دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا ۔ اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا، سنورتا لیکن وہ نڈر ہو کر اور اٹل رہ کر جانبِ منزل اپنی نگاہیں جماتا۔ اس نے آگ میں پھول کھلانے کی قسم کھائی تھی۔ سوزِ جگر رہ رہ کر اسے ہمت دیتی۔ اس پر جنون سوار تھا۔ منزل کی تشنگی تھی۔ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اسے ستاتا رہتا۔ اسے زمانے کے طعنے کا، ان آنسوؤ ں کاقرض اور اس تھپڑ کا جواب دینا تھا۔جو ہوا غلط ہوا۔ وہ اس ذلت کا حقدار نہیں تھا۔ جب بچھڑے ہوئے یاد آتے اور بے چین ہو کر اس طرف نظر جاتی تو وہ ضبط کر کے اپنا جگر تھام لیتا۔ جس دم اس نے یہ راہ لی تھی اسے معلوم تھا کہ قربانیاں لازم تھیں۔ اس نے جو سوچا اسے پانا تھا۔ اسی طرح الجھتے الجھتے عمر کٹ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ سب ضروری تھا؟
جمعہ, جون 26, 2026
تازہ خبریں:
- روہڑی کے تاریخی ماتمی جلوس میں چار عزادار جاں بحق ، متعدد زخمی
- وینزویلا میں شدید زلزلہ 32 اموات کی تصدیق : تعداد ہزاروں سے تجاوز کرنے کا امکان
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
- محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
- ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
- کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
- کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
- 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

