جاہل کا ہر فیصلہ نقصان دہ ہوتا ہے چاہے وہ بظاہر فائدہ مند ہی کیوں نہ لگ رہا ہو، عمران خان نے بلاول بھٹو کے مارچ سے خوفزدہ ہو کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جون کے مہینے تک ایک جگہ منجمد کرنے کا بے سر و پا اعلان کیا۔۔ اس اعلان سے لیکر آج تک انٹرنیشنل مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تین بار تبدیل ہو چکی ہیں لیکن پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات ایک ہی قیمت پر جامد ہیں آج اوگرا نے وزیر اعظم کو 55 روپے پیٹرول اور 68 روپے ڈیزل کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی ہے جو مسترد کر دی گئی عمران خان اس وقت بھی جانتے تھے کہ جب انہوں نے قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا کہ وہ اب چند دن کے مہمان ہیں لہٰذا انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ آنے والی حکومتوں کے لیے یہ احمقانہ فیصلہ پیٹرول بم بن کر گرے، اب ہو گا یہ کہ جیسے ہی یہ حکومت کرے گی تو آنے والوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر صورت بڑھانا پڑیں گی اور کچھ نہیں کچھ نہیں بیس سے تیس روپے کی بڑھوتری سے آنے والوں کے لیے مسائل اور عوامی مخالفت کا طوفان کھڑا ہو جائے گا اور تب عمران خان کی قیادت میں گالم گلوچ برگیڈ وہی بکواس کرے گی جو پرویز مشرف کی باقیات کیا کرتی تھی کہ ہم تو اتنا مستحکم پاکستان چھوڑ کر گئے تھے ان چوروں نے پھر برباد کر دیا ….
یہی پرویز مشرف اپنے دور میں بجلی کے ساتھ کر کے گیا تھا نو سال میں قوم کے رکھوالے نے ایک یونٹ بجلی نہیں بنائی اس کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو لوڈ شیڈنگ ایک بھوت کی شکل اختیار کر چکی تھی اور پرویزئیے کہتے تھے کہ ملک پیپلز پارٹی نے برباد کر دیا پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے دس سال لگا کر اس ملک سے لوڈ شیڈنگ کی خاتمہ کیا اب یہ پرویز مشرف ثانی آ گیا ہے اب جب جا رہا ہے تو ملک ویسے ہی فریکچر ہے جیسے 1970, 1988 اور 2008 میں تھا اور اطلاعات کے مطابق اس وقت چونکہ تمام وزیر اپنی اور عمران خان کی کرسی بچانے میں لگے ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے تیل کی خریداری نہیں کی گئی اور ایک بار پھر سسٹم میں بجلی کم ہے اور اس سال گرمیوں میں چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ متوقع ہے اور اسکا کل الزام اس اپوزیشن پر آئے گا کہ جو مشقت کر کے اس ہائیبرڈ سسٹم سے ملک کو کھنچ کر باہر لا رہی ہے …..
یہ پوسٹ میں نے ریکارڈ کے لیے کی ہے تاکہ کل جب آپ تیل کو مہنگا ہوتے دیکھیں تو اپوزیشن گالی دیتے وقت تمام صورتحال آپ کے سامنے رہے۔
فیس بک کمینٹ

