اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس اور لبنان پر اسرائیلی بمباری کا آغاز تقریباً ایک ہی وقت میں ہؤا ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں سے اب تک 560 افراد جاں بحق اور دو ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ ایک سال میں غزہ میں یک طرفہ جنگ جوئی اور پچیس لاکھ نہتے لوگوں کے خلاف جارحیت کا کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اب تک غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے لیکن وہ اب تک اپنے ایک سو کے لگ بھگ باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہانہیں کروا سکا۔ اس کے باوجود بے بس شہریوں کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی اور دنیا بھر کی مظلومیت آمنے سامنے موجود ہے۔ اسرائیل کا جب دل کرتا ہے وہ فضائی حملوں، زمینی کارروائیوں یا میزائل پھینک کر چند فلسطینیوں کی جان لے لیتا ہے اور اعداد و شمار میں اضافہ نوٹ کرلیا جاتا ہے۔ لگ بھگ ایک سال کے دوران صدر بائیڈن اور سیکرٹری جنرل گوتریس بعینہ ان ہی خیالات پر مبنی بیانات جاری کرتے رہے ہیں جن کا اظہار آج جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان بیانات کے متن اور مشرق وسطی میں اسرائیلی سرکشی سے جو تصویر بنتی ہے، اس سے صرف یہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کچھ بھی سوچتی یا کرتی رہے، اسرائیل جنگی کارروائیوں سے باز آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
اسرائیل نے غزہ میں نام نہاد مزاحمت یا حماس کے ’دہشت گردوں کے خاتمہ‘ کے بعد اب لبنان میں حزب اللہ کو کچلنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یکے بعد دیگرے متعدد بیانات میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو ’ناکارہ و غیر مؤثر‘ بنانے تک حملوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ساتھ ملنے والے اپنے شمالی سرحدی علاقوں سے بے گھر ہونے والے 60 ہزار کے لگ بھگ شہریوں کو واپس پر امن ماحول میں اپنے گھروں میں آباد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمانوں نے واضح کیا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کیے بغیر حزب اللہ کو سنبھلنے اور اپنی طاقت مجتمع کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اسرائیل کی تاریخ اور گزشتہ ایک سال کے دوران میں غزہ کے خلاف اس کی جنگ جوئی کے تجربہ کو مثال بنایاجائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل یہ مقصد ضرور حاصل کرے گا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حزب اللہ اسرائیلی جنگی کارروائی روکنے اور اس کا جواب دینے کی کسی بہتر صلاحیت کا مظاہرہ کرپائے گا تو اس کا جواب اثبات میں دینا ممکن نہیں ہے۔
موجودہ منظر نامہ میں اسرائیل کی جنگ جنوبی لبنان کے علاقوں میں حزب اللہ کے جنگی نیٹ ورک، اسلحہ و میزائل کے ذخائر اور اس کے متحرک عسکری لیڈروں کو ٹھکانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر اور غزہ کے ’چیلنج‘ سے مکمل طور سے نمٹنے کے بعد لبنان کا رخ کیا ہے۔ گزشتہ سال 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس نے حملے کیے تھے۔ ان میں 1200 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور اڑھائی سو کے لگ بھگ شہری یرغمال بنالیے گئے تھے۔ اس کے فوری بعد اسرائیل نے حماس کا صفایا کرنے کے مقصد سے غزہ کا گھیراؤ کیا اور حملوں کا آغاز کیا گیا۔ گیارہ ماہ کی جنگ میں غزہ کی تمام عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، ہزاروں معلوم ہلاکتوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ عمارتوں کے ملبہ میں کتنے لوگ دب کر جاں بحق ہوئے۔ غزہ کے شہریوں کو بنیادی ضرورت کی اشیا صرف اسرائیل کی مرضی کے مطابق فراہم کی جاسکتی ہیں۔ امریکی دباؤ، اقوام متحدہ کی پکار اور قطر و دیگر ممالک کی طرف سے کی جانے والی سفارتی کوششیں بار آور نہیں ہوئیں۔ اس دوران میں چند روز کی جنگ بندی کا معاہدہ ہؤا تھا جس میں اسرائیل نے اپنے نصف یرغمالی رہا کروا لیے لیکن اس کے بعد سے اسرائیل کے اندر جنگ کے خلاف ابھرنے والی تحریک کے باوجود نیتن یاہو کی حکومت جنگ بندی کے کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوئے۔ امریکی طاقت یا اقوام متحدہ کی سفارتی اتھارٹی اسرائیلی حکومت کی منہ زور حکمت عملی کو تبدیل کروانے میں ناکام رہی ہے۔
یہ اقوام متحدہ یا اقوام عالم کی ناکامی تو ہے کہ وہ اسرائیل کی جنگ جوئی کو جارحیت اور انسانیت دشمنی کہنے کے باوجود ، اسے رکوانے میں کامیاب نہیں ہوئیں لیکن دیکھا جائے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ جنگ اسرائیل تن تنہا نہیں لڑ رہا بلکہ امریکہ اپنی پوری عسکری و سفارتی طاقت کے ہمراہ اس کی پشت پر ہے۔ غزہ میں اسرائیل کے مظالم پر آنسو بہانے والے صدر جو بائیڈن بار بار اصرار کرچکے ہیں کہ اسرائیل کی سالمیت پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔ اسی وعدے کو پورا کرنے کے لیے اور اسرائیل کو محفوظ رکھنے کے مقصد سے امریکی بحری بیڑا علاقے میں موجود ہےاور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر فضائیہ کو ہر وقت چوکس رکھا گیا ہے۔ اسی لیے اپریل میں ایران نے جب شام میں اسرائیل کے ہاتھوں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کاانتقام لینے کے لیے سینکڑوں ڈرون و میزائل پھینکے تو امریکی فضائیہ نے نیٹو ممالک اور اردن کے ساتھ مل کر انہیں ناکارہ بنانے کا ’فریضہ‘ انجام دیا۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک مسلسل اسرائیل کو جنگی ساز و سامان اور اسلحہ فراہم کررہے ہیں حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ اسرائیل یہ جنگی آلات غزہ کے بعد اب لبنان کے خلاف جنگ جوئی میں استعمال کررہا ہے۔ لیکن صدر بائیڈن جیسے لیڈر اتنی ہی ڈھٹائی سے جنگ رکوانے اور اس کے سفارتی حل کی بات بھی کرتے ہیں۔
یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ حماس ہو، حزب اللہ ہو یا ایران، اسرائیل کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں صرف اسرائیل کی جنگی طاقت کا سامنا نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کے مد مقابل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ اس مسئلہ کا کوئی سفارتی حل تلاش ہوسکتا ہے اور نہ ہی اسرائیل کسی قسم کی نرمی دکھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دنیا میں طاقت کی تقسیم کی موجودہ صورت حال میں کوئی ملک بھی امریکہ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے ۔ ان بڑی طاقتوں میں روس اور چین خاص طور سے شامل ہیں۔ روس کو تو یوں بھی یوکرین کی جنگ میں پھنسا کر کسی بھی عالمی کردار کے لئے ناکارہ کردیا گیا ہے۔ چین کا سارا فوکس اپنی معیشت کو مستحکم کرنے پر ہے۔ اسی لیے وہ کسی مسلح تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ حتی کہ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دینے اور اس پر قبضہ کرلینے کی قدرت رکھنے کے باوجود وہ ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتا جس میں اسے براہ راست امریکہ کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا پڑے۔ جب تک عالمی طاقت کے توازن کی یہ صورت موجود رہے گی، چین کسی عالمی تنازعہ میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گا۔
چین و روس کے علاوہ تمام عرب ممالک کو بھی یہ بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ آگئی ہے۔ اسرائیل کے بیشتر ہمسایہ ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرکے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں اور غزہ کے خلاف سال بھر کی جنگ جوئی کے باووجود ان تعلقات پر آنچ نہیں آنے دی گئی۔ گزشتہ پون صدی کے دوران عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جوئی میں ہمیشہ شکست کھائی اور وسیع علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ بھی ہوگیا۔ اب انہیں مقبوضہ علاقے قرار دے کر اقوام متحدہ کے اسٹیج سے اسرائیلی جارحیت پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں لیکن کسی عرب ملک میں اسرائیل کو عسکری طور سے چیلنج کرنے کا حوصلہ و صلاحیت نہیں ہے۔ اس لیے اسرائیل اگر غزہ کی ساری آبادی کو سمندر برد بھی کردے تو بھی یہ ممالک کوئی عملی کارروائی نہیں کریں گے۔ کیوں کہ انہوں نے اسرائیل کے توسط سے امریکی کے ساتھ زور آزمائی کا نتیجہ بھگتا ہے اور اب وہ مزید تباہی پر آمادہ نہیں ہیں۔اسی لیے ایران میں کٹر مذہبی حکومت نے امریکہ کو شیطان کبیر قرار دے کر مشرق وسطی ٰ میں اپنے جنگ جو پراکسی گروہوں کا جال بچھایا ہے۔ ان میں حماس و حزب اللہ کے علاوہ شام ، یمن اور عراق میں متحر ک عسکری گروہ موجود ہیں۔ ایسے میں آسانی سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ جو کام تمام عرب ممالک مل کر نہیں کرسکے ،وہ اسرائل سے فاصلے پر بیٹھا ایران کیوں کر محض اپنے پراکسی گروہوں کے ذریعے مکمل کرسکتا ہے۔ ایران کو بھی بخوبی معلوم ہے کہ وہ اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور حماس، حزب اللہ یادیگر گروہوں کے ذریعے جو افراتفری پیدا کی جاتی ہے، اس سے عام شہریوں کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔ البتہ ایران کا خیال ہے کہ اس حکمت عملی سے وہ عرب عوام میں اپنے حکمرانوں کے خلاف نفرت و بے چینی پیدا کرکے مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اگر ہزاروں لوگوں کی جانیں قربان ہوتی ہیں یا املاک کو شدید نقصان پہنچتا ہے یا لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں تو ایرانی لیڈروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسرائیل کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن بناکر پیش کرنے سے ایران اور اس کے حمایت یافتہ عسکری گروہ اپنے سیاسی وسفارتی مفادات کے لیے ماحول پیدا کرتے ہیں۔ ان میں کوئی اسرائیل کو گزند نہیں پہنچانا چاہتا کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس اس کی صلاحیت نہیں ہے۔
دریں حالات حماس کے بعد کیا حزب اللہ کی قیادت کو یہ سمجھنا نہیں چاہئے کہ اسرائیل کو عسکری طور سے چیلنج کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ جنگ جویانہ نعرے بازی کے ذریعے اپنے لوگوں کو مروانے اور غزہ کے بعد اب جنوبی لبنان میں اسرائیلی تباہی کو دعوت دینے سے اسرائیل کی بجائے غریب عرب آبادیاں متاثر ہوں گی۔ اس جنگ جوئی سے ہونے والے نقصان کی قیمت ان علاقوں میں آباد عام شہری کئی نسلوں تک چکانے پر مجبور ہوں گے۔
حزب اللہ کو مکمل تباہی سے بچنے کے لیے ایران کے سفارتی مقاصد کے لیے اسرائیل کوللکارنے کی بجائے لبنان کی حکومت کے ذریعے امن پر آمادگی ظ اہر کرنی چاہئے۔ جنوبی لبنان کو اسرائیلی قبضے یا مکمل تباہی سے بچانے کا یہی واحد ہوشمندانہ راستہ باقی بچا ہے۔ ورنہ جو بائیڈن اور انتونیو گوتریس کے جذباتی بیانات لبنان میں اسرائیلی پیش رفت کو روک نہیں پائیں گے۔
(بشکریہ : کاروان ۔۔ناروے )
فیس بک کمینٹ

