آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: بانسری نواز اور چوہے

برستے لوٹوں، چلتے مکوں، ٹوٹتے بازووں، پرویز الہی صاحب کی دلدوز بددعاؤں اور کوسنوں کے درمیان آخر کار حمزہ شہباز صاحب کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ عثمان بزدار صاحب اسی خاموشی سے یہ منصب جاتے دیکھتے رہے جس خاموشی سے وہ اس منصب پر آئے تھے۔
سیاسی میدان میں جو گھڑمس مچی ہوئی ہے ایسی اٹھا پٹخ تب ہی مچتی ہے جب طاقت کے اصل مراکز میں سرد جنگ عروج پر ہوتی ہے۔ طاقت کے یہ مراکز اندرون ملک بھی ہو سکتے ہیں اور بیرون ملک بھی لیکن سچ یہ ہی ہے کہ طاقت کے ان مراکز کی آشیرباد کے بغیر کم ہی حکومتیں بنی ہوں گی۔
عمران خان صاحب حکومت سے نکلنے کے بعد بقول ان کے زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں۔ ایسا خطرناک ہوئے ہم نے میاں نواز شریف کو بھی دیکھا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ یہ سب اقتدار سے الگ ہونے کے بعد کسی ان دیکھے، ان جانے، پس پردہ، ظالم محبوب کو اشاروں کنایوں میں ایسے ہی کوستے ہیں جیسے کلاسیکی شعرا واسواخت میں عطار کے لونڈے کو کوستے تھے؟خان صاحب کے حامی جلسہ گاہوں میں، سوشل میڈیا پر، ہر جگہ ان کے ساتھ جینے مرنے کو کھڑے ہیں لیکن دل ہی دل میں وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ ہوا کیا تھا، ہو کیا رہا ہے مگر اب بھی کسی کو یہ معلوم نہیں کہ ہونے کیا والا ہے؟ اگلے چند ہفتے بہت اہم ہیں۔
خان صاحب جو پونے چار برس ایک صفحے کی حکومت کرتے رہے، اب ایک بیانیے کی سیاست کر رہے ہیں جس کا لب لباب یہ ہے کہ ان کی حکومت امریکہ نے گرائی۔
سوال یہ ہے کہ جب آپ چلا چلا کر ایک پیج کا ذکر کرتے تھے تو کیا سننے والے اتنے بھولے تھے کہ انہیں اس ایک پیج کا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا؟ ایک پیج کا مطلب طاقت کے مرکز کے ساتھ اتحاد ہے۔ یہ ہی دو جمع دو چار کا وہ فارمولا تھا جس پر کل آپ نے حکومت بنائی تھی۔
آج جن کو لوٹا کہا جا رہا ہے کل ان ہی کے گال تھپتھپاتے ہوئے انھیں پیار سے ’الیکٹ ایبلز‘ کہا جا رہا تھا۔ الیکٹ ایبلز آپ کے ساتھ کیوں آئے تھے اور کیوں لوٹے بن گئے؟ اپنے ووٹرز سپورٹرز کو یہ بھی بتا دیجیے۔
اس وقت اپنے نظریاتی ساتھیوں کو نظر انداز کرنے کی سزا خان صاحب کو آج ملی لیکن وہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے ایک ایسے سیاسی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں جو کل ان کو اسی طرح نقصان پہنچائے گا جیسے الیکٹ ایبلز کی سیاست نے پہنچایا۔
کل پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا اور جس طرح بزرگ سیاستدان پرویز الٰہی صاحب نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیں، یہ سب عوام کے مینڈیٹ کو اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بیچ دینے کے نتائج ہیں۔
آج جن لوٹوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کل اسی وضع کے لوٹے جمع کر کے حکومت بناتے ہوئے لوٹوں کے پیندے کیوں نہ دیکھے تھے جو اب ان کے گھوم جانے کا دکھ ہے؟
معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں برادری، نسل، زبان اور علاقے کی سیاست ہونے کی وجہ سے اب مشکل ہی ہے کہ کوئی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرے۔ پی ٹی آئی کی مدد کرنے والی قوتوں نے بہت محنت سے ان کی حکومت بنائی تھی لیکن وہ اپنی ناقص ٹیم یا کسی اور وجہ سے ڈیلیور نہ کر پائے۔
یہ ہی مسئلے کی جڑ ہے، اگر پی ٹی آئی حکومت اپنے وعدوں میں سے کسی ایک وعدے کو بھی کسی حد تک ہی پورا کر دیتی تو شاید باقی کی مدت بھی پوری ہو جاتی۔
خیر اب پرویز الٰہی صاحب کا معاملہ اللہ کی عدالت میں اور خان صاحب کا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے۔ مسلم لیگ ن نے جانے کس مصلحت میں یہ کانٹوں کا تاج اور دلدل پر قائم تخت سنبھالا ہے۔پی ٹی آئی کی سیاست کا جارحانہ رنگ یہ ہی رہا تو عوام تھک جائیں گے۔ الیکشن اگر اپنے وقت پر ہوئے اور اس دوران حکومت کچھ کارکردگی دکھا گئی تو پی ٹی آئی کا ووٹ بینک اسی طرح متاثر ہو گا جس طرح اسمبلیوں میں ہوا۔
پی ٹی آئی کے ووٹرز وہ محب وطن اور جواں سال پاکستانی ہیں جو اپنے وطن کے لیے ایک مسیحا کے منتظر تھے۔بہت ممکن ہے یہ مسیحا عمران خان صاحب کی شکل میں مل جائے لیکن فی الحال تو انھیں دیکھ کر اس بانسری نواز کی یاد آ رہی ہے جس نے شہر کو چوہوں سے نجات دلانے کے بدلے انعام و اکرام کا وعدہ کیا تھا۔
بانسری بجا کے چوہوں کو دریا برد کرنے کے بعد جب اس نے اپنا انعام مانگا تو اس شہر کے حاکم نے چند ٹکے دے کے ٹرخا دیا۔ بانسری نواز اس وقت تو وہاں سے چلا گیا لیکن اگلے روز سب نے سنا کہ بانسری کی میٹھی میٹھی دھن بج رہی ہے اور اس دھن پر شہر کے سارے بچے مست ہو کے بانسری نواز کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔
اس سے پہلے کہ کوئی سمجھ پاتا بانسری نواز بچوں کو لے کے قریبی دریا میں اتر گیا، خود تو لمبا بانس تھا بچ گیا مگر سب بچوں کو ڈبو دیا۔
خدا اس ملک کو عاقبت نا اندیشوں، مفاد پرستوں، اقتدار کے بھوکے، کرسی کے لالچی، عہدوں کے بھکاری طالع آزماؤں اور بانسری نوازوں کے شر سے بچائے۔ سارے بولو، آمین۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker