مظفر آباد : بدھ کے روز پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر میں فوجی ہیلی کاپٹر گرنے سے ہلاک ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے جبکہ ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے اس حادثے کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
بدھ کو پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے تصدیق کی تھی کہ ’تیکنیکی خرابی کے باعث پیش آئے حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔‘
مظفر آباد میں ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا تھا کہ اس حادثے میں ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹ بھی جان کی بازی ہار گئے۔ ہیلی کاپٹر نے مظفر آباد کے نیلم سٹیڈیم سے اُڑان بھری تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ’ایم آئی 17‘ ہیلی کاپٹر ’تکنیکی خرابی‘ کے سبب اڑان بھرتے ہوئے تباہ ہوا۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں کریش کے بعد حادثے کے مقام پر پہنچ گئی تھیں اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے۔
پاکستان کی فوج نے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ بی بی سی نے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد اور اُن کی شناخت کے بارے میں آئی ایس پی آر سے رابطہ کیا تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم نمازِ جنازہ میں موجود بی بی سی کے لیے رپورٹنگ کرنے والے صحافی نصیر چوہدری نے 20 تابوت دیکھے جن پر سیکیورٹی اہلکاروں کے نام درج تھے۔
نمازِ جنازہ میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور، 10 کور، ڈی جی رینجرز سمیت عسکری اور سول حکام نے شرکت کی۔
سوشل میڈیا پر ہیلی کاپٹر حادثے کی ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں ایک ہیلی کاپٹر کو آگ لگی ہوئی ہے اور دھواں اُٹھ رہا ہے، اس دوران زوردار دھماکوں کی بھی آواز آتی ہے۔
بظاہر قریبی گھر سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’جہاز پھٹ گیا ہے۔۔۔بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے۔۔ ریسکیو والوں کو کال کریں۔‘ ایک خاتون روتے ہوئے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کر رہی ہیں۔
بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے اور ہزاروں افراد پر مشتمل راولا کوٹ کے قریب ہے۔
اس حوالے سے مظفر آباد سمیت دیگر شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جن کی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
نیلم سٹیڈیم کے قریبی رہائشی شیراز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر نے جوں ہی اُڑان بھری اور فضا میں تھوڑا ہی بلند ہوا تو یہ زمین کی جانب آنے لگا۔‘
اُن کے بقول ’پہلے یہ درختوں کے ساتھ ٹکرایا اور پھر گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔‘
شیراز کے مطابق ’جہاں ہیلی کاپٹر گرا وہ بھی فوج کی ورکشاپ تھی۔‘ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر جہاں گرا وہاں نیچے خالی پلاٹ تھا اور کوئی رہائش نہیں تھی جبکہ آگ پر بھی فوری قابو پا لیا گیا تھا۔‘
اس سے قبل مظفر آباد انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر اُس وقت حادثے کا شکار ہوا جب یہ مظفر آباد میں واقع نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اہلکار کے مطابق اس کے بعد شہر میں ایک زور دار دھماکہ سُنا گیا۔
مظفر آباد کے شہری حمزہ نے صحافی نصیر چوہدری کو بتایا کہ زوردار دھماکے کے بعد مظفر آباد شہر میں متاثرہ مقام سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے تھے اور امدادی اداروں کی گاڑیاں متاثرہ مقام کی جانب جا رہی تھیں۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار کوئی شخص زندہ نہیں بچا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حادثے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مظفر آباد کے علاقے سینڑل پلیٹ کے رہاشی سردار تنویر کے مطابق بدھ کی صبح سے ہی نیلم سٹیڈیم سے ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے اور رینجرز کے اہکاروں کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ بدھ کو دو بجے کے قریب دھماکہ ہوا اور جب وہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ہیلی کاپٹر کا ڈھانچہ زمین پر گرا ہوا ہے اور اس میں سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد امدادی کاموں میں حصہ لینے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی اس واقعے کے پانچ منٹ بعد جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹرز سے 20 لاشیں نکالیں گئیں جو کہ قابل شناخت تھیں۔
دوسری جانب جب ہیلی کاپٹر گرنے کا واقعہ رونما ہوا تو اس کے بعد پولیس کنٹرول پر ایس ایس پی کی طرف سے وائر لیس پر یہ پیغام چلایا گیا کہ علاقے میں کسی کو بھی اس واقعے کی ویڈیو نہ بنانے دی جائے اور اگر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر سے اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں تو ان کو روکنے کے لیے جو ممکن ہو سکے اقدامات کریں۔
مقامی پولیس کے اہلکار کے مطابق پولیس اہلکار چند گھروں کی چھتوں پر بھی گئے جہاں پر کچھ نوجوان جلے ہوئے ہیلی کاپٹرز اور امدادی کاموں کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

