انسانوں کے اندر عمومی طور پر ایک دوسرے کے لیے جذبہء ہمدردی موجود ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر انسانوں کی اکثریت بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ میں اپنے شعبے کی مثال دوں گا کہ دنیا بھر میں 90 فیصد سے زیادہ بچے قابل علاج سرطانوں سے سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگ ان سرطانوں کے علاج کے لیے قائم ہونے والے مراکز کو دل کھول کر خیرات دیتے ہیں۔ پاکستان میں شوکت خانم کینسر ہسپتال، انڈس ہسپتال اور دوسرے خیراتی ہسپتال سرطان سے متاثرہ بچوں کی تصاویر لگا کر ان کے علاج کے لیے چندہ، خیرات یا زکوٰۃ مانگنے کی مہمات چلاتے ہیں ۔ یہ مہمات رمضان اور بقرعید کے مہینوں میں شدت سے چلائی جاتی ہیں کیونکہ ان مواقع پر لوگ مذہبی بنیادوں پر ثواب کی نیت سے زیادہ پیسے دیتے ہیں۔
پچھلے دنوں میں ایک قومی ورکشاپ میں گیا تو وہاں موجود عالمی ادارہ صحت کے ایک کارکن نے کہا کہ ہمیں سرطان زدہ بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر بچانا چاہیے کیونکہ اس سے مستقبل کی لیبر مارکیٹ میں اضافہ ہو گا ۔ بچوں کو مرنے سے بچانے کی یہ منطق ترقی یافتہ ملکوں کے لیے تو درست ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں اس منطق کے تحت ان بچوں کو بچا لیا گیا تو آبادی اور بےروزگاری دونوں میں اضافہ ہو گا اور یہ بچے قومی معیشت پر بوجھ بن جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دنیا کے 90 فیصد غریب بچوں کو غربت، جنگ اور بیماری سے مر ہی جانا چاہیے۔
دنیا کا سیاسی اور معاشی نظام جو بھی ہو انسانوں کی اکثریت خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو یہی چاہے گی کہ تمام انسانوں کو تمام بنیادی سہولیات مہیا ہونی چاہییں۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ایسا ممکن ہے؟ سرمایہ داری یا "فری مارکیٹ” کے کچھ لگے بندھے اصول ہیں جن کے مطابق ہر انسان پیسہ کمانے کی جدوجہد کرنے کے لیے آزاد ہے۔ وہ اچھی تعلیم اور کسی بھی طرح سے روزگار حاصل کر کے اس قابل ہو سکتا ہے کہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔ انسانوں کی ہمدرد خیراتی غیرحکومتی تنظیمیں ہمیں یہ درس دیتی نظر آتی ہیں کہ ہمیں تعلیم عام کرنی چاہیے تاکہ غریب عوام اپنی قابلیت کی بنا پر روزگار حاصل کر سکیں یعنی لیبر مارکیٹ میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح یہ تنظیمیں صحت کی سہولیات سب تک پہنچانے کی بات بھی کرتی ہیں۔آبادی کم کرنے کا نعرہ بھی بکثرت لگایا جاتا ہے. مخیر حضرات یا "چیمپینز” کو مرکز نگاہ بنانے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ مذہبی رہنما بھی مالی امداد کے ذریعے انسانوں کے دکھ کم کرنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں ۔غیرسرکاری خیراتی تنظیمیں ہوں یا مذہبی رہنما، یہ سب ایک بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا سائنسی، معاشی اور سیاسی نظام موجود نہیں ہے جو انسانی دکھوں کا مداوا کر سکے اس لیے ہم صرف جذبہء ہمدردی کے ذریعے انسانی تکالیف کو کم کر سکتے ہیں۔
دور جدید میں انسانوں نے ستاروں پر کمندیں ڈال دی ہیں۔ کم و بیش ہر جسمانی اور نفسیاتی بیماری کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے۔سائنس کا سفر ہر گزرتے دن کے ساتھ تیز تر ہوتا جارہا ہے۔ انٹرنیٹ نے معلومات کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔غرض یہ کہ انسانی ارتقاء کا سفر اپنی معراج کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ ایسے میں یہ بات کرنا کہ ہم کوئی ایسا نظام نہیں لا سکتے جو دنیا سے طبقاتی تقسیم کا خاتمہ کر دے انتہائی مضحکہ خیز ہے. درحقیقت انسان طبقاتی نظام زندگی کو غیرطبقاتی سماج سے بدل کر سیاسی اور سماجی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بات سرمایہ داری کے محافظوں کو سمجھ نہیں آتی یا شاید وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ اس ناسمجھی کے درپردہ یہ خوف ہو سکتا ہے کہ دنیا میں سوشلزم آ گیا تو ان کی دکان کیسے چلے گی۔ سوشلزم یا اشتراکیت کا مطلب محنت کرنے والوں کی حکومت ہے۔ دور جدید میں یہی وہ سائنسی نظام ہے جس کے ذریعے دنیا سے موجودہ طبقاتی سیاسی نظام کا خاتمہ ممکن ہے۔ جی ہاں سائنسی طور پر یہ ممکن ہے کہ دنیا بھر کے تمام انسان بلاتفریق تمام سہولیات اور جدید سائینسی ایجادات سے مستفید ہو سکیں ۔ انسانوں کا جذبہء ہمدردی اپنی جگہ قابل ستائش ہے لیکن یہ مسائل کا حل نہیں۔

