تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : افغان جنگ کا ملبہ پاکستان پر ہی گرے گا ؟

گزشتہ روز چین کے شہر تانجن میں ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں طالبان کے نو رکنی وفد نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔ چینی ذرائع کے مطابق چینی حکومت نے طالبان پر تمام دہشت گرد گروہوں بالخصوص مشرقی ترکستان اسلامی تحریک سے قطع تعلق پر زور دیا ہے۔ نئی دہلی میں آج امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارتی ہم منصب جے شنکر سے ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوجی انخلا کے باوجود اس ملک کو دہشت گردی کا گڑھ نہیں بننے دے گا اور بھارتی مفادات کا محافظ ہوگا۔
طالبان کی سفارتی بھاگ دوڑ اور امریکی حکومت کی سرگرمیوں سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ سب افغانستان میں امن کی بات کررہے ہیں لیکن تنازعہ میں ملوث اور اس سے متاثر ہونے والے فریق اس مسئلہ کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں اور اس کا اپنی ضرورت و مفاد کے مطابق حل چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ تیاری بھی کی جارہی ہے کہ اگر تصادم کی صورت پیدا ہو تو کسی بھی طرح اپنے مفاد کا تحفظ کیا جائے۔ افغان مسئلہ کا بہترین حل اتفاق رائے سے قائم ہونے والی حکومت ہے جس میں طالبان کے علاوہ موجودہ افغان حکومت اور ملک کے دیگر طاقت ور گروہوں کو نمائیندگی حاصل ہو۔ اور بدترین حالت میں ایسی خانہ جنگی کا آغاز ہوسکتا ہے جو طویل اور تکلیف دہ ہوگی۔ ماضی کے برعکس ایسی خانہ جنگی میں ایک سے زیادہ بیرونی فریق ہوں گے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران، بھارت، امریکہ، چین ، روس اور وسطی ایشیا ئی ریاستیں کسی نہ کسی طرح اس جنگ کی حصہ دار ہوں گی۔ بظاہر طالبان کسی بڑی جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں لیکن عسکری تصادم کی صورت میں انہیں ایک سے زیادہ ’سپانسر‘ میسر ہوں گے۔
طالبان زمینی سطح پر متحرک ہیں اور زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ طالبان اس وقت طاقت ور اور بااثر ہیں۔ اس لئے وہ اب کیوں پاکستان کی بات مانیں گے۔ آج بھی اسلام آباد میں افغان میڈیا کے نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے اس بات کو دہرایا ہے کہ امریکہ کو جنگ کی بجائے طالبان سے شروع میں ہی بات چیت کرنی چاہئے تھی۔ خاص طور سے جب 2001 میں افغانستان پر حملہ کے بعد وہاں نیٹو کی ڈیڑھ لاکھ فوج جمع کرلی گئی تھی تو اس وقت طالبان کو کسی بھی معاہدے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا۔ لیکن امریکہ نے اپنی غلطیوں سے اس موقع کو ضائع کردیا اور ایک ایسے وقت میں طالبان سے مذاکرات کا آغاز ہؤا جب امریکہ وہاں سے نکلنے کے لئے بے چین تھا۔ فوج نکالنے کی جلدی میں امریکہ نے کسی سیاسی حل کے بغیر افغانستان سے نکل کر سنگین غلطی کی ہے۔
عمران خان نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ پاکستان کسی صورت طالبان کے اقدامات کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کی حکومت طالبان کی ترجمان ہے۔ وزیر اعظم کا یہ انتباہ دراصل پاکستانی حکومت کے اس مؤقف کا تسلسل ہے کہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو پاکستان اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گااور نہ ہی دنیا کو پاکستان سے یہ توقع رکھنی چاہئے کہ وہ حالات کو سنبھال سکتا ہے۔ پاکستان یہ بھی واضح کررہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں وہ اب زیادہ کردار ادا نہیں کرسکتا کیوں کہ امریکی افواج کے اچانک انخلا اور افغان حکومت کے سخت گیر اور نامناسب رویہ کی وجہ سے طالبان زیادہ طاقت ور ہو ہوچکے ہیں۔ ان کی عسکری اور سیاسی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے اور وہ اب پاکستان کی بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جب طالبان بزور اقتدار پر قبضہ کرسکتے ہیں تو انہیں مفاہمت یا بات چیت کی کیا ضرورت ہے؟
طالبان کے بیانات اور ان کی سفارتی دوڑ دھوپ کو دیکھا جائے تو یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ طالبان کی قیادت بھی کسی نئی طویل المدت جنگ شروع کرنا نہیں چاہتی۔ طالبان کے وفد نے دورہ چین میں چینی لیڈروں کو یقین دلایا ہے کہ وہ سنکیانگ کے باغیوں کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ہی اس علاقے میں مسلح بغاوت کی حامی مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کا ساتھ دیں گے۔ اس طرح درحقیقت طالبان نے اپنے اس اصولی مؤقف پر اصرار کیا ہے کہ ان کی حکومت افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کا حصہ نہیں بننے دے گی۔ یہ ویسی ہی یقین دہانی ہے جو گزشتہ سال فروری میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ میں بھی کروائی گئی ہے کہ طالبان القاعدہ سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیں گے اور افغان سرزمین پر کسی ایسے گروہ کو منظم نہیں ہونے دیں گے جو دوسرے ملکوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین تسلسل سے اس مؤقف کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ افغانستان میں نئی کامیابیوں کے حوالے سے ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ طالبان نے مزید اضلاع پر مقامی قبائیلی لیڈروں کے ساتھ مفاہمت کے بعد قبضہ کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ تاثر قوی کیا ہے کہ طالبان طاقت کےزور پر فتوحات حاصل نہیں چاہتے اور افغان حکومت اور دیگر عناصر کے ساتھ مذاکرات میں کسی سیاسی فارمولے پر متفق ہونا چاہتے ہیں۔ دنیا کو اگر طالبان کے اس مؤقف پر سو فیصد یقین ہو تو شاید یہ صورت حال کسی بڑی پریشانی کا سبب نہ ہو اور افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے پر جوش سفارتی سرگرمی بھی دیکھنے میں نہ آئے۔ یہ شبہ ہر سطح پر موجود ہے کہ طالبا ن اعلان کے باوجود اتحادی افواج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد بزور کابل پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایسی کوئی کوشش کی گئی تو یہ لامحالہ کسی بڑی خانہ جنگی کا پیش خیمہ ہوگی۔ افغان حکومت اور اس کے اتحادی آسانی سے کابل کو طالبان کے حوالے نہیں کریں گے۔
اس پس منظر میں طالبان کی سفارتی کوششوں کا ایک مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ مختلف طاقتوں کو یقین دلا کر اپنے اقتدار کے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔ طالبان بلاشرکت غیرے اقتدار چاہتے ہیں اور اس کے لئے امریکہ ، چین اور دیگر ممالک کو مختلف قسم کی یقین دہانیاں بھی کروا رہے ہیں تاکہ وہ ان کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ فی الوقت پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک افغانستان پر طالبان کے تن تنہا حکومت کا حامی نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت کا ’اصولی‘ مؤقف یہی ہے کہ افغانستان کے سب گروہ اتفاق رائے سے شراکت اقتدار کے کسی فارمولے پر راضی ہوجائیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے آج اس کا اعادہ بھی کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ طالبان کو عسکری و سیاسی بالادستی حاصل ہے اور وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اسلام آباد کے قول و فعل کا یہی تضاد کابل سے دوری اور امریکہ کے ساتھ اختلاف کا سبب بنا ہؤا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ افغان تنازعہ کے دیگر فریقوں کی طرح طالبان بھی دباؤ بڑھا کر اپنی بارگیننگ پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہوں تاکہ آخری مرحلے میں کسی مفاہمت کی صورت میں وہ زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کرسکیں۔ طالبان کو بھی یہ اندازہ ہے کہ کسی تنازعہ میں ان کے لئے مکمل عسکری کامیابی نوے کی دہائی کے مقابلے میں مشکل اور جاں گسل ہوگی۔ افغانستان کی حکومت کے پاس جدید اسلحہ سے لیس تین لاکھ سے زیادہ سیکورٹی فورسز ہیں ۔ اس کے علاوہ افغان فضائیہ کو بھی مستحکم کیا جاچکا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی جاننا اہم ہے کہ طالبان میں شامل عناصر کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں ہے اور انہوں نے اپنی ساری زندگی جنگ کے سوا کچھ اور نہیں دیکھا ۔ ان کے لئے جنگ روزمرہ کا معمول ہے اور بندوق ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ خاص طور سے جب طالبان کے اندر اور باہر بعض عناصر اس پہلو پر اصرار کررہے ہوں کہ طالبان امریکہ سے نہیں ہارے (بلکہ پاکستان کے طالبان نواز عناصر ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے جنگ ہارنے کے بعد بھاگ رہا ہے) تو طالبان کی قیادت کو یہ گمان بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مزید چند ماہ یا سال میں امریکہ کے حواریوں کو بھی راستے سے ہٹا لیں گے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ طالبان بدستور اسلامی حکومت قائم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور ملک میں اپنی مرضی کی اسلامی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ منشور افغان حکومت سمیت دیگر عناصر کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ زبانی دعوؤں سے قطع نظر طالبان کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسا ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ وہ بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں اور اقتدار میں مناسب حصہ ملنے پر خلوص نیت سے کسی ایسے آئینی انتظام پر اتفاق کرلیں گے جس میں طالبان کے سب ’نظریات‘ کو قبول نہ کیا جائے بلکہ کوئی متوازن راستہ تلاش ہوسکے۔ زمینی طور پر طالبان کی پیش قدمی اور بین الافغان مذاکرات سے گریز کی حکمت عملی کی وجہ سے افغانستان میں تصادم کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
پاکستان ہو یا چین، ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ طالبان کسی سیاسی حل پر آمادہ ہوجائیں۔ جنگ کی صورت میں طالبان اپنے اس وعدے کی پابندی نہیں کریں گے کہ وہ ان دونوں ملکوں کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں سے قطع تعلق کرلیں گے۔ پاکستانی فوج تحریک طالبان پاکستان کے افغان طالبان سے مراسم کا اقرار کرچکی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ نگار واضح کررہے ہیں کہ وعدوں کے باوجود طالبان نے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروہ سے قطع تعلق نہیں کیا ہے۔ جنگ ہوتی ہے تو طالبان کے لئے ان گروہوں کی اہمیت دو چند ہوجائے گی۔ ایسے میں پاکستان اگر طالبان کی عسکری کامیابی کو پر امید نگاہوں سے دیکھ رہا ہے تو یہ اندازے کی بڑی غلطی ہوگی۔ اور اگر طالبان کو سفارتی و سیاسی مدد کے علاوہ عسکری تعاون بھی فراہم کیا جاتا ہے تو یہ دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کا سبب بنے گا۔
ایسی صورت میں عمران خان کی یہ دلیل کام نہیں کرے گی کہ ملک میں تیس لاکھ افغان پناہ گزین ہیں، ہم کیسے بتا سکتے ہیں کہ کون طالبان کا جنگجو ہے یا صرف پشتون ہونے کے ناتے ان کا حامی ہے۔ پاکستان چاہے یا نہ چاہے، اسے افغانستان کی خانہ جنگی ہر طرح سے مہنگی پڑے گی۔ اسی لئے طالبان کو براہ راست یا بالواسطہ اعانت کا یقین دلانے کی بجائے ، یہ دوٹوک پیغام دیاجائے کہ واشنگٹن کی طرح اسلام آباد بھی طاقت کے زور افغانستان میں قائم ہونے والی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔ا ور نہ ہی خانہ جنگی میں پاکستان فریق بنے گا۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker