اختصارئے

جو حکم میرے آقا ۔۔ آصف علی فرخ

شاید کئی بہی خواہوں کو میری یہ بات بری لگےلیکن یہ حقیقت تسلیم کریں کہ بدقسمتی سے پوری دنیا میں خاص طور پر عرب ممالک میں ہم مساکین کے طور پر جانے جاتے ہیں، سرمایہ کاری کا رخ انڈیا اوردیگر ممالک کی طرف، ہماری اوقات کرائے کے فوجی جیسی، یمن کا معاملہ ہو یا ایران سے کشیدگی پاکستان کو پرائی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے، پارلیمنٹ اور اس کی قراردادیں چیختی چنگاڑتی رہ جائیں کرنا وہی جو امداد کے نام پر خیرات دینے والوں کی منشا ہوتی ہے، اور اگر کشمیر یا ملکی سلامتی کو کوئی خطرہ ہواتو ان سے اپنے حق میں بیان لیکردکھادیں، کشمیر کو جو موجودہ صورتحال ہےمجھے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں سعودی عرب، یو اے ای سے کوئی کھل کر بیان آیا، یقیناً آپ کا بھی جواب نفی میں ہوگا، لیکن جہاں انکا مفاد ہو، ” جو حکم میرے آقا” کے سوا کچھ نہیں کہنا، گوادر میں کونسا ملک مداخلت کررہا ہے، اب سب کو معلوم ہے، گوادر کی ترقی کا نام ان کی تنزلی ہے، یہ سارے زخم کل کی اس خبر نے تازہ کردیئے کہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عزت مآب عمران خان نے دورہ ملائشیا سعودی عرب کے حکم پر منسوخ کردیا ہے۔
احوال اس کا یہ ہے کہ ملائشیا میں اسلامی سربراہ اجلاس ہونے جارہا ہے، جس میں پاکستان، انڈونیشیا، قطر، ترکی کے سربراہان کو مدعو کیا گیا ہے، سعودی عرب کو سرے سے دعوت ہی نہیں دی گئی، اب سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ ملائشیا غیر فعال او آئی سی کی جگہ ایک اور موثر اسلامی ممالک کی تنظیم کیلئے کوشاں ہے، اس صورت میں سعودی عرب کا اثرورسوخ شاید ختم ہوجائے، اسی لئے اس اجلاس کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان کو روکا جارہاہے، وزیراعظم عمران 16دسمبر سے بحرین، سوئٹزرلینڈ اور ملائشیا کے دوروں پر روانہ ہو چکے، آخرمیں ملائشیا جانا تھا، اب خبر ہےکہ سعودی دباؤ پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے نہیں جارہے۔
یاد رہے کہ جن اسلامی ممالک نے کھل کر کشمیر پر پاکستانی حمایت کی ان میں ترکی اور ملائشیا سر فہرست ہیں، ہماری ناکام ترین خارجہ پالیسی کا حال یہ ہے کہ ہم اپنے تمام ہمسایوں کا اعتماد کھو چکے، وہ ایران جس نے پہلے قیام پاکستان کو تسلیم کیا، ہم سے دور ہوکر بھارت کے قریب جا چکا،.لکھ لیں ہم اسی طرح ڈکٹیشن پر چلتے رہے تو ہر آزمائش پر پورا اترنے والے چین کو بھی کھودیں گے، شروعات تو ہوچکی ہیں، آخر میں یہی کہ اگر زندہ قوموں میں رہنا ہے تو اپنے فیصلے خود کرنا ہونگے، دوسروں کی بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دو، وگرنہ مسکین کے طعنے سنتے رہیں گے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker