اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کا پیغام دیا ہے۔ متعدد مغربی مبصرین نے بھی اس خیال ظاہر کیا ہے کہ ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے اور صدر ٹرمپ کی طرف سے ان کی توصیف کے درپردہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ ہوسکتاہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تبدیلی ممکن ہے؟
نیتن یاہو نے تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد قوم سے خطاب میں ایرانی عوام کو اسلامی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ترغیب دی۔ اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ ایرانی عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اسرائیل کی ایرانی عوام سے لڑائی نہیں ہے۔ ہماری جنگ اس قاتل اسلامی حکومت سے ہےجو آپ کا بھی استحصال کررہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایرانی عوام اپنی تاریخی وراثت اور پرچم تلے جمع ہوں۔ اس شیطانی حکومت سے آزادی حاصل کریں۔ اب وقت ہے کہ دنیا آپ کی آواز سنے اور آپ کو اپنا حق ملے‘۔
اسرائیل کی طرف سے سرکاری طور پر تہران میں حکومت تبدیلی کی خواہش کے اظہار کے علاوہ متعدد مغربی مبصرین نے بھی بین السطور اس امکان کا اظہار کیاہے کہ اسرائیل حملوں میں ایران کی عسکری قوت کمزور ہونے کے بعد شاید تہران میں حکومت تبدیلی کے کسی منصوبہ پر کام کیا جارہا ہو۔ تاہم واشنگٹن یا کسی دوسرے دارالحکومت میں سرکاری طور سے ایسی بات نہیں کی جارہی۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےجوہری صلاحیت کے بارے میں معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ایران کی مکمل تباہی کا پیغام دیا ہے۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں انہوں نے اسرائیلی حملوں کی توصیف کی اور کہا کہ ’ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ ان کی توقعات، معلومات یا اندازوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔ایران کو فوری طور پر معاہدہ کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ کچھ باقی نہ بچے اور اس چیز کو بچایا جاسکے جسے کبھی ’ایرانی سلطنت‘ کہا جاتا تھا‘۔
ایسے میں فطری طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب امریکہ کا صدر معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ’ایرانی سلطنت‘ کی مکمل تباہی کا ذکر کرتا ہے تو کیا اس میں یہی اشارہ پنہاں نہیں ہے کہ تہران کی موجودہ اسلامی حکومت نے اگر واشنگٹن کی شرائط پر معاہدہ نہ کیا تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تہران میں حکومت کا تختہ الٹ کر نئی حکومت قائم کردی جائے گی۔ اس بیان کی روشنی میں یہ قیاس غلط نہیں ہوگا کہ امریکہ ، اسرائیل کے ساتھ مل کر تہران میں حکومت تبدیلی کا خواب دیکھ رہا ہے تاکہ وہاں دیگر متعدد ممالک کی طرح کوئی کٹھ پتلی حکومت قائم کی جاسکے۔ تاہم اس بیان میں صدر ٹرمپ نے معاہدے اور ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے پر زور دیا ہے۔ اس میں صرف یہ شرط رکھی جارہی ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور سے بند کردے۔
پروگرام کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام کے معاہدے کے بارے میں مذاکرات کا ساتواں دور اتوار کو عمان میں ہونے والا تھا۔ امریکہ اب بھی یہی اعلان کررہا ہے کہ اس کے نمائیندے اس بات چیت کے لیے عمان میں موجود ہوں گے۔ ایران نے اگرچہ سرکاری طور سے کوئی اعلان نہیں کیالیکن تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں اور ایٹمی تنصیبات تباہ ہونے پر ایران ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔ اگرچہ سفارتی لحاظ سے یہ ایک بڑی غلطی ہوسکتی ہے کیوں کہ ان مذاکرات کے ذریعے ایران امریکہ کے ساتھ کسی معاہدہ پر پہنچ کر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا اہتمام کرسکتا ہے۔ البتہ ایسا کوئی اقدام تہران کی حکومت کی عزت و وقار کو خاک میں ملا دے گا اور عوام اپنی حکومت کی اس ’شکست خوردگی‘ کے خلاف شاید خود ہی اس حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ ظاہر ہے ایسی کوئی تبدیلی اسرائیلی یا امریکی خواہشات کے مطابق نہیں ہوسکتی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے ایرانی عوام کو اکسانے کے لیے جو پیغام دیا ہے، ایران میں درحقیقت اس کا الٹا اثر ہوسکتا ہے۔ لوگ اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی بجائے یہ سمجھیں گے کہ اس مرحلے پر موجودہ حکومت ایک ایسی غیر ملکی جارحیت کے خلاف جد و جہد کررہی ہے جس نے ایران پر حملہ کرکے اس کی علاقائی خود مختاری اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو چیلنج کیا ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے کہ کون سا ملک جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے یا نہیں۔ البتہ ان ہتھیاروں کی تباہ کاری اور ماحولیات پر دیر پا منفی اثرات کے تناظر میں دنیا میں عام طور سے ان ہتھیاروں کے خلاف رائے موجود ہے۔ امریکہ کی قیادت میں چند مغربی ممالک ترقی پزیر ممالک کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں اقتصادی پابندیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی ایسی پابندیوں کا سامنا رہاہے اور ایران کے راستے میں بھی رکاوٹ کھڑی کی جاتی رہی ہے۔ ایسا ہی ایک نشانہ شمالی کوریا بھی رہا ہے جو تمام تر دباؤ کے باوجود جوہری ہتھیار اور دور تک مار کرنے والے میزائل بنانے میں کامیاب ہؤا ہے۔ اس نے امریکہ کے دباؤ کے باوجود یہ پروگرام ترک نہیں کیا۔ البتہ اس کے برعکس ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے خاص طور سے امریکہ کی نظر میں آیا اور اسرائیل اسے اپنے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
ایران پر اسرائیلی حملوں کی موجودہ صورت حال میں یہی امکان ہے کہ ایرانی عوام باہمی اختلاف بھلا کر اپنی حکومت کا ساتھ دیں گے۔ ایران میں اسلامی حکومت کے خلاف ضرور رائے پائی جاتی ہے ۔ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر ایرانی عوام احتجاج بھی منظم کرتے رہے ہیں ۔ تاہم بیرونی جارحیت کی صورت میں عام طور سے کسی بھی ملک میں قومی جذبہ پیدا ہوتا ہے اور باہمی اختلافات و مسائل بھلاکر یک جہتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایران میں سخت گیر حکومتی نظام اور بین الاقوامی میڈیا کی عدم موجودگی کی وجہ سے حقیقی صورت حال کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آسکتیں اور نہ ہی عوامی جذبات کی عکاسی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ جب اسرائیل جیسا دشمن امریکہ کی سرپرستی میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنے پر تلا ہؤا ہوا ور اس کے لیڈروں وسائنسدانوں کو ہلاک کیا جارہا ہو تو ایرانی عوام اس وقت حکومت تبدیلی کے کسی منصوبے کا حصہ بنیں گے۔
اس کے علاوہ بدقسمتی سے ایران میں کوئی ایسی تحریک یا تنظیم موجود نہیں ہے جو موقع ملنے پر ایک سخت گیر حکومت کے خلاف میدان ہموار کرسکے اور ایک مشکل وقت میں اقتدار پر قابض حکمرانوں سے جان چھڑانے کی کوشش کرے۔ موجودہ مذہبی گروہ 46 سال سے اقتدار پر قابض ہے۔ اسے عسکری و مالی اداروں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ مذہب کی بنیاد پر ایک بڑا طبقہ بہر صورت موجودہ حکمرانوں کے ساتھ رہے گا۔ یہ گروہ اتنا طاقت ور ضرور ہو گا کہ کسی بھی احتجاج کو سختی سے کچل سکے۔ ایران میں حکمرانوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ پوری دنیا میں تنہا ہیں۔ اقتدار سے محرومی کے بعد عراق کے علاوہ وہ شاید کہیں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ وہاں بھی امریکی و اسرائیلی ایجنٹ ان کا پیچھا کریں گے۔ اس لیے ایسی کوئی صورت حال اقتدار پر قابض مذہبی گروہ کے لیے زندگی و موت کا سوال بھی ہوگی۔
1979 کےانقلاب کے بعد متعدد ایرانی باشندے ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد گئے تھے۔ سابق شاہ ایران کا بیٹا اور سابق ولی عہد رضا پہلوی بھی اس وقت امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔ رضا پہلوی ایران میں موجودہ نظام کے خلاف ہمیشہ متحرک رہا ہے اور میڈیا انٹرویوز اور رابطوں کے ذریعے وہ امریکہ و مغربی ممالک کو ایرانی حکومت کا بائیکاٹ کرنے، پاسبان انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور ایران میں ایک سیکولر ، جمہوری اور اسرائیل نواز حکومت کے قیام میں مدد دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل سے بھی مسلسل رابطہ رکھا ہے۔ اور آخری بار اپریل 2023 میں اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں جہاں انہوں نے نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی تھی اور ایران و اسرائیل کے قدیمی تعلقات بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ البتہ وہ اپنی تمام تر سرگرمیوں کے باوجود عالمی سطح پر کوئی ایسی تنظیم سازی نہیں کرسکے جوانہیں غیر متنازعہ لیڈر مان لے۔ حقیقت یہی ہے کہ ایران سے باہر رہنے والے ناراض ایرانیوں میں قیادت و سیاست کے سوال پر شدید اختلافات ہیں اور یہ کوئی بااثر قوت نہیں رکھتے۔ یہ بھی غیر واضح ہے کہ سابق ولی عہد یا دیگر عناصر کا ایران میں عوام سے رابطہ کتنا گہرا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں ایک کینیڈین اخبار ’نیشنل پوسٹ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں رضا پہلوی نے دعویٰ کیا تھا کہ عوام ان کی قیادت پر متفق ہوں گے اور وہ ایران کے لوگوں کے فلاح وبہبود اور سیاسی حقوق کے لیے ایک جمہوری حکومت قائم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ جس میں ان کا کردار آئینی شہنشاہ کا ہوگا۔ لیکن ان کے والد محمد رضا شاہ پہلوی دراصل ایک سخت گیر حکمران تھے جنہوں نے عوامی حقوق کی بجائے ہمیشہ اپنے حق حکمرانی کو مستحکم کرنے کے لیے کام کیا۔ ان کے دور میں ظلم کی داستانیں اب بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس لیے یہ قرین از قیاس نہیں ہے کہ ایرانی عوام سابق ولی عہد رضا پہلوی کو خوش آمدید کہنے کے لیے بے چین ہوں گے۔ یوں بھی انہوں نے 1979 میں جب ملک چھوڑا تھا تو ان کی عمر محض انیس سال تھی۔ 46 سال بعد ایرانیوں کی نئی نسلیں ان کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں گی۔ البتہ ایرانیوں کو یہ ضرور یاد ہوگا کہ امریکی ایجنسی سی آئی اے نے 1953 میں ایک منتخب وزیراعظم محمد مصدق کو اقتدار سے محروم کرکے رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کی راہ ہموار کی تھی۔
موجودہ مذہبی لیڈروں کے مقابلے میں متبادل قیادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایران میں کسی فوری ’انقلاب‘ یا سیاسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ایران اس حد تک کمزور ضرور ہوسکتا ہے کہ وہاں انتشار پیدا ہوجائے اور اس ملک پر کسی کے لیے بھی حکومت کرنا ممکن نہ رہے۔ یہ صورت حال اس سے پہلے لیبیا اور عراق میں دیکھی جاچکی ہے۔ 90 ملین آبادی کے ملک ایران میں ایسا بحران مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگا۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

