العزیزیہ کیس میں بری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف زیادہ پراعتماد دکھائی دیتے ہیں۔ پارٹی کارکنوں سے ایک تازہ خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ ’انتقام نہیں چاہتے لیکن حساب لینا تو بنتا ہے‘ ۔ یہ غیر واضح ہے کہ اس ایک فقرے سے چوتھی بار ملک کا وزیر اعظم بننے کے خواہاں نواز شریف کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ انتقام نہیں چاہتے تو وہ اپنے مصائب کا حساب کس سے مانگ رہے ہیں؟
نواز شریف کو مطعون کرنے اور پنجاب میں سیاسی لحاظ سے چیلنج کرنے کے لیے جس پارٹی اور لیڈر کو مکمل ریاستی حمایت و سرپرستی کے ساتھ سامنے لایا گیا تھا، وہ اب جیل میں بند ہے۔ آج ہی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی کارروائی ان کیمرا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خصوصی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کوئی کارروائی نشر نہیں ہو گی۔ پیمرا اور پی ٹی اے کو اس حوالے سے ہدایات دی جا رہی ہیں ’۔ عدالتی کارروائی میں صرف ملزمان کے اہل خاندان کو شریک ہونے کی اجازت ہوگی لیکن انہیں بھی عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی بات پبلک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سائفر معاملہ کی حساسیت اور ملکی سلامتی و سفارتی نزاکتوں کی وجہ سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اس مقدمہ میں کارروائی کو خفیہ رکھا جائے گا۔ اگرچہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی اس فیصلے کو بھی ماضی کی طرح ہائی کورٹ میں چیلنج کر سکتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ بھی ماضی کے فیصلوں سے برعکس ہونے کی امید نہیں ہے۔
مؤقر انگریزی روزنامہ ڈان نے آج ہی اپنے اداریے میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف ایک سابق وزیر اعظم کو عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے اور ان کے خلاف ہونے والی نا انصافی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہو رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے سابق وزیر اعظم کو جیل میں بند کر کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اخبار نے پوچھا ہے کہ ’کیا ملک کا عدالتی نظام انہیں بھی چند سال بعد ‘ انصاف ’فراہم کرے گا‘ ؟ پھر قیاس کیا گیا ہے کہ اگر ماضی کو مثال سمجھا جائے تو اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔
حساب لینے کے بارے میں نواز شریف کا اشارہ اگر عمران خان کی طرف ہے، پھر تو یہ حساب پوری قوت سے لیا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف نواز شریف خود ہی عمران خان کو ’زبردستی مسلط کیا ہوا‘ کردار بھی بتاتے ہیں۔ ان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ 2013 میں انتخابات جیتنے کے بعد ان کی حکومت مثبت پیش قدمی کر رہی تھی اور معیشت اس تیزی سے ترقی کر رہی تھی کہ اگر ان کی حکومت کے خلاف سازشیں نہ کی جاتیں تو پاکستان اس وقت دنیا کی طاقت ور ترین معیشت کے حامل ممالک میں شامل ہو چکا ہوتا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں منظر نامہ سے ہٹانے کے لیے ایک اناڑی کو ملک پر مسلط کر دیا گیا۔ یوں صرف نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) ہی کو سزا نہیں دی گئی بلکہ معاشی زوال کی صورت میں ملک کے پچیس کروڑ عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ یہ سب کہنے کے باوجود نواز شریف کی تنقید کا محور عمران خان ہی ہوتے ہیں۔ وہ ان کے خلاف مقدمات کو بالواسطہ طور سے درست قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ توشہ خانہ کیس ہو، القادر ریفرنس ہو یا سائفر کا معاملہ، ان پر ابھی ابتدائی عدالتی کارروائی ہو رہی ہے۔ اگر ٹرائل کورٹس انہیں سزا بھی دیتی ہیں تو بھی پاکستانی قانون کے مطابق عمران خان کو اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکے گا جب تک ہائی کورٹ اور حتمی طور سے سپریم کورٹ ان معاملات میں کوئی حکم جاری نہ کردے۔
نواز شریف چونکہ خود ان سارے مراحل سے گزر چکے ہیں، اس لیے انہیں عمران خان کی مشکلات کو مکافات عمل کہنے کی بجائے، اسے ملکی عدالتی نظام کی خرابی سمجھنا چاہیے تھا اور مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ سیاسی لیڈروں سے اختلاف کی سزا میں انہیں عدالتوں سے جعلی مقدموں میں سزائیں دلوانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اس وقت نواز شریف ہیں جو چھے سات سال بعد اپنے خلاف عدالتی فیصلوں سے نجات حاصل کر رہے ہیں حالانکہ اس دوران انہوں نے طبی عذر کی بنا پر جیل کی قید سے نجات بھی حاصل کی اور کئی سال تک عدالتی زبان میں ملکی نظام انصاف کے مفرور بھی رہے۔ کسی بھی سنجیدہ مبصر کے لیے برطانیہ میں نواز شریف کے طویل قیام کو غلط کہنا مناسب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ پاکستان میں ایسے حالات پیدا کر دیے گئے تھے کہ انہیں جیل میں اذیت ناک ماحول میں قید رکھا جاتا جو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہ ہوتا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت عمران خان یا تحریک انصاف کے لیڈروں کو بالکل ویسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔ لیکن نواز شریف کو اس میں کچھ ’غلط‘ دکھائی نہیں دیتا۔ تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانا والا سلوک نواز شریف کے خیال میں ’حساب لینے‘ کا معاملہ ہے؟
اگر اسے حساب لینا کہتے ہیں تو نواز شریف کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ ملک کی مختصر تاریخ میں صرف سیاست دان ہی کیوں چور اچکے ثابت ہوتے ہیں، انہیں ہی کیوں سزاؤں اور نا اہلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو کی مثال سامنے رکھی جائے تو پھانسی کے پھندے پر بھی جھولنا پڑتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ سیاسی کرداروں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کا حساب نہیں لیا جاسکتا۔ نہ ان سے سوال کیا جاسکتا ہے اور نہ یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کس اختیار کے تحت ملکی سیاست کے ساتھ کھلواڑ کیا اور آئین کو مذاق بنا دیا؟ یادش بخیر نواز شریف نے جب ’مجھے کیوں نکالا‘ کا سوال نیا نیا تلاش کیا تھا، تو اس وقت وہ انہی کرداروں کو کھوجنا چاہتے تھے جو پس پردہ رہ کر ملکی سیاست میں ماورائے آئین مداخلت کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی خواہش میں نواز شریف ان کرداروں کے احتساب کی بات کھل کر نہیں کرتے۔ پھر بھی ان کی باتوں میں بین السطور یہ خواہش پڑھی اور سمجھی جا سکتی ہے کہ وہ درحقیقت ان عسکری و عدالتی ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں، جو ملکی سیاست میں سب خرابیوں کا سبب بنے ہیں۔ اسی وجہ سے ملکی معیشت مسلسل زوال پذیر ہوئی ہے اور دنیا بھر میں ملک کی سفارتی ساکھ کو ناقابل بیان نقصان پہنچا۔
نواز شریف کے بیانات کے ظاہر اور درپردہ پیغام کو سامنے رکھا جائے تو اس کا ایک ہی مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر انہیں ایک بار پھر اختیار مل گیا تو وہ اس اختیار کو ’حتمی و اٹل‘ سمجھتے ہوئے ایک بار پھر اپنی حکومت کے خلاف ’سازش‘ کرنے والے جرنیلوں اور ججوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیں گے۔ اور اگر حالات پر اسرار کا موجودہ پردہ یوں ہی پڑا رہا اور سول ملٹری تعلقات کے بارے میں سیاسی مکالمہ کے ذریعے نئے خد خال متعین کروانے کا اقدام نہ کیا گیا (اس حوالے سے کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی قسم کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں لائی) تو باقاعدہ منتخب ہو کر آنے والا وزیر اعظم کیسا ہی پرعزم ہو، اس کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو نواز شریف کے ساتھ پہلے بھی تین بار ہو چکا ہے۔ اور اب عمران خان اسی سلوک کے نتیجے میں عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔
اگر یہ بات ملکی سیاست اور طاقت کے توازن کی معمولی فہم رکھنے والے لوگوں کو سمجھ آ سکتی ہے تو ان حلقوں کو بھی اس کا ادراک ہو گا جو ابھی تک ملک میں سیاسی بازی جمانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ نواز شریف کے بارے میں ’نیا لاڈلا‘ کا شوشہ تو مارکیٹ کیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس بار نواز شریف پوری سعادت مندی سے حکومت میں اپنا وقت پورا کر لیں گے۔ اگر اس اندیشے کو محسوس کیا جا رہا ہے اور اگر طاقت کے توازن میں ابھی تک پلڑا ایک ہی طرف جھکا ہوا ہے تو نواز شریف کو بلند بانگ سیاسی دعوے کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ یوں بھی انہیں بری کیا گیا ہے لیکن تاحیات نا اہلی کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ خاص طور سے اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے جہاں یہ اصولی فیصلہ ہو گا کہ تاحیات نا اہلی کے بارے میں سپریم کورٹ کا حکم باقی رہے گا یا انتخابی ایکٹ میں اس مدت کو پانچ سال تک محدود کرنے کی ترمیم کو قبول کیا جائے گا۔
ان حالات میں ایک سچے سیاسی لیڈر کے طور پر نواز شریف کے لیے ضروری تھا کہ وہ اقتدار تک پہنچنے کی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے طاقت کی ان راہداریوں کے راستے مسدود کرتے جن کے بارے میں بدستور یہ تاثر موجود ہے کہ انتخابی نتائج ہوں یا حکومت سازی، اس کا فیصلہ بیلٹ بکس کی بجائے کہیں اور کیا جاتا ہے۔ اور پھر انتخابات، ووٹ اور انتخابی عمل کو ان فیصلوں کو نافذ کروانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمیشہ اچھا گمان کرنا چاہیے۔ تو موجودہ سیاسی حالات میں امید تو یہی کرنی چاہیے کہ فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات شفاف ہوں گے اور عوام کو غیر جانبدارانہ اور محفوظ ماحول میں اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے گا۔ اس رائے کے نتیجے میں کوئی بھی پارٹی یا لیڈر کامیابی حاصل کرے، اسے مروجہ آئینی طریقے کے مطابق اقتدار منتقل کر دیا جائے گا۔
تاہم اس خوش گمانی پر یقین کرنے سے پہلے سیاسی لیڈروں کے طرز عمل کا مشاہدہ بھی ضروری ہو گا جو کسی بھی طرح انتخابی عمل کو مکمل شفاف نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ ہر پارٹی کی خواہش ہے کہ انتخابات اس کی ضرورت کے مطابق ’انصاف پر مبنی‘ ہونے چاہئیں۔ شفاف انتخابات کے لیے اداروں کے ساتھ جس اعتماد سازی کی ضرورت تھی، اس پر کام نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سانحہ 9 مئی نے یہ موقع فراہم کیا تھا۔ ملکی حکومت اور سیاسی پارٹیاں سر جوڑ کر بیٹھتیں اور اس روز ہونے والے واقعات پر فوج کے ساتھ مکالمہ کر کے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جاتا کہ ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے عمل میں فوج ملوث نہ ہوتی۔ ملکی عدلیہ کو اعتماد میں لیا جاتا اور قانون سازی کے علاوہ اس اچھوتے چیلنج سے نمٹنے کے لئے موثر عدالتی طریقہ کار اختیار کیا جاتا۔
البتہ اس وقت ملک میں شہباز شریف وزیر اعظم تھے جو چیف جسٹس کے ساتھ تنازعہ طے کرنے میں تو سرگرم تھے لیکن عسکری قیادت کی پریشانیوں پر غور کرنے کی بجائے شہریوں کو فوجی عدالتوں کے حوالے کر کے اور سیاسی مخالفین کی پریشان کرنے ہی کو اپنی سیاسی اننگ کی کامیابی سمجھتے تھے۔ بدقسمتی سے ملکی حکومت اور سیاسی پارٹیاں سانحہ 9 مئی سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب نہیں ہوئیں اور میدان عسکری قیادت کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ ملکی عوام ایک طویل عرصہ تک اس ناکامی کی قیمت ادا کریں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

