عمار مسعودکالملکھاری

عمار مسعودکا کالم:تین سال۔ برا حال

حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس اس وقت ملک کا ہر شعبہ ترقی معکوس کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ تین سال مکمل ہونے پر جو دعوے کئےگئے وہ یا تو خواب ہیں یا دروغ ہیں۔ نہ اس ملک میں ڈیم بنے، نہ پاور پروجیکٹس لگے، نہ ترقیاتی منصوبوں پر کوئی اخراجات ہوئے نہ کوئی مستقل معاشی پالیسی سامنے آ سکی۔ تبدیلی کی صرف یہ شکل سامنے آئی کہ کبھی آئی جی تبدیل کر دیے، کبھی وزیر خزانہ بدل دیئے، کبھی بی آر ٹی کی رپورٹ روک دی گئی، کبھی فارن فنڈنگ پر خاموشی اختیار کر لی گئی۔ اس صورت حال میں عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہے ہیں۔ بے روزگاری میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ خط غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد ہر روز بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومت کی کارکردگی گزشتہ حکومتوں کے پروجیکٹس کے نام تبدیل کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں رہی۔ جب بھوک ہر طرف ناچ رہی ہےتو حکومت کی توجہ عوام کی طرف نہیں شجر کاری کی طرف ہے۔ شاید انہیں احساس ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب دو وقت کی روٹی بھی یہاں نصیب نہیں ہو گی چنانچہ عوام کے لئے درختوں کے پتے اورگھاس پھونس کھانے کا بروقت انتظام کیا جائے۔ عوام کی صورت حال میں اگر کوئی بہتری آئی ہوتی تو تین سالہ جشن منانے کی تک بھی تھی مگر اس وقت جب عوام کی حالت پہلے سے بہت ابتر ہو گئی ہے یہ تین سالہ جشن عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت جن دعوئوں کےساتھ مسندِ اقتدار پر بیٹھی تھی اب تک وہ تمام دعوے خود ہی رد ہو چکے ہیں۔ نوے دن میں تبدیلی لانے والے تین سال بعد بھی ملک کی بدحالی کا الزام اگر گزشتہ حکومت کو دے رہے ہیں تو یہ حکومت کی ناکامی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ حکومت کے اربابِ و بست و کشاد کو پتہ ہونا چاہئے کہ چور ڈاکو کا نعرہ لگانے سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا۔ کر پشن، کرپشن کا منتر پڑھنے سے عوام کی بھوک نہیں مٹتی۔ گزشتہ حکومتوں پر اپنی کارکردگی کا ملبہ ڈالنے سے افلاس کم نہیں ہوتا۔ تین سال کا جشن منانے سے لوگوں کو نوکریاں نہیں ملتیں۔ ترقی کے جھوٹے دعوے کرنے سے کاروبار نہیں چلتے۔ اب کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ تین سال بہت وقت ہوتا ہے۔ مخالفین کو گرفتار کروانے سے لوگوں کو دوائی نہیں ملتی۔ ان تین برسوں میں عوام کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ پی ٹی آئی نے ہی کیا تھا۔ وہ اب بھی اس دعوے پر مصر ہے مگر یہ دروغ عوام کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب وہ بہتری اور فلاح چاہتے ہیں۔ حالات میں تبدیلی چایتے ہیں۔ بہتر زندگی چاہتے ہیں۔
آپ کسی بھی شعبے کو دیکھ لیں ترقی الٹا سفر کر رہی ہے۔ معیشت کے علاوہ کون سے ایسے زریں کارنامے ہیں جن کا ذکر کیا جائے۔ کیا خارجہ پالیسی حکومت کی کامیابی کی دلیل ہے۔ کیا امریکی صدر سے ایک کال کی درخواست کرنا خارجہ پالسی کی کامیابی ہے؟ داخلہ پالیسی یہ ہے کہ جرائم کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ خواتین مزید غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات پہلے سے بڑھ گئے ہیں۔ پولیس حکومت کی باندی بن کر رہ گئی ہے۔ زراعت میں ہم گندم باہر سے منگوا رہے ہیں۔ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں سو گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے چنگل میں ہم پھر جا چکے ہیں۔ قرضوں کی رقم تاریخ میں سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اولمپکس میں کوئی ایک کھلاڑی بھی تمغہ نہیں جیت سکا۔ ہاکی میں ہم کوالیفائی نہیں کر سکے۔ فیٹف کی تلوار ہم پر ہر وقت لٹک رہی ہے۔ ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ روپے کی قدر گھٹ رہی ہے۔ ترقی کی شرح کہاں سے کہاں گر گئی ہے۔ یہ سب علامات کسی جشن کی متقاضی نہیں ماتم کا سامان ہیں۔ ملک کی ابتری کا ماتم، بین الالقوامی سطح پر توہین کا ماتم، معیشت کی بری حالت کا ماتم۔ بےروزگاری میں اضافے کا ماتم۔ کاروبار بند ہونے کا ماتم۔ غربت سے ہونے والی خود کشیوں کا ماتم۔ معاشرتی اور سماجی ابتری کا ماتم۔ اخلاقیات کی گراوٹ کا ماتم۔ جرائم کی بڑھتی شرح کا ماتم۔ تین سال پہلے کئےگئے بلند بانگ دعوؤں کا ماتم۔
حکومت کی اعلیٰ کارگردگی سوشل میڈیا تک محدود ہے۔ یو ٹیوبرز کے شوز تک محدود ہے۔ گالیاں دینے والے ٹرولز تک محدود ہے۔ جس جشن ترقی کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کا عوام کی فلاح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوام کے پیٹ کی آگ کو ٹویٹر کے ٹرینڈ نہیں بجھا سکتے۔ لوگوں کوترقی کے گراف دکھا کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ ان تین برسوں میں جو کچھ ہوا، اسکی اصل صوت حال اگر میڈیا پر سامنے نہ بھی آ سکے تو بھی عوام کو اس کارکردگی کا بہت اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے۔ اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو گلی میں چلتے کسی آدمی سے اس حکومت کی کارکردگی پر مکالمہ کرکے دیکھیں لمحوں میں آپ کو یہ تین سالہ جشن زمیں بوس ہوتا نظرآئے گا۔ اس لئے کہ ترقی نعرے لگانے سے نہیں ہوتی۔
اگلے سال الیکشن متوقع ہیں۔ پی ٹی آئی کو اب موقع مل چکا ہے۔ وہ لوگ جو کہتے تھے کہ عمران خان کو ایک موقع ملنا چاہئے انکی تسلی ہو چکی۔ الیکشن میں جانے سے پہلے پی ٹی آئی کو کچھ کارکردگی دکھانی ہو گی۔ کچھ بڑے منصوبے مکمل کرنے ہوں گے۔ کچھ غربت کم کرنی ہو گی۔ کچھ گورننس پر توجہ دینی ہو گی۔ ورنہ عوام کا احتساب بہت کڑا ہوتا ہے۔ ابھی یہ صورت حال ہے کہ حکومت کے بہت سے وزراء اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے۔ تو کیا اگلے سال یہ ووٹ مانگنے کے لئے عوام کے حضور پیش ہو سکتے ہیں؟ ان سے نمائندگی کا تقاضا کر سکتے ہیں؟ ان سے کچھ نئے دعوے کر سکتے ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker