"’ویکسین آٹزم کا سبب نہیں بنتیں‘ کا دعویٰ شواہد پر مبنی نہیں ہے کیونکہ مطالعات نے اس امکان کو خارج نہیں کیا کہ نوزائیدہ بچوں کو دی جانے والی ویکسین آٹزم کا باعث بنتی ہوں۔ اس تعلق کی تائید کرنے والے مطالعات کو صحت کے حکام نے نظرانداز کر دیا ہے۔”
یہ حیران کن بیان چند دن پہلے امریکا کے "سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن” یا "امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے مراکز” کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہوا۔ اس بیان کے جواب میں فوراً ہی "امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس” (امریکی اکیڈمی برائے اطفال) نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی۔ اے اے پی کی صدر ڈاکٹر سوزن جے کریسلی نے کہا کہ "یہ تبدیلی (جو سی ڈی سی کی ویب سائٹ پر کی گئی ہے) انتہائی تشویش ناک ہے۔ مختلف ممالک میں 56 لاکھ سے زائد افراد پر کی جانے والی دہائیوں کی تحقیق واضح طور پر یہ ثابت کرتی ہے کہ ویکسین اور آٹزم کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم سی ڈی سی پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے غلط دعووں کو فروغ دینا بند کرے جو معمول کی بچپن کی ویکسینیشن پر بے بنیاد شکوک پیدا کرتے ہیں۔ ویکسین وہ بہترین ذریعہ ہیں جو بچوں کی صحت کا تحفظ کرتی ہیں۔”
سی ڈی سی کے اس سرکاری بیان نے دنیا بھر کے طبی سائنس دانوں، بالخصوص ماہرینِ امراضِ اطفال کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ویکسین کی ایجاد نے بیسویں صدی میں بہت سے متعدی امراض کے خاتمے اور روک تھام میں ناقابلِ یقین کردار ادا کیا۔ انہی ویکسینز کی بدولت 1980 میں چیچک (اسمال پوکس) کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا اور یہ مہلک بیماری اب انسانوں میں موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پولیو جیسی جان لیوا بیماری بھی دنیا کے بیشتر ممالک سے ختم کر دی گئی ہے اور اب یہ صرف پاکستان اور افغانستان میں محدود ہے۔
بہت سے دوسرے متعدی امراض جیسے خسرہ، کالی کھانسی، خناق، تشنج، تپِ دق، ہیپاٹائٹس بی، نمونیا، گردن توڑ بخار، اور روبیلا بھی ویکسینیشن کے ذریعے مؤثر طور پر کنٹرول کیے گئے ہیں۔ یہ طبی سائنس کا عظیم ترین کارنامہ اور شعبۂ صحت کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب ہے۔
آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ایک عصبی نشوونما کی حالت ہے جو بچے کے سماجی رابطے، زبان و مواصلات، اور رویّوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک سپیکٹرم ہے، یعنی علامات اور شدت ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اہم خصوصیات میں شامل ہیں:
سماجی میل جول میں دشواری
باہمی گفتگو میں مشکلات
محدود اور دہرائے جانے والے رویّے
دلچسپیوں یا سرگرمیوں میں تنگی
حسی محرکات (آواز، روشنی،
لمس) پر غیر معمولی ردِعمل
یہ حالت پیدائش سے موجود ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔ اس کی کوئی واحد وجہ نہیں، بلکہ جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کا مجموعہ کردار ادا کرتا ہے۔ آٹزم دنیا بھر میں تیزی سے تشخیص ہونے والی حالت ہے اور والدین و معالجین دونوں کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقاریر میں آٹزم کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے پیراسیٹامول کو امریکہ میں آٹزم کی وجہ قرار دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔ سی ڈی سی ایک سرکاری ادارہ ہے اور وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرتا ہے۔ ماہرین صحت نے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر سی ڈی سی کی ویب سائٹ میں ویکسین اور آٹزم کے تعلق کے بارے میں پالیسی تبدیلی کو سائنسی نہیں بلکہ سیاسی قرار دیا ہے۔
سائنس میں شکوک و شبہات کی اہمیت بنیادی ہے۔ ایک سائنس دان سوال اٹھاتا ہے، مفروضہ بناتا ہے اور اس پر تحقیق کرتا ہے۔ اس تحقیق کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نتائج ٹھوس شواہد پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ قیاس آرائی پر۔
دنیا بھر، خصوصاً غریب ممالک میں، پہلے ہی ویکسینیشن کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان پر تحقیق کرنے کے بجائے ان کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے معاشروں میں ویکسینیشن کی قبولیت کم ہے، جس کے باعث مہلک امراض پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال حالیہ ایچ پی وی ویکسین ہے، جس کے ذریعے خواتین میں سروائیکل کینسر کا مکمل سدِّباب ممکن ہے۔
سی ڈی سی کے اس پالیسی بیان میں تبدیلی کے باعث دنیا بھر کی ویکسینیشن مہمات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ عالمی طبی برادری نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس گمراہ کن بیان کو فوری طور پر سی ڈی سی کی ویب سائٹ سے ہٹائے۔
فیس بک کمینٹ

