اب یاد نہیں کہ پہلی بار اسے کب دیکھا تھا، قیاس ہے کہ وہ ڈیرہ اڈا پر ایک خالی پلاٹ میں جہاں مسجد کے متصل ایک بڑا پلازہ مسکرا رہا ہے، 68ء تک جیتا رہا۔ اس کا چہرا بڑا اور گول، رنگت براؤن اور زندگی کی مسرت سے لبریز مسکراتی آنکھیں، ایک سپاہی کی طرح کثرتی اور مضبوط اعصاب اور ہمیشہ خاکی قمیض یا جیکٹ جو کہ کسی یونیفارم کی باقیات تھے میں ملبوس نظر آتا لیکن نچلا دھڑ جو کہ شاید مفلوج تھا پر ایک میلا کپڑا دھرا رہتا۔ اور اس راہ سے گزرنے والے کسی شخص نے کبھی اسے چلتے نہیں دیکھا تھا۔
وہ خود بھی کسی سے بات نہیں کرتا تھا، لیکن اس کی چمکتی آنکھیں اس کے شاعرانہ محسوسات کی ترجمانی کر رہی ہوتی تھیں اور اس کیفیت سے آسمان کو گھورتے ہوئے وہ ”کنٹرول ختم ہو گیا“ کی تکرار کرتا رہتا تھا۔ کیسے اور کہاں کنٹرول ختم ہو گیا؟۔ کسی کے پاس نہ تو اتنا وقت تھا نہ جرأت تھی کہ اس کے ماضی کی تاریخ کا سراغ لگا سکے۔ لوگ اس کی خود کلامی کی تکرار سے اس طرح مانوس ہو چکے تھے، کہ اسے ”کنٹرول“ کہہ کر مخاطب کرتے، اور کوئی بھی شخص اس کے اصل نام سے آشنا نہیں تھا۔ ابھی شناختی کارڈ کے محکمے کا رواج نہیں ہوا تھا اور اگر ہوتا بھی تو کیا فرق پڑتا۔ پُراسرار لوگ کسی شناخت کے طلب گار نہیں ہوتے، اب کم و بیش ساٹھ برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور جب کبھی میں ڈیرا اڈا کی جانب جاتا ہوں تو پرسکون چہرے کے ساتھ خلا میں گھورتا اور انگشت شہادت بلند کر کے ”کنٹرول ختم ہو گیا“ کی شناخت رکھنے والا شخص حافظے میں ابھر آتا ہے۔۔
کیا وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران کسی محاذ پر ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا کہ کنٹرول ختم ہو گیا؟ یا وہ انڈین نیشنل آرمی کا کوئی مفرور سپاہی تھا۔ ہندوستان کی تاریخ بغیر کفن کے لاش کی طرح ہے جو دفتری فائلوں کے قبرستان میں دفن ہے۔
فیس بک کمینٹ

