عرصہ دراز قبل مجھے کارلواری فلم فیسٹیول میں شرکت کی دعوت دی گئی، فلم فیسٹیول کی انتظامیہ نے مجھے جو کمرہ الاٹ کیا خوش قسمتی سے وہی کمرہ تھا جس میں پردہ سمیں کی خاتون اول نرگس دت ٹھہری تھیں۔ آج جب میں نرگس پر لکھنے بیٹھا ہوں تو میری یہ تحریر جدن بائی کی بیٹی انور حسین اختر حسین کی بہن، سنیل دت کی بیوی یا سنجےدت کی ماں کے بارے میں بالکل نہیں،صرف نرگس کے بارے میں ہے جس کا فن شعر و افسانہ سے زیادہ دشوار ہے کہ انہیں اپنی شخصیت کو نکھار کر کچھ سے کچھ بننا پڑتا تھا۔ انداز ،مدر انڈیا ،جوگن ،آوارہ ،شری 420، برسات ،انہونی ،پڑوسی ،رات اور دن، نرگس تو ایک ہی تھی ناں، مگر ہرجگہ الگ الگ نظرآئی ۔جدن بائی کی بیٹی یا سنیل دت کی بیوی یا سنجےدت کی ماں ہو نا نرگس کے دوام کا پروانہ نہیں حقیقت صرف اتنی ہے کہ رشتوں کی ان زنجیروں میں بھی بندھی ہوئی نرگس ایک مکمل خاتون تھی۔ جب میں کار لواری فلم فیسٹیول میں تھا تو ہوٹل کی ویٹریس نے مجھ سے پوچھا” کیا تم نرگس کو جانتے ہو؟ اس سے ملے ہو ؟”میں نے "ناں” میں جواب دیا تو اس کا چہرہ اتر گیا مجھے احساس ہوا کہ جیسے میں نے زندگی میں کچھ کھو دیا ہے ۔
میرے حساب سے اداکاری ترسیل ادب کا ایک ذریعہ بھی ہے اور اپنے آپ میں ایک خود مختار اور قابل احترام فن بھی۔ بہت کم لوگوں کو یہ نصیب ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مافوق الفطرت مان لیے جاتے ہیں اور تاریخ ان کے کارنامے دہراتی رہتی ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ہونے سے یہ دنیا خوبصورت اور صحیح لگتی ہے ضروری نہیں کہ آپ ایسی شخصیات کے نزدیک ہوں لیکن جب آپ ان کو دیکھتے ہیں، ان کی شاعری کی شکل میں ان کی فلموں کی صورت میں ،ساز و آواز کے ذریعے تو یہی لگتا ہے کہ آپ ایک نہایت اچھی اور خوبصورت اور کارگر دنیا کے بہت نزدیک ہیں۔ تب آپ کو اپنا ہونا، جینا ،کام کرنا اصولوں کیلئے ہمت سے جدوجہد کرتے رہنا اور آس پاس پہلی زندگی کی شکل کو سنوارتے رہنا دنیا کو خوبصورت ترین بنانا ،سب میں ایک مقصد دکھائی دیتا ہے۔ نرگس ایسی ہی خاتون تھیں کہ تاریخ ان کے کارنامے دہراتی رہے گی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نرگس کی موت انکی زندگی سے زیادہ حسین تھی سچ تو یہ ہے کہ نرگس بھرپور زندگی جیتی رہی پردہ سمیں ہو یا اسٹیج ،پارلیمنٹ کا اجلاس ہو یا بچوں کا اجتماع ،کوئی سماجی و فلاحی منصوبہ ہو یا اصول پرستی کی آزمائش انہوں نے ہر کار زار حیات میں امتیازی شان دکھائی۔
اس کے باوجود سادگی پسند، پروقار منکسرالمزاج اور سماجی ذمہ داریوں سے پوری طرح باخبر تھیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی کامرانیوں کی داستان سنانا امر محال ہے بس میں یہ جانتا ہوں کہ دنیا سے کچھ چاہنے والے ہمیشہ دکھ پاتے ہیں لیکن جو دنیا کو کچھ دینا چاہتے ہیں وہ ہمیشہ خوش رہتے ہیں۔ برہمن خاندان کا اَتم چند موہن جسے لوگ موہن بابو کہہ کر بلاتے تھے اور جو پنجاب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مردانہ حُسن کا نمونہ تھا لکھنؤ میں میڈیکل کالج کا طالب علم تھا رئیس آدمی کی اولاد ہونے کی وجہ سے اعلی تعلیم کیلئے ولایت جانے والا ہے، گانے کا شوقین ہونے کی وجہ سے اپنے وقت کی بہترین گلوکارہ جدن بھائی کا شدائی بھی ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ” عشق اول در دلِ معشوق می شود” تو موہن بابو کو دیکھ کر جدن بائی کی آنکھوں نے سہاگن بننے کے سپنا دیکھا۔ موہن بابو کیلئے اس سے بڑی کوئی مسرت نہیں تھی کہ وہ جدن کو ہمیشہ کیلئے اپنا لیں اور تعلیم کو خیرباد کہہ دیں سماج کی دیواروں کو توڑنا جدن بائی کے بھی بس کی بات نہ تھی یہاں ہائی جمپ کی ضرورت تھی جو موہن بابو کو لگانا تھا اور یہ سچ ہے کہ جب ایک مرد اور ایک عورت ایک ساتھ رہنے کا عہد کر لیں تو ان کے درمیان کچھ حائل نہیں ہو سکتا۔بتایا جاتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے نکاح پڑھا اور اتم چند موہن عبدالرشید بنا دیے گئے یہ وہ زمانہ تھا جب راجہ گوپی چند اور ہرمیش چندرپال کی فلموں میں جدن بائی کے گانے سن کر سر سکندر حیات نے لاہور میں انہیں ملکہ موسیقی کا خطاب دیا تھا، روشن آرا بیگم کے حصے میں تو یہ اعزازکہیں بعد میں آیا۔ اسی دوران یکم جون 1929 کو کلکتہ میں کنیز فاطمہ کا جنم ہوا سینئرکیمبرج میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے کے باوجود ’’بے بی‘‘ میڈیکل کالج میں جانے کی بجائے فلموں میں آگئی شاید سعادت حسن منٹو کی بات سے یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ ’’نرگس ایسے گھر میں پیدا ہوئی کہ اس کو لامحالہ ایکٹریس بننا ہی تھا‘‘۔ـ جدن بائی، جس کا طوطی بول رہا تھا ممبئی آگئی یہاں اس نے’’انسان اور شیطان‘‘ میں ہیروئین کا رول کیا اس کے بعد جدن نے خود اپنی ذاتی فلم بنائی ’’تلاش حق‘‘ جس میں ’’بے بی‘‘ نے بے بی رانی کے نام سے بطور چائلڈ سٹار کام کیا یہ بات 1935ءکی ہے پھر 1936ءمیں دل کی پکار بنائی گئی جس میں جدن بائی، موہن بابو، بے بی رانی، اختر حسین اور انور حسین سبھی نے کام کیا۔
دل کی پکار کا ذکر میں نے اس لیے کیا ہے کہ اس سے ایک اہم واقعہ جڑا ہوا ہے۔ 1936ءمیں پنڈت نہرو ممبئی میں موجود تھے جدن، بے بی رانی کے ساتھ انہیں دل کی پکار کے پریمئرپر مدعو کرنے گئی۔ بے بی رانی کی یہ پہلی ملاقات تھی پنڈت نہرو سے۔ پنڈت جی نے چندھیائی آنکھوں ، لمبوترے چہرے اور سوکھی ٹانگوں والی گڑیا کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور گڑیا اسی دن سے ان کی مداح بن گئی، یہ وفاداری دونوں کے مرتے دم تک قائم رہی۔نرگس کو جن لوگوں نے قریب سے دیکھا ہے یہی محسوس کیا ہے کہ وہ فلم والوں سے بہت مختلف ہے اس کی ایک انفرادی شخصیت ہے جو احساس کمتری اور برتری کی دیواروں کو توڑ کر تعمیر کی گئی تھی ۔
تیری آنکھوں میں گر شراب نہیں
چیز پھر یہ شراب سی کیا ہے
( بشکریہ :روزنامہ جنگ )

