غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت جاری ہے۔ آج بھی ایک ہسپتال پر حملہ کیا گیا اورنصف شب کے بعدسے درجن بھر بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ عالمی دباؤ اور وعدوں کے باوجود اسرائیلی حکومت نے گزشتہ 24 گھنٹے میں صرف 92 امدادی ٹرکوں کو رفاح سے غزہ آنے کی اجازت دی ہے۔ اس دوران بدھ کے روز واشنگٹن کے یہودی میوزیم کے باہر اسرائیلی سفارت خانے میں کام کرنے والے دو نوجوانوں کو ایک مقامی امریکی نے قتل کردیا۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کی نئی حکمت عملی کے تحت نہ صرف پورے غزہ پر قبضہ کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے بلکہ فوجی پیش رفت میں ہسپتالوں ، بچی کھچی یا تباہ حال عمارتوں اور زندگی بچانے کی جد و جہد کرتے خاندانوں کے خیموں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ ان حملوں میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کی کثیر تعداد سمیت درجنوں لوگ جاں بحق ہورہے ہیں۔ پوری دنیا غزہ میں اسرائیلی ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہے ۔ غزہ کے چھوٹے سے علاقے میں 24 لاکھ فلسطینیوں کے خلاف اٹھارہ ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ جوئی پر صرف مسلمان ممالک ہی نہیں بلکہ یورپ کے بیشتر ممالک میں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج ہورہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے اس ارادے کا کھل کر اعلان کرچکے ہیں کہ وہ غزہ کو فلسطینیوں سے صاف کرکے اسے امریکہ کے حوالے کردیں گے۔ یہ وہی منصوبہ ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد کے بعد پیش کیا تھا۔ بلکہ اپنے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو بھی نشر کی تھی جس میں غزہ کو عالیشان عمارتوں پرمشتمل ایک تفریحی و تجارتی مرکز کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے اس تجویز پر اصرار نہیں کیا ۔لیکن یورپی حکومتوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے احتجاج کے برعکس امریکی حکومت اسرائیل کی تازہ ترین جارحیت پر خاموش ہے۔
ہفتہ عشرہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ قیاس کیا جارہا تھا کہ اس موقع پر عرب لیڈر صدر ٹرمپ کو غزہ میں جنگ بندی اور کسی تصفیہ کے لیے آمادہ کریں گے لیکن کسی عرب لیڈر کی طرف سے کم از کم میڈیا کے سامنے اس معاملہ کو نہیں اٹھایا گیا۔ البتہ ریاض اور دوحہ میں مختلف استقبالی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ضرور غزہ میں انسانی المیہ پر افسوس کااظہار کیا اور کہا کہ اس جنگ کو بند ہونا چاہئے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل پر حملوں اور لوگوں کو اغوا کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا ذکر بھی کیا۔
اس کے برعکس ٹرمپ حکومت امریکی یونیورسٹیوں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ’حماس کے حامی‘ اور یہود دشمن قرار دے کر گرفتار کررہی ہے۔ متعدد ایسے غیر ملکی طالب علموں کو پکڑا گیا ہے اور ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جنہوں نے کبھی کسی موقع پر فلسطین کی حمایت میں احتجاج کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکی مفاد کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تین سو لوگوں کے مختلف نوعیت کے ویزے منسوخ کیے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا اس سے آزادی رائے کا حق متاثر نہیں ہوتا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ انہیں اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہئے۔
اسی ماحول میں بدھ کے روز واشنگٹن کے یہودی میوزیم میں امریکی یہودیوں کی کمیٹی (اے جے سی) کے زیر اہتمام ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں مختلف تنظیموں کے علاوہ تیس سے زائد سفارت خانوں کے نمائیندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد غزہ کی صورت حال کے تناظر میں بین امذاہب ہم آہنگی کی ضرورت اور غزہ کے باشندوں کو انسانی امداد کی فراہمی کے طریقوں پر تبادلہ خیال تھا۔ اجلاس میں امریکہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو نوجوان بھی شریک ہوئے۔ یارون لیس چنسکی اور سارالین ملگریم اجلاس میں شرکت کے بعد باہرنکلے تو ایک نوجوان نے فائرنگ کرکے ان دونوں کو ہلاک کردیا۔ دس منٹ بعد رضاکارانہ طور سے پولیس کو گرفتاری دیتے ہوئے 31 سالہ ایلیاس روڈریگیوز نے غزہ میں ظلم پر احتجاج کیا اور ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کا نعرہ لگایا۔
