں اس کیس میں طویل سزا دے کر سیاسی منظر نامہ سے غائب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ طریقہ 2018 کے انتخابات میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے بھی اختیار کیا گیا تھا۔ اب عمران خان اور ان کے بعض ساتھی اسی طریقے کی وجہ سے مشکلات اور عدالتی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں۔ اسی لیے اعلیٰ عدلیہ کو زیادہ چوکنا ہونے اور متاثرہ پارٹی کو بہتر قانونی ریلیف دینے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ تاہم عمران خان کو بھی اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی کہ اگر عدالتیں ان کے مخالفین کو ریلیف دیں تو وہ سازش ہے جو ملک کو تباہ کرنے کاپیش خیمہ ہوسکتی ہے اور لیکن خود انہیں ضمانت لینے کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے زمانے میں انہیں خصوصی رعایت حاصل بھی رہی ہے۔ 9 مئی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ نے براہ راست مداخلت کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا اور عمران خان کو کاغذی کارروائی پوری ہونے تک ریسٹ ہاؤس میں پورے ریاستی پروٹوکول کے ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ طریقہ اس حد تک تو درست اور قابل قبول ہے کہ ملک کے سابقہ وزرائے اعظم پر بے اعتدالی یا قانون شکنی کے الزامات عائد ہوں تو انہیں عزت و وقار کے ساتھ جواب دینے کا موقع ملنا چاہئے۔ اس حوالے سے اہم ہوگا کہ کسی مقدمہ کا فیصلہ ہونے تک گرفتار یا جیل میں بند کرنے کی بجائے متعلقہ لیڈر کو ضمانت کی سہولت دی جائے۔ اور اگر کسی شخص کے فرار ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے گھر میں نظر بند کردیا جائے۔ جو کہ ایک مہذب اور مملکت پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے لوگوں کے شایان شان طریقہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ تخصیص صرف کسی ایک لیڈر کے ساتھ برتنا بھی قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ عمران خان اس تخصیص کو ناجائز طور سے اپنا حق سمجھتے ہیں جبکہ باقی سب لیڈروں پر نازیبا الفاظ میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے، انہیں بہر صورت جیل میں بند رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
حالات کے دھارے نے اب عمران خان کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں عدالتیں انہیں ریلیف دینے سے گریز کررہی ہیں اور وہ خود جیل میں بند ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمیاں محدود کردی گئی ہیں اور تحریک انصاف کے حصے بخرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کو سمجھنا چاہئے کہ اس بدسلوکی کا نشانہ بننے والے وہ پہلے سیاسی لیڈر اور تحریک انصاف پہلی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ ملک میں چند دہائیوں سے سیاسی بساط بچھانے اور مرضی سے مہرے ہلانے کا جو رواج عام ہوچکا ہے، اس کی وجہ سے پہلے بھی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو مشکلات اور قید و بند کا سامنا رہا ہے۔ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔
عمران خان کے ساتھ روا رکھی جانے والی ’ناانصافی‘ کے خلاف اسی وقت ملک بھر میں کوئی تحریک منظم ہوسکتی ہے یا سیاسی لیڈروں کو ملک میں جمہوری نظام کے لیے مل کر کام کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، اگر سب لیڈر اس کی ضرورت محسوس کریں ۔ اس مقصد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہونے کا طریقہ ترک کیا جائے۔ اور تسلیم کیا جائے کہ ملک میں سیاسی رہنمائی کا حق صرف عوام کے منتخب نمائیندوں کو ہی حاصل ہوگا۔ کسی بھی پارٹی یا لیڈر کے لیے ریاستی اداروں کی غیر ضروری اعانت و سرپرستی قابل قبول نہیں ہوگی۔ ایسے میں یہ طرز عمل ترک کرنا ہوگا کہ عسکری قیادت اگر کسی ایک خاص لیڈر کی سرپرستی کرے تو وہ درست اور یہی سہولت دوسرے کو حاصل ہو تو وہ غلط ہوگا۔ ملک میں شفاف جمہوریت اور عوامی حاکمیت کا اصول طے کروانے کے لیے تمام سیاسی لیڈروں کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا اور چند بنیادی اور آئینی اصولوں کے لیے جد و جہد کرنا ہوگی۔ البتہ ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے مقبولیت کے زعم میں دوسری پارٹیوں کی کردار کشی سے یہ مقصد حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کا پانچ رکنی وفد جب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان سے ملنے گیا تو یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ تحریک انصاف نے عروج کے بعد زوال کامزہ چکھ کر اب سیاسی مفاہمت کے لیے پیش قدمی کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن ایک ہی روز بعد عمران خان کے بیان نے اس تاثر کو زائل کردیا۔ اسد قیصر کی سربراہی میں تحریک انصاف کے وفد میں سابق وزیر علی محمد خان، سابق ایم این اے جنید اختر اور سابق سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف شامل تھے۔ بیرسٹر سیف نے بعد میں روزنامہ ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کی خوش دامن کے انتقال پر تعزیت کرنے آئے تھے۔ تاہم جب بھی سیاسی لیڈر ملتے ہیں تو سیاسی گفتگو بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے مولانا کی طرف سے تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو مسترد کرنے کی توصیف کی۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں کی قیادت نے فوری اور شفاف انتخابات منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ اور یہ کہ سب پارٹیوں کو انتخابات میں مساوی موقع ملنا چاہئے۔ خیبر پختون خوا حکومت کے سابق مشیر نے یہ بھی کہا کہ دونوں پارٹیوں میں مزید ملاقاتوں کا امکان بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا وفد پارٹی کی کور کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ہی پارٹی کا وفد مولانا فضل الرحمان سے ملنے گیا تھا۔ اس ملاقات کو ملک کے سیاسی منظر نامہ میں امید کی کرن سمجھا گیا تھا۔
جمیعت علمائے اسلام کے ترجمان حافظ حمدللہ نے اس ملاقات کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری تحریک انصاف یا اس کی قیادت سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہمارا مؤقف رہا ہے کہ تحریک انصاف کو 2018 کے انتخابات کے ذریعے ملک پر مسلط کیا گیا تھا۔ ہم تحریک انصاف کے ایجنڈے اور پالیسیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اگر تحریک انصاف کی قیادت مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔
یہ ایک ٹھوس سیاسی مؤقف ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو باور کرنا ہوگا کہ اگر ملک میں جمہوری کلچر متعارف کروائے بغیر شفاف انتخابات اور عوامی حاکمیت کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے سیاسی مخالفین کو بھی وہی احترام دینا ہوگا جس کی خواہش کوئی لیڈر خود اپنے اور اپنی پارٹی کے لیے کرتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

