محبت کیا ہوتی ہے؟ یہ سوال انسان اپنی عمر کے ہر حصے میں خود سے یا کسی دوسرے سے ضرور کرتا ہے۔ یہ سوال وہ شخص بھی پوچھ سکتا ہے جو تھڑے پر بیٹھا پان چباتا ایک ان پڑھ آدمی ہو، اور وہ بھی جو فلسفے کی باریکیوں میں زندگی گزار دیتا ہو۔ اس کا جواب ہر انسان کے پاس مختلف ہوتا ہے، اس کے شعور، ذہنی یا طبعی عمر، اور حالات و واقعات کے مطابق۔
محبت کسی خوبصورت خاتون کے ساتھ رومانوی تعلق کے قائم ہونے کو کہتے ہیں، اور اگر آپ خاتون ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کو کسی مرد سے محبت ہو سکتی ہے۔ میں جس معاشرے میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں، وہاں جنسِ مخالف سے رومانوی تعلق ہی ”نارمل“ سمجھا جاتا ہے۔ جی ہاں، جائز نہیں، صرف نارمل۔ کیونکہ محبت کے ساتھ ہی ایک دوسرا جذبہ فوراً جنم لیتا ہے : احساسِ گناہ یا احساسِ جرم۔
لتا منگیشکر کے گانے سنیں تو ایسا لگتا ہے کہ محبت ایک ایسا لطیف، خوبصورت اور دائمی احساس ہے جو جنت کی زندگی کی طرح ابدی ہے۔ جس میں کوئی مشکل نہیں، کوئی غمِ روزگار نہیں، نہ دنیا کی طعنہ زنی، نہ گالم گلوچ، نہ مار پیٹ، نہ قتل و غارت، نہ ہجر کا مستقل جلانا، نہ صحرا جیسا کبھی نہ ختم ہونے والا سفرِ انتظار، نہ زندگی کی آخری سانسیں لیتے شخص جیسی بے بسی۔ لیکن جو منظرکشی لتا جی کرتی ہیں، وہ پرفریب ہے ؛ اور جذبات جیسی بے معنی چیز رکھنے والا انسان ہمیشہ اس فریب میں آ جاتا ہے۔
محبت عمر نہیں دیکھتی۔ اور یہی اس کا سب سے بڑا ظلم ہے۔
ہو سکتا ہے انسان اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر ہو جہاں وہ اتنی تباہی افورڈ ہی نہ کر سکتا ہو۔
ہو سکتا ہے اس پر کچھ ایسی ذمہ داریاں ہوں جن سے عہدہ برا ہونا ممکن نہ رہے۔
ہو سکتا ہے وہ اپنے بوڑھے والدین کی امیدوں کا مرکز ہو جو اس سے ٹوٹ جائیں۔
ہو سکتا ہے اسے کئی سال مزید جینا ہو اور محبت اس کی عمر کم کر کے کسی بھی لمحے ختم کر دے۔
محبت کیا ہوتی ہے؟ بہت سے لوگ اس سوال کو ہی بے معنی سمجھتے ہیں۔ غیر حساس دنیا میں محبت کو ایک ”فالتو کام“ کہا جاتا ہے، جسے صرف بے کار لوگ کرتے ہیں۔ محبت کرنے والے غیرسنجیدہ، جذباتی یا مزاحیہ انسان سمجھے جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت شاہ رخ خان کی فلموں میں ہی اچھی لگتی ہے، حقیقت میں تین گھنٹے سے زیادہ اسے سچ سمجھنا ناسمجھی ہے۔
”میاں! چار پیسے کمانے کے لائق ہو جاؤ، پھر کر لینا محبت۔
میاں! بیوی بچے سنبھالو، کن چکروں میں پڑ گئے؟
میاں! اپنی عمر دیکھو، آپ کے تو بچے جوان ہو گئے۔ کیا اس عمر میں محبت کرنا کسی معقول انسان کو زیب دیتا ہے؟ ”
محبت انسان کو اتنا کمزور، لاغر، لاچار، بیمار اور بے ضرر کر دیتی ہے کہ جس کا جب جی چاہے، اس پر چڑھ دوڑے۔
یہ دنیا جنگل ہے۔ اور جنگل میں کمزور ہمیشہ طاقتور کی ہوس کا شکار ہوتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی طاقت اس کا ظاہر اور اس کا پیسہ ہے۔ یہی پیسہ اسے مغرور بناتا ہے، اور غرور سے لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں۔
کچھ امیر لوگ روحانیت کا اچار بیچتے پھرتے ہیں، مگر سچ یہی ہے کہ اگر وہ جنگل میں زندہ ہیں تو اپنی طاقت کے زور پر ہیں۔ وہ محبت کر بیٹھیں تو ان کی روحانیت جھاگ کی طرح بیٹھ جائے، اور ساری مذہبی تنتناہٹ خاک میں مل جائے۔
بڑے بوڑھے تو یہی کہہ گئے ہیں کہ اس موذی جذبے سے بچ کر رہو اور سولہ آنے ٹھیک کہہ گئے ہیں۔ یہ جذبہ کسی مناسب عمر، جسامت، نظریے یا فلسفے کا محتاج نہیں۔ یہ کسی پر بھی اچانک، کسی ناگہانی آفت کی طرح نازل ہو سکتا ہے۔ اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین نہیں۔ اور اس کی کوئی حتمی تعریف نہیں۔
محبت جب ہوتی ہے تو اپنی کہانی خود لکھتی ہے۔ ہمیں ساری محبت کی کہانیاں ایک جیسی لگتی ہیں، لیکن جسے محبت ہوتی ہے، اس کے لیے وہ بالکل نئی فلم ہوتی ہے۔ ایسی فلم جو نہ اس نے پہلے کبھی دیکھی ہوتی ہے اور نہ اس کے اردگرد کے لوگوں نے۔ یہ فلم محظوظ نہیں کرتی، دن میں تارے دکھا دیتی ہے۔ بت پرست کو مسلمان کر دیتی ہے، اور زاہد کو مے خوار بنا دیتی ہے۔
لہٰذا اس تحریر کو محض ایک روداد سمجھیں۔ اس سے کوئی سبق حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ہاں، ایک نتیجہ ضرور نکلتا ہے : محبت اچھی چیز نہیں ہے۔