یارون لیس چنسکی اور سارالین ملگریم اسرائیلی سفارت خانے میں کام کرتے تھے اور اسرائیلی سفیر کے مطابق وہ ہفتہ عشرہ میں بیت المقدس جاکر ایک دوسرے سے منگنی کرنے والے تھے۔ لیکن ایک المناک صورت حال میں ان کی جان لے لی گئی۔ یہ سانحہ جہاں یہ وضح کرتا ہے کہ قتل و غارت گری سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، اسی کے ساتھ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں ڈیڑھ سال سے جاری اسرائیلی دہشت گردی نے دنیا بھر میں انسانوں کو کس حد تک جذباتی طور سے متاثر کیا ہے۔ شدید گولہ باری میں بے بس لوگوں کی ہلاکت اور خوراک یا دواؤں کے بغیر بلکتے معصوم بچوں کی تصاویر و ویڈیو ز، ان لوگوں کو بھی خون کے آنسو رلاتی ہیں ، جن کا ان واقعات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
واشنگٹن میں دو اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا راتکاب کرنے والا نوجوان بھی ایسی ہی ذہنی الجھن کا شکار محسوس ہوتا ہے۔ اس نے فائرنگ کرنے کے بعد بھاگنے کی کوشش نہیں کی بلکہ میوزیم کے اندر جاکر فرش پر بیٹھ گیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق وہ انتہائی بدحواس اور پریشان دکھائی دیتا تھا۔ بعض لوگوں نے اسے پانی دینے اور مدد فراہم کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم دس منٹ بعد جب پولیس موقع پر پہنچی تو اس نے خود آگے بڑھ کر اپنے جرم کا اعتراف کیا اور گرفتاری دے دی۔ بعد میں آلہ قتل برآمد کرنے میں بھی پولیس کی مدد کی۔ اب اسے موت کی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن محسوس کیا جاسکتا ہے کہ شدید جذباتی ہیجان میں اس سے ایک ایسا جرم سرزد ہؤا ، عام حالات شاید وہ اس کے ارتکاب کا سوچ بھی نہ سکتا۔ اس المناک وقوعہ کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کسی بھی بے گناہ کی جان لے کر کوئی بھی کسی دوسرے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ لیکن دنیا میں معاملات سنبھالنے والے لیڈروں کو بھی سوچنا پڑے گا کہ وہ کب تک انسانوں کو ایسے جذباتی ہیجان و تکلیف میں مبتلا ہونے کی اجازت دیتے رہیں گے۔ کب عالمی لیڈروں میں یہ اخلاقی حوصلہ پیدا ہوگا کہ وہ اسرائیل کا ہاتھ تھامیں اور اسے غزہ کے بے گناہ شہریوں کو اسلحہ کے علاوہ بھوک سے مارنے کے انسانیت سوز ظلم سے باز رکھیں؟
کسی حد تک اس کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس ہفتہ کے شروع میں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ کے ’بدترین اقدامات‘ کی مذمت کی گئی ہے۔تینوں ممالک نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اپنی نئی فوجی کارروائی جاری رکھی اور انسانی امداد پر عائد پابندیاں اٹھانے میں ناکام رہا تو ’مزید ٹھوس اقدامات‘ کے امکانات ہیں۔ اسرائیل کے غیر معمولی طور سے حامی قرار دیے جانے والے برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہاہے کہ ‘غزہ میں معصوم بچوں کی تکالیف مکمل طور پر ناقابل برداشت ہیں‘۔برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کے تعاون کے لیے 2023 کے روڈ میپ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کلاس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ارکان کی ’مضبوط اکثریت‘ اسرائیل کے ساتھ 25 سال پرانے ایسوسی ایشن معاہدے پر نظر ثانی کے حق میں ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے منگل کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے سخت گیر وزیر خزانہ بیزال سموٹریچ کے الفاظ کا حوالہ دیا جنہوں نے غزہ کو صاف کرنے، جو کچھ بچا ہے اسے تباہ کرنے اور شہری آبادی کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی بات کی تھی۔لیمی نے کہا کہ ’ہمیں اسے وہی قرار دینا چاہیے جو ہو رہا ہے۔ یہ انتہا پسندی ہے، یہ خطرناک ہے، یہ مکروہ ہے، یہ خوفناک ہے۔ اور میں اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں‘۔مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کے سابق سفیر اور ٹونی بلیئر کے مشیر لارڈ لیوی موجودہ حکومت کی طرف سے اسرائیل پرتنقید کی حمایت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں دیر کر دی گئی ہے۔ لارڈ لیوی یہودی النسل ہیں اور خود کو ’قابل فخر یہودی‘ کہتے ہیں جو اسرائیل کی پرواہ کرتا ہے۔ البتہ بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف نہ صرف اس ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہماری جانب سے ایک مؤقف ہونا چاہیے‘۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ یورپ کی طرف سے اسرائیل پر بڑھائے جانے والے سفارتی اور معاشی دباؤ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اس حوالے سے اسرائیل کے لبرل روزنامے ہارٹز نے ایک شہ سرخی میں کہا کہ ’سفارتی سونامی قریب آ رہا ہے‘۔ اس تحریر میں ’غزہ میں اسرائیل کے ’مکمل پاگل پن‘ کے خلاف یورپ کی ممکنہ کارروائی کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ البتہ اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ کرنےکی کوئی کوشش اسی وقت کامیاب ہوسکے گی جب امریکی صدر ٹرمپ بھی اس ضرورت کو محسوس کریں گے۔ حال ہی میں ان کا شاہانہ اور فقیدالمثال استقبال کرنے والے عرب لیڈروں کو ضرور ان سے یہ سوال پوچھناچاہئے۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

