اسلام آباد: ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے بل پر تحریری طور پر اعتراض نہیں بھیجا تو یہ ان کی غلطی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدر کو بل پر اعتراض تھا تو وجہ لکھ کر بھیج دیتے، اگر صدر نے تحریری طور پر نہیں بھیجا تو میری نظر میں یہ ان کی غلطی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لگتا ہے صدر مملکت نے تحریری طورپرحکم نہیں دیا تھا، معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ صدرکا حکم کیوں نہیں مانا گیا۔
خیال رہےکہ 20 اگست کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ اللہ گواہ ہے میں نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے، میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے اتفاق نہیں کرتا، میں نے اپنے عملے کو کہا کہ بل کو بغیر دستخط کے واپس بھیجیں۔
بعد ازاں صدر مملکت نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات واپس کردی تھیں ، سیکرٹری کی تبدیلی کا فیصلہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ پر صدر کے بیان کے تناظر میں کیا گیا۔
ایوان صدر سیکرٹریٹ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو خط لکھ کر سیکرٹری کی تبدیلی کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
ایوان صدر کے خط میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی گریڈ 22 کی خاتون افسر حمیرا احمد کو صدر کا سیکرٹری لگانے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاہم حمیرا احمد نے انکار کردیا۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
فیس بک کمینٹ

