بی بی سیعبدالرشید شکورلکھاری

عبدالرشید شکورکا کالم:اے بی ڈی ویلیئرز: 31 گیندوں پر وہ سنچری جس پر کرس گیل بھی ڈی ویلیئرز کو ’لیجنڈ‘ کہے بغیر نہ رہ سکے

جوہانسبرگ کا وانڈررز کرکٹ سٹیڈیم 18 جنوری 2015 کو مکمل طور پر گلابی منظر پیش کر رہا تھا۔ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان جاری اس میچ میں چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے دن کے طور پر نہ صرف جنوبی افریقی ٹیم گلابی کٹ میں ملبوس تھی بلکہ شائقین میں بھی گلابی رنگ کے ملبوسات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔
شائقین اس میچ کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہو رہے تھے لیکن اُس وقت کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل کی یادگار اور تاریخ ساز اننگز دیکھنے والے ہیں۔
’کسی اور کو بیٹنگ کے لیے بھیج دیں‘
جنوبی افریقہ کی اننگز جاری تھی۔ ہاشم آملا اور رائلے روسو ویسٹ انڈین بولنگ پر حاوی ہو چکے تھے۔ ٹیم کا سکور 200 سے اوپر ہو چکا تھا۔ دونوں نے اس اننگز میں سنچریاں بنائی تھیں۔
اس دوران ٹیم کے ڈریسنگ روم میں کوچ رسل ڈومینگو اور اے بی ڈی ویلیئرز کے درمیان کچھ اس طرح کا مکالمہ ہوتا ہے جس کا ذکر اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنی سوانح کے پہلے باب ’گلوری‘ میں تفصیل سے کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں ʹمیں نے کوچ رسل ڈومینگو سے کہا کہ اگلے بیٹسمین کے طور پر ڈیوڈ ملر کو جانے دیں۔ یہ صورتحال ان کے لیے بہترین ہے۔ رسل ڈومینگو نے جواب دیا کہ ’نہیں اے بی، اگلے بیٹسمین تم ہو۔‘
اے بی ڈی ویلیئرز کہتے ہیں ʹمیرا خیال تھا کہ لیفٹ آرم سپنر سلیمان بین کے دو اوورز ابھی باقی تھے اور بائیں بازو سے کھیلنے والے بیٹسمین ڈیوڈ ملر کے لیے یہ مثالی صورتحال تھی کہ وہ جا کر سلیمان بین کی بولنگ پر جارحانہ انداز اختیار کریں۔‘
اے بی ڈی ویلیئرز نے رسل کو دوبارہ مخاطب کیا ʹکوچ میں سنجیدہ ہوں۔‘
رسل کا جواب تھا ایک بار پھر نفی میں تھا ’نہیں۔ تم اس صورتحال کے لیے بہترین شخص ہو۔‘
ڈی ویلیئرز اس دوران اپنی پرانی کمزوری کی وجہ سے ساتھی کھلاڑیوں کے مذاق کا بھی نشانہ بن رہے تھے اور وہ کمزوری تھی گھبرانا، جس کے بارے میں ڈی ویلیئرز کہتے ہیں کہ یہ ان کا 177 واں ون ڈے انٹرنیشنل تھا لیکن ان کی بے چینی اولین میچ جیسی ہی تھی۔ وہ ہر اننگز سے پہلے خود کو نروس محسوس کیا کرتے تھے۔
اور پھر ورلڈ ریکارڈ بنتے گئے
ابھی ڈی ویلیئرز کا ساتھی کھلاڑیوں سے ہنسی مذاق جاری تھا کہ اس دوران رائلے روسو 128 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ڈی ویلیئرز اٹھے اور جانے لگے لیکن ٹھوکر لگنے سے گرتے گرتے بچے جس پر فاف ڈوپلیسی اور ڈیل سٹین کی ہنسی چھوٹ گئی۔
جب ڈی ویلیئرز بیٹنگ کے لیے گئے تو ہاشم آملا بھی سنچری بنا چکے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو سکول کے زمانے سے جانتے تھے، لہٰذا دونوں میں بہت زیادہ ذہنی ہم آہنگی تھی۔ دونوں یہی سوچ رہے تھے کہ 350 رنز بن جائیں تو یہ ہدف ویسٹ انڈیز کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔
