بڑھاپے میں بہت سے روگ ہمیں بن مانگے ملتے رہتے ہیں۔ ان پر آپ کا بس نہیں چلتا۔روگ چاہےکتنا ہی مہلک کیوں نہ ہو، آپ کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ آپ انکار نہیں کر سکتے۔ حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے، سب سے نامور فٹ بال ایڈسن آرنٹس نسیمینٹو کا انتقال ہوا ہے۔ یہ دنیا بھر میں پیلے کے نام سے مشہور تھے۔ اٹھاسی رس کے پیلے آنتوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔ برسہا برس کینسر سے لڑتے رہے۔ آخرکار ہار گئے۔
ہم نے بھی بن مانگے بڑھاپے کے بہت سے روگ پال رکھے ہیں۔ ایک روگ جو ہم عمر رسیدہ لوگوں میں عام ہوتا ہے، وہ ہے بھول جانے کا مرض۔ ہم راستے بھول جاتے ہیں۔ گلیوں اور محلوں کے نام بھول جاتے ہیں۔ مختلف اشیا کے نام آپس میں گڈ مڈ ہوجاتے ہیں۔
دماغی امراض کے ڈاکٹر فرماتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ ہمارے اعضا دل، دماغ، گردے وغیرہ کمزور پڑجاتے ہیں۔ڈاکٹرصاحبان فرماتے ہیں کہ دماغی کام کرنے سے، یعنی دماغ کو مشغول رکھنے سے دماغ بڑی حد تک کارآمد اور تخلیقی کام کرنے کے قابل رہتا ہے۔ میں نے ڈاکٹروں کی ہدایات پراپنی طرف سے حتیٰ الامکان عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں اپنے لیپ ٹاپ سے شطرنج کھیلتا ہوں۔ اخباروں سے معمہ حل کرتا ہوں۔ جاسوسی ناول اور کہانیاں پڑھتا ہوں۔ ریموٹ کنٹرولر سے چلنے والے کھلونے گاڑیوں، اور ہیلی کاپٹروں سے کھیلتا ہوں۔ سیاست کی گتھیاں سلجھاتا ہوں، میرا مطلب ہے گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان تمام تر مشقوں اور ریاضتوں کا مجھے کتنا فائدہ ہوا ہے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں گلی کوچوں اور راستوں کے نام نہیں بھولا۔مگرمجھے دوسرے قسم کا دماغی روگ لگ گیا ہے۔ اور بدبخت بڑھتا ہی جارہا ہے۔ میں اردو، سندھی اور انگریزی کی Spellingبھولتا جارہا ہوں۔ آپ جب فقیر کو دیکھیں گے، فقیر کو ڈکشنریوں میں گھرا ہوا پائیں گے۔ اسپیلنگ کو ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں ہجے، آپ املا بھی کہہ سکتے ہیں۔
ایک محاورے کو لے کر مجھے اپنی کتھا بیان کرنی ہے۔ محاورے کے مفہوم سے میں واقف ہوں، مگر محاورہ بذات خود مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔محاورہ سنیے ، ’’ جس کاکام، اسی کوساجھے۔‘‘ مطلب ہے کہ جو جس کاکام ہے، اسی کو وہی کام کرنے دیں۔ اس شخص کو دوسرے کسی کام میں مت جھونکیں۔سنا نہیں ہے آپ نے کہ سوسنار کی ، ایک لوہار کی۔ آپ لوہار سے سونے کے زیورات بنانے کا کام نہیں لے سکتے۔ سونے سے زیورات بنانے کاکام باریک بینی سے ہوتا ہے، مارتول اور ہتھوڑے مارنے سے نہیں ہوتا۔آپ الیکٹریکل انجینئرنگ کاکام مکینیکل یا سول انجینئرسے نہیں لےسکتے۔یہ اسباق ہیں جو ہمیں تجربات سکھاتے ہیں۔ آپ نے تجربہ کرکے دیکھ لیا۔ آپ نے ایک نامور کھلاڑی، سپر اسٹار کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ آپ نے عمران خان کی ایسی پذیرائی کی اس قدر بڑھا چڑھا کر اسکی پبلسٹی کی کہ کروڑوں پاکستانی اس خو ش فہمی کا شکار ہوگئے کہ عمران خان پاکستان کی ہچکولے کھاتی ہوئی سیاست کو سنبھال لیں گے۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ آپ نے عمران کو سیاسی گر اور دائو پیچ سکھائے تھے، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ گندی مچھلیوں کے تالاب میں ایک اچھی مچھلی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
ڈیگو میرا ڈونا کو کیوں کسی نے ارجنٹائن کی حکومت جھولی میں ڈالنے کی پیش کش نہیں کی تھی؟ کیوں محمد علی کلے کو امریکہ کا صدر بنانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی؟ـ کیوں کسی سیانے نے پہلے سنیل گواسکر اور بعد میں سچن ٹنڈولکر کو ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے کی کوشش نہیں کی تھی؟ جو جس کا کام اسی کو ساجھے۔ عمران خان کھیتی باڑی نہیں کرسکتا۔ امپورٹ ایکسپورٹ نہیں کرسکتا۔ ملک میں بند پڑی ہوئی اور بیمار صنعتیں چلانہیں سکتا۔عمران خان ملک کو اقتصادی اور معاشی بھنور سے نکال نہیں سکتا۔ یہ اس کے بس کا کام نہیں ہے۔ایک عام سی بات ہمیں یادرکھنی چاہئے۔ ہر شخص ہرفن مولا نہیں ہوتا۔ وہ پینٹر ہے، سنگر ہے، رائٹر ہے، باکسر ہے، ٹیچر ہے، سیاح ہے، معلم ہے، ایکٹر ہے، مسخرا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا ۔ ایک شخص سب کام کرنے کے ہنر نہیں جانتا۔میں نے آج تک ایسا شخص نہیں دیکھا جوڈاکٹر ہو، اور پلمبنگ کاکام بھی جانتا ہو۔ عمران خان کو جب بھی میں تقریر کرتے ہوئے سنتا ہوں اور اس کے لہجے ، باڈی لینگویج کو دیکھتا ہوں، الفاظ کے چنائو کا جائزہ لیتا ہوں تب مجھے لگتا ہے وہ تقریر نہیں بلکہ فاسٹ بالنگ، وہ بھی شارٹ پچ اور بائونسر بیٹس مین کے سرکو تاک کرپھینک رہا ہو۔ایسے شخص سے آپ سیاست کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟
آپ نے سیاست کی خاطر ایک سپر اسٹار کی بلی چڑھا دی ہے۔ دکھ ہوتا ہے جب نامور کھلاڑی پر چوری ، ہیرا پھیری، غبن، اربوں کے گھپلوں، فساد، بغاوت، تخریب کاری اور قتل اور غارت گری کےالزا م لگتے ہیں۔ عمران خان کی ذاتی اور نجی زندگی بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ جس طرح سونے کی کانیں ہم سے سنبھالی نہیں جاتیں۔ اسی طرح ایک عمران خان بھی ہم سے سنبھالا نہ گیا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

