2018 انتخاباتتجزیےعلی نقویلکھاری

ننانوے والا نواز شریف اور عمران خان کا انجام ۔۔ علی نقوی

الیکشن سر پر ہیں (ویسے تو سمجھیے ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی جیت بھی چکی ہے) گہماگہمی کی سطح اور نوعیت دونوں سابقہ الیکشنز سے مختلف ہے ۔ اگر میں یادداشت پر زور ڈالوں تو 1997 کا الیکشن وہ پہلا الیکشن تھا کہ جو مجھے اچھی طرح یاد ہے تب سے لیکر آج تک جب بھی الیکشن ہوئے ایک میلے کا سماں ہوتا تھا یہاں تک کہ 2013 کا الیکشن بھی ایک جاندار الیکشن تھا حالانکہ بائیں بازو کی سیاست کرنے والی جماعتوں کے لیے مشکلات تھیں ۔ لیکن جو اس بار ہو رہا ہے وہ عجیب ہی نہیں تشویش ناک بھی ہے یہ معاملہ یک رخی نہیں ہے اس کے کئی پہلو ہیں جن پر ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف قسم کے تحفظات ہیں، جہاں ایک طرف ہارون بلور اور سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے سکیورٹی فورسز، نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں وہیں الیکشن مہم میں رکاوٹیں ڈالے جانے کا گلہ سوائے پی ٹی آئی کے تقریباً ہر جماعت کر رہی ہے نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ انٹرنیشنل میڈیا بھی یہ تاثر دے رہا ہے کہ عمران خان کو خاص رعایت دی جارہی ہے آجکل کی اصطلاح میں خان صاحب اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے کے طور پر سامنے آئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم بھی زوروں سے جاری ہے لیکن ان کو بھی خاصی مشکلات کا سامنا ہے کئی شہروں میں (جہاں خان صاحب نے پوری طاقت دکھائی) بلاول کو جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، مسلم لیگ ن اس حوالے سے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے میاں نواز شریف کی آمد کے موقع پر لاہور شہر میں نکالی گئی ریلیوں کا پاکستانی میڈیا نے مکمل بلیک آؤٹ کیا، جیو نیوز جو کہ کل تک نواز شریف اور ن لیگ کا حامی چینل سمجھا جاتا تھا اس کے پروگرام نیا پاکستان کے میزبان معروف صحافی طلعت حسین کا سوشل میڈیا میں ایک کلپ وائرل ہوا جس میں وہ ن لیگ کی ریلی کو ایک کامیاب ریلی قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جب ن لیگ کے ورکر ان سے کہتے ہیں کہ اس کو رپورٹ بھی کیجیے گا تو طلعت حسین کہتے ہیں کہ رپورٹ تو تب کروں جب کرنے دیا جائے اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پروگرام جیو کی انتظامیہ نے نہیں چلنے دیا اور طلعت حسین نے اس کو یو ٹیوب سے نشر کیا اور اس معاملے کو لے کر طلعت حسین اور جیو ٹی وی کی انتظامیہ میں اختلافات کی خبر بھی سامنے آئی۔
یہاں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا مقتدر ادارے عمران خان کو ایک صاف راستہ فراہم کر رہے ہیں؟ کیا آج ہیوی مینڈیٹ ممکن ہے؟ کیا سب کچھ اداروں کی منشا پر منحصر ہے؟ کیا عمران خان میں ان حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کو جھیلنے کی صلاحیت موجود ہے؟ ان سوالات کے جواب ہر کوئی اپنی بصیرت اور سیاسی وابستگی کو سامنے رکھتے ہوئے دے گا لیکن کچھ چیزیں نوشتہ دیوار ہیں ایک بات ثابت ہوچکی ہے کہ نواز شریف اور ن لیگ مزاحمت کے لیے پوری طرح تیار ہیں ساری مخالف پارٹیوں اور اسٹیبلشمنٹ کا اندازہ یہی تھا کہ نواز شریف واپس نہیں آئیں گے لیکن انہوں نے واپس آ کر سب اندازے غلط ثابت کر دیے اس سے دو کام ہوئے ایک یہ کہ تمام مخالفین کو مایوسی ہوئی اور ن لیگ کے مایوس ورکر اور بیانیے (کہ جس کا کل تک مذاق اڑایا جاتا تھا ) کو تقویت ملی، ایک واضح بوکھلاہٹ اور بے چینی خصوصاً عمران خان کی تقاریر میں نظر آنے لگی ہے بے بنیاد الزامات لگانے میں تو پی ٹی آئی اور عمران خان اپنا ثانی پہلے بھی نہیں رکھتے تھے اب معاملہ مغلظات تک آ پہنچا ہے عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران ن لیگ کے ان ورکرز کو گدھا کہہ دیا جو نواز شریف کے استقبال کو ائرپورٹ جانے کے لیے باہر نکلے تھے جہاں ایک طرف یہ بات عمران خان کی تہذیب سے عاری پرورش کا منہ بولتا ثبوت ہے وہیں ان کی جھنجلاہٹ کی واضح نشانی بھی ہے، اس بات سے انکار تقریباً نا ممکن ہے کہ مقتدر حلقوں کی تائید اس وقت عمران خان کو نسبتاً زیادہ حاصل ہے لیکن آپشن سب کے کھلے رکھے گئے ہیں، بات چیت سب سے چل رہی ہے، بہت کچھ ایسا ہے جو ابھی بھی عمران خان حق میں نہیں ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ عمران خان کا وہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے کہ جو کسی کو بھی انہیں سیریس لینے سے روکتا ہے چاہے وہ کوئی دانشور ہو، شاہ محمود قریشی ہوں، عام ووٹر ہو یا اسٹیبلشمنٹ۔
عمران خان، پی ٹی آئی کے رہنما اور ورکرز ہر اس قوت اور شخص جو ان کے لیے خطرہ ہے کے بارے میں جس زبان پر اتر آئے ہیں وہ خود پی ٹی آئی کو بہت نقصان پہنچائے گی، پرویز خٹک نے جو بیان پیپلزپارٹی کے ورکرز کے بارے میں دیا وہ اتنا شرم ناک تھا کہ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پرویز خٹک نے اپنی عمر، سابقہ وابستگی اور عہدے، علاقائی روایات کسی بھی چیز کا خیال نہیں رکھا یہ زبان سن کر کوئی بھی یہ سوچے گا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جو نیا پاکستان بنانے نکلے ہیں؟ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں کوئی ایک واقعہ ہو تو انسان اس کو نظر انداز بھی کر دے یہاں تو ایک سلسلہ ہے بدتمیزی کا نیشنل ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر نعیم الحق نے دانیال عزیز کو تھپڑ دے مارا، فواد چوہدری نے طلال چودھری کی ولدیت پر سوال اٹھا دیا، خود عمران خان نے سیاسی ورکرز کو گدھا کہا پرویز خٹک نے پیپلز پارٹی کے ورکرز کو طوائف کی اولادوں سے تشبیہ دی لیکن کسی قسم کی مذمت یا شرمندگی تو درکنار پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اور انکی دیکھا دیکھی ورکرز بھی ان تمام حرکات کو ڈیفینڈ کرتے نظر آتے ہیں اس ساری صورتحال سے اگر کوئی یہ نتیجہ اخذ کرے کہ یہ پی ٹی آئی کا کلچر ہے تو غلط نہ ہوگا۔ عمران خان کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو یہ بو رہے ہیں جلد ہی کاٹ لیں گے یہی ورکر جب کل عمران خان سے مایوس ہوگا تو اس سے بڑھ کر گھٹیا زبان ان کے بارے میں بھی استعمال کرے گا یہی پی ٹی آئی تھی جو کل تک ریحام خان تو مادرِ ملت کہتی اور سمجھتی تھی لیکن آج جب جو زبان پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور ورکرز کی ریحام کے بارے میں ہے وہ نا قابل بیان ہے، ابھی کل ملتان کے احمد حسن ڈیہڑ نے ٹکٹ نہ ملنے پر اپنے اُن ورکرز کے ساتھ بنی گالہ کے باہر دھرنا دیا جو عمران خان کو ہیرو مانتے ہیں اور ہم نے دیکھا کہ عمران خان کو گھٹنے ٹیکنے پڑے یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ یہ تو ابھی پی ٹی آئی کے ورکرز تھے تو عمران خان سے پریشر برداشت نہیں ہوا کل جب ن لیگ، اور مولانا فضل الرحمن باہر نکلیں گے اور ریلیوں کو عابد شیر علی، رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف جیسے لوگ لیڈ کریں گے تو خان صاحب کا کیا حال ہوگا؟ اور کیا ہی اچھا ہو کہ پیپلز پارٹی بھی شو جوائن کرے۔
عمران خان کا مسئلہ صرف ایک ہے کہ وہ ایک غیر سیاسی آدمی ہیں سیاسی بصیرت ان کو چھو کر نہیں گزری جو آدمی کل تک الیکٹیبلز کو ہانکے جانے والے جانور کہتا تھا آج الیکٹیبلز کی تعریف یہ بیان کرتا ہے کہ جن کو الیکشن لڑنے کی سائنس آتی ہو کل تک اس آدمی کے نزدیک پاکستان میں الیکشن جیتنے کی سائنس دھاندلی اور پیسے کا استعمال تھا اور آج کہتا ہے کہ انکی شکلیں نہ دیکھیں مجھے ووٹ دیں تو خان صاحب ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر آپکی شکل دیکھ کر ہی ووٹ دینا ہے تو ان جانوروں کی کیا ضرورت تھی؟ مطلب آپ نے مان لیا کہ اب آپ ہر وہ کام کریں گے جو الیکشن جیتنے کے لیے باقی جماعتیں کیا کرتی ہیں یا شاید اس سے بھی آگے کیونکہ آپ متواتر ایک بات کر رہے ہیں کہ یہ الیکشن ہم نے ہر قیمت پر جیتنا ہے پاکستان میں ہر قیمت پر کا کیا مطلب ہوتا ہے ہم سب جانتے ہی ہیں، کونسا فرق ہے جو رہ گیا ہے پی ٹی آئی اور باقی جماعتوں میں فنانشل کرپشن کی داستان جو سلیم صافی نے اپنے شو میں سنائی ہے ہوش ربا ہے کہ خیبر پختون خوا ہاؤ س اسلام آباد کا تین سال کا بجٹ بیس کروڑ سینتالیس لاکھ چوراسی ہزار روپے تھا اور یہ ابھی تین سال کا بجٹ تھا وہ بھی صرف ایک ہاؤ س کا درجنوں ایسی رسیدیں ہیں کہ جس میں پرویز خٹک، اسد عمر، جہانگیر ترین، شیریں مزاری وغیرہ کے لیے بک کیے گئے کمروں اور چائے پانی کا بل دو دو لاکھ روپے ہے لیکن کمال ڈھٹائی ہے کہ آج بھی خان جہاں کھڑا ہوتا ہے دوسروں پر کرپٹ ہونے کا الزام لگاتا ہے لیکن مجال ہے کہ اپنے یا اپنے کسی دوست کے کسی کرتوت کا جواب دے. یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ عمران خان کو بلکل اسُی طرح قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے کہ جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے ستانوے کے الیکشن میں نواز شریف کو قوم پر مسلط کیا گیا تھا لیکن فرق صرف یہ ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی وہ غلطی نہیں دہرائے گی کہ وہ واضح اکثریت کسی ایک جماعت کو دے دے اور خان کا انجام ننانوے والے نواز شریف سے بھی برا ہوگا کیونکہ نواز شریف کے پاس اسٹیبلشمنٹ کو آفر کرنے کے لیے بہت کچھ تھا جبکہ خان صاحب کے پاس اکثر بنی گالہ کے یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker