پاکستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں امریکی رپورٹ مسترد کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ رپورٹ ناقص ہے اور اس میں حقائق کے خلاف معلومات شامل ہیں۔ البتہ وزارت خارجہ کی ترجمان نے اپنے بیان میں ان غلطیوں کی نشاندہی نہیں کی جو ناجائز طور سے امریکی رپورٹ میں شامل ہیں۔
وزارت خاجہ نے الزام لگایا ہے کہ رپورٹ کی تیاری میں جو طور طریقہ کار اختیار کیا گیاہے، وہ معروضی نہیں اور اس میں کئی سقم پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ رپورٹ میں غیر جانب داری سے کام نہیں لیا گیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ایجنڈا کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکی رپورٹ میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی بات تو کی گئی ہے لیکن غزہ اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جیسے خطوں میں ہونے والی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے یا ان کی شدت کو گھٹا کر بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ صرف سیاسی محرکات کی بنا پر جاری ہونے والی رپورٹ ہی میں غزہ جیسے انسانی المیے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ،جہاں 33 ہزار سے زائد شہریوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ غزہ کی صورتِ حال پر امریکہ کی خاموشی اس رپورٹ کے بیان کردہ مقاصد کے منافی ہے۔
غزہ اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اعتراضات درست ہوسکتے ہیں اگرچہ امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے غزہ کی صورت حال کا معاملہ مسلسل اسرائیلی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ گو کہ یہ بھی واضح ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت امریکہ کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں کسی قرارداد کی حمایت نہیں کی اور جس ایک قرار داد کو ویٹو کرنے سے گریز کیا گیا، اس پر عمل کرانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا کوئی امریکی ہتھکنڈا بھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔بلکہ حال ہی امریکی کانگرس نے اسرائیل کو17 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا بل منظور کیا ہے۔ ایک محدود علاقے میں نہتے لوگوں کے خلاف جنگ جوئی میں مصروف کسی ملک کو اگر امریکہ دفاعی امداد اور اسلحہ و بارود فراہم کرے گا تو بادی النظر میں اسے انسانی حقوق کا ذکر کرنا زیب نہیں دیتا۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر امریکی رپورٹ مسترد کی ہے۔ لیکن غزہ یا مقبوضہ کشمیر میں صورت حال کے حوالے سے امریکہ کی جانبدارانہ پالیسی کی نشاندہی کرنے سے پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی اور ماورائے عدالت سلوک کی دلیل فراہم نہیں کرسکتی۔ اصولی طور پر اگر پاکستان میں ایک منتخب حکومت کام کررہی ہے تو یہ امریکہ یا کسی دوسرے ملک و ادارے کو جواب دہ ہونے کی بجائے سب سے پہلے اپنے عوام کو جواب دہ ہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اقتدار سنبھالنے والی کوئی حکومت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر قانونی سلوک کوقبول نہیں کرسکتی اور فوری طور سے اس کی روک تھام کے لیے اقدام کا عہد کرنا چاہئے۔
گزشتہ دنوں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں لاپتہ افراد کے معاملہ پر کمیٹی بنانے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کا عزم ضرور ظاہر کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسے چالیس سال پرانا مسئلہ قرار دے کر اس نازک مسئلہ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ وزیر اطلاعات نے تو یہ تقاضہ بھی کیا کہ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے، اس لئے عدالتوں کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ اس طرز عمل سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت صورت حال کو جوں کی توں رکھنا چاہتی ہے بلکہ یہ بھی چاہتی ہے کہ عدالتوں میں گاہے بگاہے اس حوالے سے ججوں کے ریمارکس کی صورت میں انسانی حقوق پامال کرنےکی جو نشان دہی کی جاتی ہے، اسے بھی ختم ہونا چاہئے۔ حالانکہ اگر حکومتی نمائیندے تسلیم کرتے ہیں کہ ملک میں شہریوں کو اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت ہی اس مسئلہ کو حل کرنے کی ذمہ دار ہے تو وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملانے اور پارلیمنٹ کے ارکان کو کمیٹی میں شامل کرنے کی بات کیوں کر کرسکتی ہے۔
حکومت کے پاس تمام انتظامی اختیارات ہیں۔ ملک کا وزیر اعظم دیکھ رہا ہے کہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور اس میں حکومت کے زیر نگران ادارے ملوث ہیں۔ تو وہ ایک حکم نامہ کے ذریعے ان طریقوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس کی بجائے حکومت توجیہات دینے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عذر تراشی سے کام لیتی ہے۔ اب امریکی رپورٹ کے حوالے سے بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ یہ تو درست ہے کہ امریکی پالیساں تضادات کا شکار ہیں اور امریکی حکومت کے بیشتر فیصلے سیاسی ضروریات کے تحت ہی کیے جاتے ہیں۔ اس لیے انسانی حقوق کے بارے میں رپورٹ کو بھی درحقیقت اسی مقصد سے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے کسی ملک کے لیے دوسرے ملک کی کوتاہیوں اور غیر منصفانہ طریقوں پر انگلی اٹھا کر اپنی کمزوریوں سے انکار کرنا بھی جائز طریقہ نہیں ہوسکتا۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے 22 اپریل کو انسانی حقوق سے متعلق رپوٹ برائے 2023 جاری کی تھی جس میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے حقوق کی پامالی میں ملوث افراد کے خلاف کسی احتساب یا اقدامات کے فقدان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ میں پاکستان میں 2023 میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی کے متعدد مسائل کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حکومت یا اس کے ایجنٹوں کی طرف سے ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک، من مانی حراستیں، سیاسی بنیادوں پر گرفتاریاں، آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی پر سنگین پابندیوں جیسے نکات شامل ہیں۔
یہ تو مانا جاسکتا ہے کہ امریکہ جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوتا ہے اور جو اپنے قریب ترین حلیفوں اسرائیل اور بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کی کوئی مؤثرکوشش نہیں کرتا، اسے کس طرح پاکستان کی صورت حال میں نقائص نکالنے کا حق دیا جاسکتا ہے؟ لیکن اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ اگر پاکستان میں انسانی حقوق ، سیاسی آزادیوں اور آزادی اظہار کی صورت حال اطمینان بخش ہو تو دوست دشمن کسی بھی ملک کو کوئی بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ بدقسمتی سے پاکستانی حکومت اعتراضات کو مسترد کرنے میں تو مستعد ہوتی ہے لیکن انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے میں سرگرم دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی بجائے یہ دعویٰ کرنا کافی سمجھا جارہا ہے کہ ’ پاکستان اپنے آئینی دائرہ کار اور مقامی اخلاقی اصولوں کے مطابق حقوقِ انسانی کے عالمی ایجنڈے کی پاسداری اور اس کے فروغ کے لیے کوشاں ہے‘۔
مہذب دنیا میں کہیں بھی اپنے ہی شہریوں کے حقوق پامال کرتے ہوئے انہیں لاپتہ کرنے یا سال ہا سال تک عقوبت خانوں میں بند رکھنے کا طریقہ قبول نہیں کیا جاتا لیکن پاکستانی حکومت مانتی ہے کہ اس قانون شکنی میں ریاستی ادارے ملوث ہوسکتے ہیں تاہم وہ ان کا ہاتھ تھامنے کا حوصلہ نہیں کرتی۔ امریکی رپورٹ میں پاکستان پر دوسرے ممالک میں مقیم افراد کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور انہیں ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ یہ وہی الزام ہے جو پاکستانی حکومت بھارت پر عائد کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہی سیکرٹری خارجہ امور نے بھارتی ایجنسی پر پاکستان میں دو شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بھارت پاکستانی شہریوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہے۔ لیکن اگر پاکستان خود اپنے ہی شہریوں کو دوسرے ممالک میں نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہتاہے تو وہ کس منہ سے ہمسایہ ملک کو ایسے ہی مجرمانہ فعل پر مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ یہ تو وہی صورت حال ہوگی جس کی پاکستان نے امریکہ کے دوہرے معیار کے حوالے سے نشان دہی کی ہے۔
امریکی رپورٹ میں لاپتہ افراد کے علاوہ سانحہ 9 مئی کے حوالے سے شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے اور عمران خان سمیت سیاسی کارکنوں و لیڈروں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے جواب میں ان دونوں معاملات پر کوئی مدلل جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس طرح پاکستانی حکومت کا جواب محض ایک رسمی کارروائی اور پاکستانی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے طریقے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بلکہ پاکستانی عوام تو خود ان سرکاری زیادتیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، وہ کیسے وزارت خارجہ کے جواب یا تردید سے کوئی راحت محسوس کرسکتے ہیں؟
پاکستان میں انسانی حقوق کی ابتر صورت حال کی نشاندہی امریکی رپورٹ میں ہی نہیں کی گئی جس پر پاکستانی وزارت خارجہ نے جانبداری اور دوہرے معیار کا الزام لگایا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان پر اسی قسم کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی 25 تنظیموں اور 220 افراد کو انسانی حقوق کے معاملات میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کے شبہ میں حکومت پاکستان اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا رہا۔ ان لوگوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں مسلسل قانونی کارروائیوں، قید و بند، سفری پابندیوں اور دیگر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کو ضرور دوسرے ممالک کی طرف سے پاکستان پر تنقید یا یہاں کے حالات کے بارے میں متعصبانہ رویہ پر احتجاج کرنا چاہئے لیکن تنقید کا جواب دیتے ہوئے اصلاح احوال پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ جیسا کہ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مواصلت میں انسانی حقوق کا معاملہ ہمیشہ ایجنڈے پر ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی وفود کو عالمی اداروں سے مالی امداد کی کوششوں کے دوران بھی ایسے ہی تیکھے اور مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پریشان کن اور تکلیف دہ صورت حال ختم کرنے کے لیے ملک میں جمہوری ماحول کی حوصلہ افزائی ، آزادی رائے اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے عملی اور دوررس اقدامات ضروری ہیں۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

