Browsing: ڈاکٹر صلاح الدین حیدر

یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک سادہ سے سروے کے مطابق پسماندہ قوموں کے دس لاکھ بچے سالانہ محض بھوک سے جانکنی کے بعد موت کے گھاٹ اُترتے ہیں۔ دوسری سمت اسلحہ کی دوڑ، جنگ پرستی کے نئے ہتھکنڈے اور اس سے ہٹ کر انسانیت کے متعلق کھوکھلی اور دفتری لفاظی ایک شاعر کے تجربے کو فریب نہیں دے سکتی۔ اس کے اس بڑھتے پھیلتے آشوب سے ظہور نظر جو کبھی سچائی کی تلخی کا زہر پینے سے نہیں ہچکچایا تھا، بھلا کس طرح غافل رہ سکتا تھا؟