امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود مشرق وسطی میں امن کی بجائے جنگ بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہؤا ہے۔ اتوار کو قاہرہ میں فریقین کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کی امید ہے لیکن حماس کے وفد نے قاہرہ میں موجودہ ہونے کے باوجود براہ راست بات چیت میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے۔
اس دوران میں آج رات ایک سو اسرائیلی بمبار طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے حملوں کا خطرہ تھا۔ تاہم اس فضائی کارروائی کے تھوڑی دیر بعد ہی حزب اللہ نے اسرائیل پر ساڑھے تین سو راکٹ اور ڈرون پھینکنے کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم سمیت 11 فوجی ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسرائیل نے بھی مبہم انداز میں اپنے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے راکٹ پھینکنے کے مراکز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ البتہ ایک شخص کی ہلاکت کے علاوہ کسی دوسرے نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
اس نئی اشتعال انگیزی سے اس وقت مشرق وسطیٰ میں امن کی بجائے جنگ بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہؤا ہے۔ مغربی میڈیا کا خیال ہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ ماہ کے دوران بیروت پر حملے میں حزب اللہ کے سینئر لیڈر فواد شکر کا انتقام لینے کے لیے حملہ کیا ہے۔ حز ب اللہ کے بیان میں البتہ اس کی تصدیق کے باوجود کہا گیا ہے کہ ’اصل انتقام‘ مناسب وقت پر مناسب طریقے سے لیا جائے گا۔ حزب اللہ کو ایران کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے۔ 27 جولائی کو تہران میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد البتہ ایران نے اسرائیل سے انتقام لینے کا اعلان کررکھا ہے۔ گزشتہ ویک اینڈ پر ایرانی حملوں کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم ایک خبر کے مطابق قطر کے وزیر اعظم محمدبن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی نے ایرانی لیڈروں سے بات کرکے حملہ سے باز رہنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کا ارادہ ترک کردیا ہے۔ البتہ ایرانی لیڈروں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرکے دعویٰ کیا ہے کہ مناسب وقت پر اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا انتقام لیا جائے گا۔
ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پر اسماعیل ہنیہ سرکاری مہمان کے طور پر تہران میں موجود تھے۔ انہیں پاسداران انقلاب کی خصوصی حفاظت میں تہران کے سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس مہمان خانے کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس میں اسماعیل ہنیہ اور ان کے ایک معاون جاں بحق ہوئے۔ حملہ کی نوعیت کے بارے میں ابھی تک مصدقہ معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ انہیں کسی نامعلوم جگہ سے پھینکے گئے میزائل میں ہلاک کیا گیا لیکن مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ایجنسی موساد نے اپنے ایجنٹوں اور پاسداران انقلاب میں اپنے مخبروں کے ذریعے اس مہمان خانہ میں کئی ماہ پہلے دھماکہ خیز مواد نصب کروادیا تھا جس میں اسماعیل ہنیہ ٹھہرتے ہیں۔ تصدیق شدہ اطلاع ملنے پر کہ اسماعیل ہنیہ اسی کمرے میں موجود ہیں، اسرائیلی ایجنٹوں نے بیرون ملک سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا جس میں ہنیہ کی موت واقع ہوگئی۔
اس ایک موت نے البتہ غزہ میں جنگ بندی کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ صدر جوبائیڈن نے انتخابی دوڑ سے باہر ہوجانے کے بعد اپنی تمام توجہ غزہ میں جنگ بندی پر مبذول کی ہے۔ مئی میں انہوں نے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جسے ان کے بقول اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے مطابق 6 ہفتے کی جنگ بندی میں اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کور ہا کرے گا جبکہ حماس اسرائیل کے 109 کے لگ بھگ ہرغمالیوں کو چھوڑدے گا۔ جنگ بندی کے دوران میں اسرائیلی فوجیں غزہ کے شہری علاقوں سے نکل آئیں گی اور امدادی سامان کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ عائد نہیں کی جائے گی۔ اسرائیل نے اس منصوبہ کو براہ راست مسترد تو نہیں کیا لیکن اس میں متعدد ترامیم پیش کیں جو حماس کو قبول نہیں تھیں ۔ البتہ اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اس میں بظاہر اسرائیل کے ملوث ہونے کے باعث حماس نے بھی جنگ بندی سے انکار کردیا۔ البتہ پرزور امریکی کوششوں کی وجہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاق رائے کے لیے دوحہ اور قاہرہ میں بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہیں۔ اسی سلسلہ میں وفود اس وقت قاہرہ میں موجود ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کرچکے ہیں اور مذاکرات کی سنجیدگی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’جنگ بندی کا یہ شاید آخری موقع ہے‘۔
صدر جو بائیڈن کو ڈیموکریٹک پارٹی کے شدید دباؤ کی وجہ سے صدارتی دوڑ سے باہر ہونا پڑا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اسے قوم کی محبت میں کیا گیا فیصلہ کہا تھا لیکن یہ ان کے دل کی آواز نہیں تھی بلکہ وہ اس سے پہلے مسلسل مقابلہ پر ڈٹے رہنے پر اصرار کررہے تھے۔ لیکن یکے بعد دیگرے متعدد ڈیموکریٹ لیڈروں اور مالی معاونت کرنے والے گروپوں کی مخالفت کی وجہ سے البتہ انہیں مقابلے سے دست بردار ہونا پڑا۔ اس کے بعد سے وہ غزہ میں جنگ بندی کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں تاکہ اسے اپنے صدارتی دور کی اہم سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں۔ عام طور سے جس صدر کے عہدے کی مدت ختم ہورہی ہو، وہ اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ لیکن صدر بائیڈن کی پوزیشن اس لحاظ سے کمزور ہے کہ انہیں بادل نخواستہ صدارتی مقابلے سے علیحدہ ہوکر جنوری میں اپنے عہدے کی مدت کے بعد ریٹائر ہونا پڑے گا۔ اس سے ان کی اتھارٹی بھی متاثر ہوئی ہے اور اسرائیل کے مقابلے میں بائیڈن حکومت کی سفارتی حیثیت بھی کمزور ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ بندی میں ’دلچسپی‘ ظاہر کرنے کے باوجود نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے نتیجہ تک جنگ بندی کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ انتخاب جیت جاتے ہیں تو واشنگٹن میں قائم ہونے والی حکومت غزہ کے سوال پر اسرائیل کی زیادہ حامی ہوگی۔ اس صورت میں شاید اسرائیل کا غزہ پر مکمل قبضہ کرکے اسے باقاعدہ محکوم علاقہ بنالینے کا خواب بھی پورا ہوجائے۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹک حکومت ایسے کسی اسرائیلی منصوبہ کی حمایت نہیں کرے گی۔ ایسی کسی کارروائی کو روکنے کے لیے امریکہ شاید سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد کی مخالفت بھی نہیں کرے گا۔ اگرچہ امریکہ کی دونوں سیاسی پارٹیاں اسرائیل کی مکمل حمایت کرتی ہیں لیکن ڈیموکریٹک پارٹی دو ریاستی منصوبے پر عمل درآمد کروانا چاہتی ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلیکن پارٹی اس منصوبہ پر اصرار کی بجائے مستقل امن کے متبادل حل پیش کرتی رہی ہے۔
تہران میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد حماس نے بھی جنگ بندی میں دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر کوتاہی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اسرائیل غزہ میں فوج مسلط رکھنا چاہتا ہے جبکہ حماس مکمل انخلا کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی عارضی نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے مستقل کیا جائے اور اسرائیلی فوج پہلے والی پوزیشن پر واپس چلی جائے۔ اسرائیل اس مطالبے کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ حماس ہو یا اسرائیل انہیں جنگ بندی سے زیادہ اپنے اپنے طور پر اپنی سیاسی اور تزویراتی پوزیشن مستحکم کرنے کی فکر ہے۔ جبکہ اس کی بھاری قیمت غزہ کے شہری ادا کررہے ہیں جنہیں روزانہ کی بنیاد پر ہلاک کیا جاتا ہے اور انہیں بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور زندگی مسلسل عذاب کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ بدقسمتی سے اگر اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کے جان و مال کی فکر نہیں تو حماس کو بھی اپنے لوگوں کے مرنے پر ملال نہیں ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس جنگ جوئی سے اسرائیل مسلسل سفارتی طور سے تنہا ہورہا ہے اور یہ حماس کی بڑی کامیابی ہے۔
اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ حماس کو مکمل طور سے تباہ کرکے غزہ سے راکٹ پھینکنے کی صلاحیت کو ختم کردے گا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ موجودہ جنگ میں اس نے حماس کے 18 ہزار جنگجو ہلاک کیے ہیں۔ البتہ اسرائیل کا یہ خواب پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حماس کو ختم کرنا اگر اسرائیل کے بس میں ہوتا تو وہ اپنی بھاری بھر کم فوجی صلاحیت کی وجہ سے اب تک حماس کا نام و نشان مٹاچکا ہوتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ اسرائیل نے مسلسل بمباری اور زمینی کارروائی سے غزہ میں سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ کیا اور راکٹ بنانے کی صلاحیت ختم کی ہو لیکن حماس کی حمایت میں اضافہ ہؤا ہے۔ جن لوگوں کو مسلسل ہلاک کیا جارہا ہے اور گھر بار چھوڑ کردربدر ہونے پر مجبور کیا گیا ہے یا جن بچوں نے اپنے ماں باپ یا بہن بھائیوں کو اپنے سامنے بے دردی سے مرتے دیکھا ہے، وہ حماس کو قصور وار سمجھنے کی بجائے اسے ہی نجات دہندہ سمجھیں گے۔ یہی حماس کی طاقت ہے۔ حماس نے اس عزم اور طاقت کا مظاہرہ اسماعیل ہنیہ کے بعد کسی معتدل مزاج لیڈر کی بجائے یحیٰ سنوار جیسے عسکریت پسند لیڈر کو چن کر بھی کیا ہے۔
حزب اللہ یا ایران کے حملہ کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں صورت حال غیر معینہ مدت کے لیے بے یقینی ہوسکتی ہے لیکن اس کے باوجود کسی بڑی جنگ کا امکان نہیں ہے۔ حتی کہ حزب اللہ بھی حملہ کرتے ہوئے ایک خاص حد میں رہتا ہے اور طویل جنگ سے گریز کا اشارہ دیا جاتا ہے۔ البتہ اس قسم کی اشتعال انگیزی مسئلہ فلسطین کے حل اور غزہ کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کے علاوہ مسئلہ فلسطین کے حل کے دو ہی ممکنہ طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکہ اسرائیلی جارحیت کو تسلیم کرے اور نہتے لوگوں کے خلاف اس کی جنگ جوئی کو اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی قرار دینے سے گریز کرے۔ اس کے بعد اسرائیل پر سفارتی دباؤ ڈال کر اسے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کا دوسرا حل یہ ممکن ہے کہ پوری دنیا غزہ اور فلسطینیوں کے خلاف جاری جبر کے خلاف ایک آواز ہوجائے اور متفقہ طور سے امریکہ پر دباؤ ڈال کر اسے اپنی غیر منصفانہ اور غیر انسانی اسرائیلی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔
البتہ مفادات اور گروہوں میں تقسیم موجودہ دنیا میں ان میں سے کوئی بھی حل ممکن نہیں ہے۔ فلسطین یا غزہ میں ہلاکت خیزی کے مسئلے پر امریکہ اور مغربی ممالک میں تو پھر عوامی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے لیکن پچاس کے لگ بھگ مسلمان ممالک تو اس ایک اصول پر بھی متفق ہوکر امریکہ کے سامنے کوئی ایک نکاتی ایجنڈا پیش کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ متعدد عرب ممالک کے معاشی اور تزویراتی مفادات اس وقت فلسطینیوں کا خیال رکھنے کی بجائے اسرائیل کے ساتھ مراسم بڑھانے کے متقاضی ہیں۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