ڈی ویلیئرز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ʹجب میں بیٹنگ کے لیے گیا تو 69 گیندوں کا کھیل باقی تھا۔ اننگز کا 40 واں اوور آندرے رسل نے کیا جس میں میں نے دو چھکے اور دو چوکے لگائے۔ سکور بورڈ کی طرف نگاہ ڈالی تو پتہ چلا کہ صرف آٹھ گیندوں پر میں 28 رنز بنا چکا تھا۔ عام طور پر میں اننگز کے آغاز میں اس طرح جارحانہ نہیں کھیلتا لیکن مجھے اس طرح کھیلنا اچھا لگ رہا تھا۔ ہاشم آملا اوور کی پہلی گیند پر ایک رن لے کر مجھے موقع دے رہے تھے اور میں آزادانہ سٹروکس کھیل رہا تھا۔‘
ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ ’میں نے جیسن ہولڈر کو دو چھکے لگائے تو سکور بورڈ نے اعلان کیا کہ میں نے صرف 16 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی ہے جو نیا عالمی ریکارڈ تھا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ سری لنکا کے سنتھ جے سوریا کا تھا جنھوں نے 1996 میں پاکستان کے خلاف سنگاپور میں اپنی نصف سنچری 17 گیندوں پر مکمل کی تھی۔‘
اُنھوں نے اسی ریکارڈ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی نظریں تین ہندسوں کی اننگز پر لگی ہوئی تھیں جس کے لیے اُنھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ یہ جیسن ہولڈر ہی تھے جن کے نویں اوور میں اُنھوں نے ڈیپ مڈوکٹ پر چھکا لگ اکر اپنی سنچری مکمل کر لی۔
ان کی یہ سنچری صرف 31 گیندوں پر مکمل ہوئی تھی۔ اس طرح اُنھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل کی تیز ترین سنچری کا نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا جو اس سے قبل نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن نے 36 گیندوں پر ویسٹ انڈیز ہی کے خلاف کوئنز ٹاؤن میں قائم کیا تھا۔
ون ڈے انٹرنیشنل میں 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری کا شاہد آفریدی کا ریکارڈ 17 سال سے بھی زیادہ عرصے قائم رہا تھا جسے کورے اینڈرسن نے توڑا لیکن ان کا ریکارڈ صرف ایک سال ہی قائم رہ سکا اور ڈی ویلیئرز اس کے مالک بن گئے۔
’اے بی، تم لیجنڈ ہو‘
اے بی ڈی ویلیئرز نے جب یہ عالمی ریکارڈ قائم کیا تو رائل چیلنجرز بنگلور کے اُن کے ساتھی کرس گیل فیلڈنگ کر رہے تھے۔ وہ ان کے قریب سے گزرتے ہوئے بولے ’اے بی، تم لیجنڈ ہو۔‘ اس پر وہ ہنس پڑے اور جواب دیا نہیں، آپ لیجنڈ ہیں۔‘
ڈی ویلیئرز کی 149 رنز کی شاندار اننگز آخری اوور میں اختتام کو پہنچی تھی جس میں 16 چھکے اور نو چوکے شامل تھے۔
سولہ چھکے لگا کر ڈی ویلیئرز نے ایک ون ڈے اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا روہت شرما کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کیا تھا (بعد میں کرس گیل بھی اس ریکارڈ میں شامل ہوئے تھے) تاہم 2019 کے عالمی کپ میں انگلینڈ کے اوئن مورگن افغانستان کے خلاف 17 چھکے لگا کر ان تینوں سے آگے نکل گئے۔
ویسٹ انڈین ٹیم دوسری مرتبہ اے بی ڈی ویلیئرز کے غیض و غضب کی شکار صرف ایک ماہ بعد ہوئی جب اُنھوں نے سڈنی میں ورلڈ کپ کے میچ میں 162 رنز ناٹ آؤٹ کی جارحانہ اننگز کھیلی جس کے دوران اُنھوں نے صرف 64 گیندوں پر تیز ترین 150 رنز مکمل کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام سے منسلک کر لیا۔
’تم نے کھیل کا انداز ہی بدل ڈالا ہے‘
ڈی ویلیئرز کے کریئر کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب اپنے دور کے عظیم بیٹسمین سر ویوین رچرڈز نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔
ڈی ویلیئرز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’آئی پی ایل کے دوران ایک پارٹی میں ویوین رچرڈز مجھ سے ملے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے تھے۔ وہ بولے ʹتم کھیل (کے انداز) کو تبدیل کر رہے ہو۔ میں مسکرا دیا سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دوں۔‘
رچرڈز بولے ʹمیں سنجیدہ ہوں۔ تم اس کھیل کا انداز بدلتے جا رہے ہو۔ کئی برس پہلے لوگ یہی بات میرے بارے میں بھی کہتے تھے لیکن اب میں یہ بات تمھیں کہہ رہا ہوں۔ تم کرکٹ کو ایک نئی سطح پر لے جا رہے ہو۔ اسے جاری رکھو۔‘
ڈی ویلیئرز کہتے ہیں ʹمیں جذباتی سا ہو گیا تھا لہٰذا میں نے شکریہ ادا کر کے گفتگو کا موضوع تبدیل کرنا چاہا۔‘
’شادی کی پیشکش کے لیے تاج محل کا انتخاب‘
ڈی ویلیئرز کی شادی کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔
یہ مئی 2007 کی بات ہے۔ ان کی والدہ اُنھیں پریٹوریا کے قریب واقع ایک پرائیوٹ گیم لاج میں لنچ پر لے گئیں جہاں وہ ریئل سٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہاں ان کی ملاقات لاج کے مالک اور ان کے خاندان سے ہوئی جن میں ان کی بیٹی ڈینیئلا بھی شامل تھیں۔
پاکستان کرکٹ کا وہ ’ہتھیار‘ جس کے یارکرز سے بچنے کے لیے سٹیل کیپس پہننے کا مشورہ دیا گیا
ڈی ویلیئرز کہتے ہیں ’ڈینیئلا کی خوبصورت آنکھیں تھیں جن سے میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جب ہم واپس آ رہے تھے تو میں نے اپنی والدہ سے ڈینیئلا کے فون نمبر کی درخواست کی اور چند روز بعد ہم دونوں کے درمیان رابطے شروع ہو گئے۔ وہ اپنی تعلیم میں مصروف تھیں اور میں اپنی کرکٹ میں۔ اس دوران پانچ چھ سال گزر گئے، بالآخر میں نے ڈینیئلا سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔‘
وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ʹڈینیئلا کو میں نے آئی پی ایل کے دوران انڈیا مدعو کیا۔ اُنھیں تاج محل دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ ہم نے آگرہ کی راہ لی۔ ہمارے ساتھ رائل چیلنجرز بنگلور کے کیمرا مین اور فوٹو گرافر بھی تھے جنھیں میں نے سکیورٹی گارڈز ظاہر کیا تھا۔‘
ڈی ویلیئرز اور ڈینیئلا تاج محل کی سیر کر رہے تھے کہ اچانک ڈی ویلیئرز نے ڈینیئلا کو شادی کی پیشکش کر دی اور یہ کہہ کر اُنھوں نے انگوٹھی جیب سے نکال کر ڈینیئلا کو پیش کر دی۔
کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد ڈینیئلا نے اثبات میں جواب دے دیا۔ مارچ 2013 میں ان دونوں کی شادی اسی گیم لاج میں ہوئی جہاں دونوں کی نظریں آپس میں ملی تھیں۔
’مسٹر 360‘
اے بی ڈی ویلیئرز کو وکٹ کی ہر جانب کھیلنے میں کمال مہارت حاصل تھی۔ وہ ہر زاویے سے آزادانہ سٹروکس کھیلنے میں مشہور تھے، اسی لیے اُنھیں مسٹر 360 کہا جاتا تھا اور جب وہ فیلڈنگ کر رہے ہوتے تھے تو اپنی غیر معمولی پھرتی کے سبب وہ سپرمین کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق ڈی ویلیئرز کو ایک مشکل بیٹسمین کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈی ویلیئرز نے پاکستان کے خلاف کئی غیر معمولی اننگز کھیلی ہیں۔
مصباح الحق بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹنومبر 2010 میں میری کپتانی کا محض یہ دوسرا ٹیسٹ میچ تھا۔ ہم نے تین وکٹیں جلد حاصل کر لی تھیں اور سوچ رہے تھے کہ جنوبی افریقہ کو سو، ڈیڑھ سو میں آؤٹ کر لیں گے لیکن یاک کیلس اور ڈی ویلیئرز نے سنچریاں بنا ڈالیں۔ ڈی ویلیئرز نے میراتھان اننگز کھیلی تھی۔ ان کی اسی اننگز کی وجہ سے ہمارے لیے میچ بچانا مشکل ہو گیا تھا۔ اُنھیں میچ کا نقشہ بدلنے کا فن آتا تھا اور وہ ایسا تینوں فارمیٹس میں یکساں مہارت سے کرتے تھے۔‘
مصباح الحق کہتے ہیں ʹدنیا کے کئی کھلاڑی ہیں جن کے پاس ٹیلنٹ ہے لیکن ڈی ویلیئرز نے اس ٹیلنٹ کو اپنی کارکردگی میں منتقل کیا اور میچ ونر بن کر سامنے آئے۔ مجھے 2013 کی سیریز نہیں بھولے گی جس میں ڈی ویلیئرز نے دو ٹیسٹ سنچریاں سکور کی تھیں اور پھر ون ڈے سیریز میں بینونی کی مشکل وکٹ پر ناقابل شکست 95رنز بنائے تھے اور جوہانسبرگ میں بھی سنچری بنائی تھی۔ اسی سال دبئی ٹیسٹ میں ایک ٹرننگ وکٹ پر اُنھوں نے سعید اجمل کے خلاف 164 بنائے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب سعید اجمل کو کھیلنا بہت مشکل تھا۔‘
مصباح الحق کہتے ہیں ʹڈی ویلیئرز کو ہم ایک ایسے بیٹسمین کے طور پر یاد رکھ سکتے ہیں جنھوں نے کرکٹ میں نت نئے شاٹس متعارف کروائے۔‘
عالمی کپ جیتنے کا خواب پورا نہ ہو سکا
اے بی ڈی ویلیئرز نے تین ورلڈ کپ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی۔ سنہ 2015 کے عالمی کپ میں وہ کپتان تھے۔
ڈی ویلیئرز کہتے ہیں ʹمیں اپنے بچپن میں ایک خواب بار بار دیکھا کرتا تھا کہ میں ورلڈ کپ فائنل میں فیلڈنگ کر رہا ہوں گیند میرے پاس آتی ہے اور میں دوڑ کر بیٹسمین کو رن آؤٹ کر دیتا ہوں۔ ہم اپیل کرتے ہیں، امپائر کی انگلی اٹھتی ہے اور جنوبی افریقہ ورلڈ کپ جیت لیتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور ہر بار اُنھیں شکست کا عذاب جھیلنا پڑا۔
ڈی ویلیئرز کی بین الاقوامی کرکٹ 2018ء میں اختتام کو پہنچی تھی حالانکہ اس وقت وہ صرف 34 برس کے تھے۔ پھر نومبر 2021 میں اُنھوں نے ہر طرح کی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کر ڈالا۔
وہ 2019 کے عالمی کپ میں کھیلنے کی خواہش رکھے ہوئے تھے لیکن سلیکٹرز نے یہ کہہ کر اُن کی واپسی نہیں ہونے دی کہ اس صورت میں ان کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہو گی جو اس وقت سسٹم کا حصہ ہیں۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker