روسی ادب کی وسعتوں میں جب نظر ٹھہرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برف پوش میدانوں کے نیچے صدیوں کے خواب سانس لے رہے ہیں، اور ان خوابوں کو لفظ دینے والی شخصیات میں الیگزینڈر پشکن، نکولائی گوگول، ایوان ترگنیف، لیو تالستائی، فیودر دستوئیفسکی اور نکولائی چرنیشیفسکی شامل ہیں جنہوں نے انسان کے باطن کو اس طرح روشن کیا کہ اندھیرے بھی اپنی پہچان کھو بیٹھے۔
الیگزینڈر پشکن کے لفظ جیسے پہلی بار کسی دل نے اپنی دھڑکن سنی ہو۔ سادہ، رواں، مگر اپنے اندر ایک عجیب سی آگ لیے ہوئے۔ انہوں نے زبان کو محض اظہار نہیں رہنے دیا، اسے احساس کی ایسی شریان بنا دیا، جس میں قوم کی روح دوڑتی ہے۔
چولہے میں بھرے ہوں انگارے
اور چٹ چٹ اڑتی چنگاری
بستر میں پڑے ہوں سوچ میں گم
تب لطف ہے موسم کا پیاری
پھر نکولائی گوگول آتے ہیں۔ ہنستے ہوئے چہروں کے پیچھے چھپے آنسوؤں کے رازدار۔ ان کا طنز ایسا ہے جیسے آئینہ، جو ہنسا کر شرمندہ بھی کر دیتا ہے۔ وہ حقیقت کو یوں پیش کرتے ہیں کہ قاری خود اپنی ہی کہانی سے چونک اٹھتا ہے۔
ایوان ترگنیف کے ہاں محبت جیسے کسی خزاں رسیدہ درخت پر اچانک بہار اتر آئے۔ ان کے کردار نرم لہجے میں بات کرتے ہیں مگر ان کے اندر زمانے کی کشمکش بولتی ہے۔ وہ دل اور سماج کے درمیان ایک خاموش پل باندھ دیتے ہیں۔
اور پھر لیو تالستائی، ایک مسافر جس نے ہر موڑ پر ٹھہر کر انسان کو پہچانا۔ ان کے ایک ایک لفظ میں وقت کی پوری صدی سمٹ آتی ہے۔ وہ کردار نہیں بناتے، زندگیاں تخلیق کرتے ہیں؛ ایسی زندگیاں جو قاری کے اندر سانس لینے لگتی ہیں۔
فیودر دستوئیفسکی کو پڑھیں تو یوں لگتا ہے جیسے انسان اپنے ہی باطن کی تاریکی میں کھو گیا ہو۔ وہ جرم اور سزا کی کہانی نہیں لکھتے، وہ ضمیر کی عدالت میں انسان کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ چیخ نہیں ہوتے، مگر خاموشی میں بھی ایک طوفان برپا کر دیتے ہیں۔
اور آخر میں نکولائی چرنیشیفسکی جن کے ہاں ادب محض خواب نہیں، ایک بیداری ہے۔ وہ لفظوں کو ہتھیار بناتے ہیں، اور خیال کو انقلاب کی صورت دے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک لکھنا، خود کو بدلنا اور پڑھنا، جاگنے جیسا ہے۔
یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔
ہم نے ان مصنفین کی شہرہ آفاق تحریریں اپنے لڑکپن میں پڑھی تھیں۔ اس زمانے میں چند ادارے ان کے ناولوں افسانوں اور دیگر تحریروں کے تراجم شائع کرتے تھے۔ ان میں پراگریسو پبلشرز ماسکو اور پھر اس ادارے کے توسط سے پیپلز پبلشنگ ہاؤس لاہور کا نام آج بھی ہماری یادوں میں محفوظ ہے۔ میکسم گورکی کے ناول ”ماں“ کا جو ترجمہ ہم نے اس زمانے میں پڑھا، وہ اسی ادارے نے شائع کیا تھا۔ اب آپ سوچیں گے کہ میکسم گورکی کا ذکر تو اس کتاب میں موجود ہی نہیں۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ یہ روسی ادب کے حوالے سے ڈاکٹر صلاح الدین حیدر صاحب کے مضامین کا پہلا حصہ ہے۔ اس موضوع پر ان کے اور بہت سے مضامین بھی ابھی غیر مطبوعہ ہیں جن میں میکسم گورکی کے فن اور زندگی کا احوال بھی شامل ہے۔ ان مضامین کو جلد ہی اس کتاب کے دوسرے حصے کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ ہم ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کی اشاعت کے لیے ”گردوپیش پبلی کیشنز“ کا انتخاب کیا۔ آنے والے دنوں میں ہم روشن خیال دوستوں کی ایسی دیگر کتابیں بھی شائع کرنے والے ہیں۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
فیس بک کمینٹ

