جب حکمران خاردار چار دیواری کے پیچھے اپنی ذات کے خول میں بند ہوں تب بھی ہم ناخوش کہ انھیں تو کسی کی پرواہ ہی نہیں۔ جب حکمران عوامی انداز اختیار کر کے گھل مل جائیں اور ایفیشنسیاں دکھائیں تب بھی ہم ایک حاسدانہ ناخوشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ دیکھو دیکھو یہ وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلی، وزیر اور منتخب رکن کیسا نرگسیت کا مارا ہے۔ فوٹو کھنچوانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔ باتیں زیادہ، کام کم اور کام بھی اس نیت سے کہ اس کا کتنا سیاسی یا ذاتی فائدہ پہنچے گا۔
ہم ناشکروں کو بس بتنگڑ بنانے کی مصروفیت چاہیے۔
مثلاً میرے محلے میں دو مین ہولز کے آہنی ڈھکن بہت عرصہ پہلے نشہ بازوں نے چرا لیے۔ بچوں کی سلامتی کے لیے اہلِ محلہ نے ان مین ہولز میں جھاڑیاں لگا دیں تاکہ دور سے نظر آئیں۔ پھر ایک خدا ترس کاؤنسلر نے بھاگ دوڑ کر کے ان مین ہولز پر سیمنٹ کے ڈھکن لگوا دیے اور ان ڈھکنوں کے افتتاح کا فیتہ کاٹ کر تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی۔
وہی لوگ جو پہلے کھلے مین ہولز کی مذمت کر رہے تھے، اب اس فیتے والی افتتاحی تصویر کو چھچھور پن قرار دے کے غریب کاؤنسلر کے پیچھے پڑ گئے۔ بے شک انسان ناشکرا ہے۔
اب اسی قماش کے سوشل میڈیائی حکومتِ پنجاب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ جب پنجاب سپیڈ کے بانی شہباز شریف وزیرِ اعلی تھے تو بھی اعتراض تھا کہ بارش رُکتے ہی یہ بندہ ربڑ کے لمبے بوٹ پہن کے رُکے ہوئے پانی میں کیوں چلنا شروع کر دیتا ہے۔ یا کسی ہسپتال اور سکول کے اچانک ہنگامی دورے کی خبر فوٹو گرافروں کو پیشگی کیسے مل جاتی ہے؟
اور پنجاب کے ہر موڑ پر خادمِ اعلی اول (بڑے میاں صاحب) اور دوم کے بڑے بڑے ہورڈنگز کیوں لگے ہوئے ہیں؟ رمضان پیکج کے آٹا تھیلوں پر حکومتِ پنجاب کے سرکاری ٹھپے کے ساتھ نواز شریف کیوں موجود ہے؟ ہر نئے طبی مرکز کا نام شریف میڈیکل کمپلیکس یا ہسپتال یا کلینک کیوں ہے؟ سرکاری پیسے کی مٹھائی پر دادا جی کی فاتحہ آخر کیوں؟
ایسے ایسے ناقابلِ تحریر گھٹیا گھٹیا تبصرے ان گناہ گار کانوں نے سنے کہ اللہ معافی۔ زیادہ تر تبصرے باز وہ ویہلے ہیں جن کی اپنے گھروں میں اتنی ویلیو ہے کہ سارا سارا دن باہر تھڑے پر یا نائی کی دکان پر بیٹھ کے ہر فارغ سے باتیں کر کے اس انتظار میں ٹائم پاس کرتے ہیں کہ رات کو جب سب سو جائیں تب دبے پاؤں گھر میں داخل ہوں۔
پہلے کہتے تھے کہ حکمرانوں اور عوام میں بہت فاصلہ ہے۔ اب کہتے ہیں کہ اتنی قربت کیوں ہے کہ مسجد کی دیوار، جانوروں کے علاج کیمپ کے تنبو، خشک راشن کے کارٹن، ہر سڑک کے موڑ، پل، چوراہے، ہوٹل، کھمبے، درخت، جنگلے، ٹھیلے، ڈمپر اور بس سمیت ہر ساکت و غیر ساکت شے پر وزیرِ اعلی کی مسکراتی تصویر چسپاں ہے۔
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
(جون ایلیا)
شکر کیجیے کہ اب بھی اس ملک میں اتنی آزادی ہے کہ آپ کو جو بات اچھی نہیں لگ رہی وہ آپ برملا کہہ پا رہے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

