افسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشدکا افسانہ : بہروپیا

شاہد خان بہت زور زور سے چیخ رہا تھا، اس کے گلے کی نسیں پھولی ہوئی تھیں، آنکھیں باہر کو نکل آئی تھیں اور جسم پر لرزہ طاری تھا۔ وہ مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سامنے موجود پانچوں لوگ غلط اور وہ اکیلا صحیح ہے، ایسا ہو بھی سکتا ہے مگر یہاں تو معاملہ اس کے بالکل الٹ تھا ، اول تو وہ خود بے انتہا، بد تمیز، خودسر اور بلا کا موقع پرست تھا، یہاں تک کہ خودغرضی پر اگر اتر آئے تو اپنے سگے بھائی کو بھی نہ بخشے۔ اور موقع پرست ایسا کہ نہایت چالاکی سے ایسے حالات پیدا کردیتا تھا کہ سامنے والا اپنی عزت بچانے کی خاطر خاموشی یا کنارہ کشی اختیار کرلیتا تھا لہذا یہ با آسانی مال ، جائیداد اور دیگر اثاثوں پر قابض ہوجاتا تھا۔ بد لحاظ اس حد تک تھا کہ وہ کسی بڑے چھوٹے کو خاطر میں نہیں لاتا تھا، یہاں تک کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر کچھ بھی کرنے کو ہر گھڑی تیار رہتا تھا۔ خاص کر معاملہ اگر پیسے کا ہو تب پھر طوطا چشمی اور خود غرضی اس پر ختم تھی ۔ اور خوش گمانی یہ تھی کہ شاید وہ اس دنیا کا آخری نیک، پرخلوص، محنتی اور پیار کرنے والا شخص ہے۔
آج دراصل ان کی خودساختہ محبت کا اختتام ہونے والا تھا اور بیچاری نجمہ کے والدین اور بھائیوں نے نجمہ اور شاہد کے گھریلو مسائل پر بات کرنے کیلئے شاہد کو گھر بلایا تھا، اور کسی صورت بات بنانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر شاہد اپنی انا اور خودسری کے آگے کسی کی کوئی بھی بات ماننا تو درکنار سننے کو بھی تیار نہ تھا۔ وہ اس زعم میں تھا کہ میں ایک پیسے والا با اثر آدمی ہوں یہ غریب میرا کیا کر سکیں گے، گوکہ نجمہ کوئی غیر نہ تھی بلکہ شاہد کے قریبی رشتہ داروں کی بیٹی تھی جسے شاہد نے پہلے اپنی محبت کے جال میں پھنسایا اور پھر شادی کرلی۔ نجمہ کے گھر والے غریب لوگ تھے لالچ میں آگئے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ شاہد ایک نہایت ہی ظالم، خودغرض اور بگڑا ہوا شخص ہے بیٹی کی شادی کر بیٹھے۔ انہوں نے یہ سوچ کر شادی کی تھی کہ ممکن ہے محبت کی شادی شاہد پر کچھ مثبت اثر انداز ہو اور وہ اپنی روش بدل لے ہماری بیٹی ایک اچھی اور پرآسائش زندگی جی سکے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا تھا اور حالات دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور آج دس سال بعد نوبت طلاق تک آ پہنچی تھی۔
نجمہ خاندان کی سب سے حسین ، چنچل اور پڑھی لکھی لڑکی تھی، جو بھی اس سے ملتا تھا گرویدہ ہو جاتا تھا، وہ ایک غریب مگر پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، حسن کے ساتھ ساتھ سلیقہ، اخلاق، تمیز بھی نجمہ کی شخصیت میں چار چاند لگایا کرتے تھے، لہذا وہ پورے خاندان میں بہت پسند کی جاتی تھی اور کئی خاندان والے اسے اپنی بہو بنانے کا سوچا کرتے تھے،کہ درمیان میں ایک موڑ ایسا آیا کہ سب کچھ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ خاندان کی ایک شادی میں شاہد نے نجمہ کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا، وہ آسمان سے اتری کوئی اپسرا لگ رہی تھی، بس یہیں سے نجمہ کے برے دنوں کا آغاز ہوا۔ ایک خاندان کے فرد ہونے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے بخوبی واقف تھے، لہذا شاہد کو بات بڑھانے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا، نجمہ شروع شروع میں ذ را ہچکچائی مگر گھر والوں کی آنکھیں بند دیکھ کر اس نے بھی پیش قدمی شروع کردی ، یوں جانتے بوجھتے وہ ایک تکلیف دہ اور گھناﺅنی زندگی کی طرف بڑھنے لگی۔ شاہد نے جب دیکھا کہ میدان بالکل ہی صاف ہے تو خوب کھل کر کھیلنے لگا، کبھی پکنک، کھبی پارٹی، کبھی ہوٹلنگ اور کبھی فارم ہاﺅسز میں قیام اس نے اپنی دولت کے بل بوتے پر دن عید اور راتیں شبرات بنائی ہوئی تھیں، اپنے بناﺅٹی رویوں میں وہ خود کو ہر وقت فرشتہ ثابت کرنے میں لگا رہتا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے پوری دنیا میں اس سے زیادہ با اخلاق، تہذیب یافتہ، خیال رکھنے والا اور غم گسار شاید ہی کوئی اور ہو۔ نجمہ کے گھر والوں کو لگ رہا تھا کہ سب کچھ بالکل ٹھیک جا رہا ہے مگر شاید یہ ان کی غلط فہمی تھی یا وہ شاہد کو سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے، شاہد کا یہ اصول تھا کہ وہ بھول کر بھی کسی پر احسان نہیں کرتا تھا، اور اگر کردیتا تھا تو اس کا معاوضہ کسی نہ کسی صورت میں ضرور وصول کرتا تھا۔ اس بات کا احساس نجمہ کے گھر والوں کو اس وقت ہوا جب شادی سے پہلے اس نے جہیز میں خاص قسم کی فرمائشوں کی فہرست نجمہ کے گھر والوں کے ہاتھ میں تھما دی۔ جبکہ نجمہ کے گھر والے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ شاہد کیوں کہ بہت دولتمند ہے تو وہ جہیز لینے سے ہی منع کردے گا مگر یہ ان پر حیرت کا پہلا حملہ تھا جو بہت ہی غیر متوقع اور ناگہانی تھا، مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا، مرتے کیا نہ کرتے، مل ملا کر اور مانگ تانگ کر جیسے تیسے عزت بچائی اور بیٹی کو رخصت کیا۔
شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی شاہد کی خصلتیں نجمہ پر کھلنے لگیں، سب سے بڑھ کر وہ انتہا سے زیادہ انا پرست ، بد دماغ اور گھمنڈی تھا، اسے اپنے اور نجمہ کے طبقاتی فرق کا ہر وقت بہت زیادہ احساس رہتا تھا، وہ نجمہ کی غربت پر طنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا جو نجمہ کی روح تک کو چھلنی کرجاتا تھا مگر حالات کی وجہ سے مجبوراً کڑوا گھونٹ پی کر گزارہ کر رہی تھی، کہ اس جرم میں وہ خود بھی برابر کی شریک تھی۔
وقت گزرتا گیا دس سال میں پانچ بچے ہوگئے تو ماں کی حیثیت سے نجمہ اور مجبور ہوگئی، مگر شاہد کی فطرت نہ بدلنی تھی نہ بدلی ، بلکہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا زیادہ تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہوتا گیا، اب وہ بات بات پر نجمہ کی تذ لیل و تضحیک کرتا رہتا تھا کہ وہ غریب گھرانے سے اتنے بڑے گھرانے میں بیاہ کر آئی تھی۔ اگر وہ جواب میں کبھی کچھ کہہ دیتی تو وہ بلا تامل اور کسی کی موجودگی کا لحاظ کئے نجمہ پر ہاتھ اٹھانے سے بھی نہیں چوکتا تھا۔ یہ ایک اور نہایت ہی تکلیف دہ صورتحال تھی جس سے آخر تنگ آکر نجمہ نے اپنے والدین کو آگاہ کیا، اور آج انہوں نے شاہد کو بلایا تھا کہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں کہ معاملہ کہاں گڑبڑ ہے، مگر وہ تو ایک دم ہتھے سے ہی اکھڑ گیا کہ میں تم لوگوں سے بات کروں؟
تم لوگوں کی حیثیت کیا ہے جو میرے برابر بیٹھ کر مجھ سے سوال جواب کرو۔ میں ابھی کے ابھی تمہاری بیٹی کو طلاق دے کر فارغ کر دوں گا۔ یہ میرا احسان ہے کہ تم جیسے غرباء کے ساتھ رشتہ داری کرکے نبھا بھی رہا ہوں۔ نجمہ کے گھر والوں کو آج اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے کیسے انسان کو اپنی اتنی پیاری بیٹی سونپ دی تھی۔ انہوں نے جیسے تیسے شاہد کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ کچھ بھی سننے کو تیار ہی نہ تھا، نہایت ہی تکبر کے ساتھ اٹھا اور یہ کہتا ہوا نکل گیا کہ میں اسے یہیں چھوڑے جا رہا ہوں دماغ درست ہوجائیں تو لے کر آجانا ورنہ میں اپنا فیصلہ عدالت کے ذریعے بھیج دوں گا۔ نجمہ سمیت سب گھر والے ہکا بکا بیٹھے تھے اور وہ جا چکا تھا۔
شاہد کے جانے کے بعد نجمہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی، وہ سوچنے لگی کہ کیا واقعی وہ محبت تھی جو اس نے اور شاہد نے ابتدائی دنوں میں کی تھی یا محض ایک دھوکہ تھا جو وہ ایک دوسرے کو دے رہے تھے، شاہد اس کا حسن حاصل کرنے کیلئے اور وہ اس کی دولت حاصل کرنے کیلئے ، ورنہ پیار کرنے والے ایک دوسرے کی بے عزتی نہیں کرتے، مگر یہاں تو وطیرہ ہی یہی تھا کہ دوڑے چھوٹے کسی بھی طرح تذ لیل کی جائے اور تشدد کیا جائے۔ اس طرح کے دکھ دینے والے مسلسل خیالات نے اسے ذہنی مریض بنا دیا تھا اور وہ بہت ہی ٹھوڑے وقت میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئی تھی، شاہد کی طرف سے کوئی رابطہ نہ تھا، گھر والوں نے اسے ہسپتال میں دکھایا تو انہوں نے کہا کہ ان کی حالت تو بہت خراب ہے انہیں فوری داخل کرنا پڑے گا۔ آخر کار اسے ہسپتال میں داخل کرادیا گیا، ڈاکٹرز نے کہا کہ دعا کیجئے ان کو دل کی نہایت ہی مہلک بیماری لاحق ہے، جانبر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں لگتا کچھ یوں ہے جیسے انہیں کوئی غم اندر ہی اندر کھا رہا ہے۔ نجمہ کی طبیعت ہسپتال آنے کے بعد مز ید بگڑ تی چلی گئی، اب واضح طور پر لگ رہا تھا کہ وہ نہیں بچے گی۔ تو ایک دن اس نے اپنے بھائیوں اور والد سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد شاہد کو نہ میرا منہ دکھا نا اور نہ ہی اسے میرے جنازے میں شرکت کرنے دینا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker