اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں دودھ جیسی سفید پردوں پر سیاہ ہنس کی مانند پتلیاں ادھر سے ادھر تیرتی تھیں۔۔۔۔وہ چپ بھی رہتی تو آنکھیں باتیں کرتی تھیں ۔۔۔روشن چمکدار آنکھوں میں سیاہ کاجل کے ڈورے سفید کاغذ پر لگاۓ حاشیے کی مانند آنکھوں کی ہئيت اور کیفیت دونوں کو خوبصورت بناتے تھے۔۔۔کوئی اور سنگھار کرے نہ کرے کاجل آنکھوں سے جدا نہیں ہوتا تھا۔۔۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب دل اور سر پر اماں ابا کا ہاتھ ہوتا تھا۔۔۔اماں نے ہی تو ”سنت ہے آنکھیں بڑی لگتی ہیں بھلی لگتی ہیں“ کہہ کر ان کو سجایا تھا اور اللہ سلامت رکھے ابا کو جن کی محبت ملاوٹ سے پاک اور احساس سے بھرپور تھی کہ آنکھیں کاجل سمیت شرارتوں سے بھرپور رہیں۔۔۔لیکن پھر زندگی نے اچانک رخ بدلا۔۔۔۔کالے بادلوں نے روشن دن کو ڈھانپ لیا اور خوب برسے۔۔۔اتنا برسے کہ سب رنگ بہہ گئے۔۔۔اس کے ابا اچانک دنیا سے کیا گئے۔۔وہ اور اماں دو ہو کر بھی اکیلے رہ گئے۔۔۔ابا کی روح کو اطمینان رہے اس کو بے جوڑ رشتے کے بوجھ سے باندھ کر رخصت کر دیا گيا۔۔۔اس کے ناتواں ذہن پر یکے بعد دیگرے ایسے افتاد پڑے کہ آنسوؤ ں کی لڑياں بھی ٹوٹ ٹوٹ گئيں ۔۔۔وہ کاجل جو اپنی جگہ سے ہلتا نہ تھا اب سیل رواں کے باعث ٹھہرتا نہیں تھا۔۔۔۔
19 سال کی یہ پیاری سی لڑکی ہمارے پاس آئی تو اس کی خوبصورت آنکھوں اور ان کے کناروں سے مٹے مٹے اور باہر کی جانب ذرا بھر کو پھیلے کاجل نے دل کو عجیب انداز میں جھنجھوڑا۔۔۔۔اس کی کہانی جانی تو آنکھ میں کچھ چلا گيا ہے کا بہانہ کر کے آنسو صاف کیا اور شکر بھی کہ ذاتی وجوہات کے باعث میں خود ان سیاہیوں سے پرہیز کرتی ہوں۔۔۔کمسن لڑکی اپنی کم عمری اور مناسب خيال کی کمی کی وجہ سے ساتویں ماہ میں اپنے بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے کھو چکی ہے۔۔۔اور اس کے سینے میں ان غموں کا بوجھ اتنا زيادہ تھا کہ اس بوجھ سے سینا پیپ والے پانی سے بھر چکا تھا۔۔۔۔کچھ کوششیں ہیں کچھ دعائيں ہیں۔۔۔اللہ سب کے کاجل ان کی آنکھوں میں ٹھہرے رہیں اور کسی کاجل کو زمانے کی سختی مٹا نہ سکے۔۔۔کوئی غم ان کو آنسو بنا کر بہا نہ سکے ۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

