ملتان:نامور سرائیکی شاعر،ناول نگار اوردانشورملک اقبال حسن بھپلا کو ہم سے بچھڑے 15برس بیت گئے۔وہ یکم مئی 1943ءکو ملتان میں پیدا ہوئے۔ان کے آبا واجداد کئی نسلوں سے دریائے چناب کے کنارے آباد تھے۔
اقبال حسن بھپلاایک سرگرم سیاسی و سماجی شخصیت کے طورپربھی جانے جاتے تھے۔انہوں نے ضیادور میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا۔دو بارکونسلر اور دومرتبہ ہی یونین کونسل قاسم بیلہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔1990کے عشرے میں ان کے جواں سال بیٹے شوکت حسن کا انتقال ہوا تو اقبال حسن بھپلا نے سیاسی و سماجی زندگی کو خیرباد کہہ کر شعر وادب کے ساتھ وابستگی اختیارکرلی۔وہ اس دوران شدید بیماربھی رہے۔
اقبال حسن بھپلانے چناب کے کنارے ایک جھوک آباد کی اور ملتان میں کشتیوں پر مشاعرے کی روایت ڈالی۔جھوک بھپلا میں کئی ادبی و ثقافتی تقریبات منعقد ہوئیں۔اقبال حسن بھپلانے صرف شاعری ہی نہیں کی اردو وسرائیکی ناول ،افسانے اور نثرپارے بھی تحریر کیے۔نظم ونثر میں ان کی کتابوں کی تعداد 12ہے۔
30مارچ2009کو وہ انتقال کرگئے۔انہیں ان کے آبائی علاقے محمد پورگھوٹہ میں سپردخاک کیاگیا۔
فیس بک کمینٹ

