آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں پانچ چھ سو ایسے سرکاری ملازم بھی ہیں جو کبھی ریٹائر نہیں ہوتے؟ ملازمت میں آنے کے لیے سوائے کم عمری کے ان کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ چالیس، پچاس، ساٹھ برس کی عمر کے ہونے کے باوجود وہ حیرت انگیز ادارے میں شامل ہو کر تا عمر ملازمت کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے پڑھے لکھے ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ملازمت میں آنےکے بعد وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، سی ایس ایس کیے ہوئے دوسرے محکموں کے افسران کی جب چاہیں اچھی خاص کھچائی کر سکتے ہیں۔ اگرچاہیں توکھڑے کھڑے ان کی ٹوپی اتار سکتے ہیں۔ ان پانچ چھ سو بے انتہا طاقتور ملازمین کی کارکردگی کے بارے میں سالانہ مخفی رپورٹ Annual Confidental Report لکھی نہیں جاتی۔ وہ لوگ ادارے سے لمبے عرصے تک غائب رہنے کے باوجود کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہوتے۔ مجھے یقین ہے کہ ہر ایک پاکستانی کی طرح آپ اس ادارے اور ادارے کے طاقتور ملازمین سے واقف ہیں۔ میں آپ سے پہیلی بوجھنے کا نہیں کہہ رہا۔ میں جانتا ہوں کہ اس ادارے، اور ادارےکے ملازمین کے بارے میں آپ جانتے ہیں، بلکہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایک فوج کو چھوڑ کر وہ ہر ادارے پر حاوی ہوتے ہیں۔
طاقتور ادارے اور ادارے کے ملازمین کی سردست نشاندہی نہیں کرنا چاہتا۔ آپ ان کی کارکردگی سے واقف ہیں۔ مجھ جیسے کم فہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس طاقتور ادارے میں ملازمت کرنے کے لیے دو بنیادی اور اشد ضرورتوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے؟ اگر ہم کسی سرکاری ادارے میں ملازمت کے متمنی ہیں تو لازمی طور پرہم سے عمر، تعلیمی لیاقت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ مجوزہ ہدف سے کم ہونے کی صورت میں، ہماری درخواست مسترد کر دی جاتی ہے۔ ہم نے کلرک کی اسامی کے لیےدرخواست دی ہوتی ہے۔ کلرک بننےکے لیے واضح طور پر عمرکی حد اور تعلیمی لیاقت مقرر ہوتی ہے۔ مگر طاقتور ادارے میں شامل ہونے کے لیے کسی لیاقت کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ سوائے ایک حد کے۔ اگر آپ اٹھارہ برس کے نوخیز ہیں، تو پھر آپ اس قومی ادارہ میں ملازمت نہیں کر سکتے۔ اس کے برعکس اگر آپ ساٹھ ستر برس کے ہیں تو پھر آپ قومی ادارہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے۔ بوڑھا ہونے کے علاوہ آپ جوڑوں کے درد کے پرانے مریض ہیں۔ چل پھر نہیں سکتے۔ مگر قومی ادارے کے لیے فعال سمجھے جاتے ہیں۔ آپ ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتے۔ آپ ٹھیک سے سن نہیں سکتے۔ مگر قومی ادارےمیں شامل ہو کر آپ ملک چلا سکتے ہیں۔
مجھے لگ رہا ہے، کہ میں خود پہیلیاں بوجھ رہا ہوں۔ چلیے کھل کر بات کرتے ہیں۔ اظہار کی آزادی کو آزماتے ہیں۔ میں قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں جب آپ اسمبلی کے ممبر بنتے ہیں، تب اس اسمبلی میں آنے سے پہلے آپ سے فٹنس یعنی صحت مند ہونےکا سرٹیفکیٹ نہیں مانگتے۔ مگر جب آپ کسی محکمہ میں کلرک لگنے جاتے ہیں تب آپ سے فٹ نس سرٹیفکیٹ مانگا جاتا ہے۔ آپ کی کارکردگی کے بارے میں ہر سال مخفی رپورٹ لکھی جاتی ہے۔ جب آپ کلرکی کرتے کرتے ساٹھ برس کے ہو جاتے ہیں تب آپ کو ریٹائر کر دیا جاتا ہے۔ مگر جب آپ اسمبلی جا کر براجمان ہوتے ہیں تب آپ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔ شاہی تخت کی طرح اسمبلی کی سیٹ موروثی املاک کی طرح آپ کے بیٹوں، آپ کے پوتوں، آپ کے پڑپوتوں کو منتقل ہوتی رہتی ہے۔ صرف آپ اور آپ کی لائق فائق اولاد پاکستان کا نظام چلا سکتی ہے۔ آپ کی اس سوچ پر شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ووٹ دینےوالوں میں اتنی اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنا ملک سنبھال سکیں۔
ملک سنبھالتے ہیں ووٹ لینے والے۔ آپ بونگے کی بات سمجھ رہے ہیں نا؟
اسمبلیوں میں براجمان ہونے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا ایک نام یا ایک پہچان اور بھی ہے۔ وہ لوگ قانون ساز یعنی Law Makers کہلاتے ہیں۔ اس لیے اسمبلیوں کو قانون ساز اسمبلی بھی کہا جاتا ہے۔قانون ساز اسمبلیوں میں ایم این ایز اور ایم پی ایز ملک کے لیے قاعدے اور قوانین بناتے ہیں۔ پہلی مرتبہ بونگوں کو جب اس حقیقت کا پتہ چلا تھا تب آپ کی طرح وہ بھی حیران اور بعد میں پریشان ہوئے تھے، اور انہوں نے اپنے بال نوچ لیے تھے۔ بونگے ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے تھے کہ قانون بنانے کے لیےکیا تعلیم یافتہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟ کیا قانون سازی اس قدر آسان ہے؟ تب بونگوں کو علم ہوا کہ قانون ساز اسمبلیوں میں گنتی کے چند لوگ ایسے بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور قانون دان ہیں۔ وہ چند لوگ قانون سازی کرتے ہیں اور باقی لوگ ڈیسک بجاتےہیں۔ یاد رہے کہ قانون ساز اسمبلیوں میں تالی بجانےکی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کا ایک سبب ہے۔ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے جبکہ آپ ڈیسک ایک ہاتھ سے بجاتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے آپ وی یعنی وکٹری کا اشارہ Sign بناتے ہیں۔ تالی بجاتے ہوئے آپ اس نوعیت کے دو کام ایک ساتھ نہیں کر سکتے۔ تالی بجانے اور ڈیسک بجانے کا فلسفہ اب آپ کی سمجھ میں آگیا ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

