پاکستان میں سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر آئینی مباحث میں الجھا ہوا ہے۔ حالیہ ایوانی کارروائیوں میں پارلیمان کی جانب سے منظوری دی گئی 27ویں آئینی ترمیم نے جو یک دم وسیع اثرات مرتب کیے ہیں، اسی تناظر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدتِ میں اضافے کے امکان پر بحث نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ گذشتہ روز سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز کی جانب سے استعفے نے اس مباحثے کو محض مدت کے سوال سے آگے نکال کر عدلیہ، آئینی توازن اور اختیارِ عدل کے مسائل تک پہنچا دیا ہے۔ یہ صورتِ حال یہ تجزیہ لازم کرتی ہے کہ مدتِ اسمبلی میں ممکنہ اضافہ قانونی طور پر کس حد تک ممکن ہے اور اس کے سیاسی، آئینی اور عدالتی مضمرات کیا ہوں گے۔
آئینِ پاکستان کی واضح شقوں کے مطابق قومی اسمبلی کی مدت عام طور پر پانچ سال ہے اور اس میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے۔ آئینی ترمیم کے آئینی طریقِ کار کے تحت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت اور صدر کی توثیق لازمی ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدت میں اضافہ کوئی معمولی یا تکنیکی قدم نہیں بلکہ سیاسی قوتوں کے وسیع اتفاق اور آئینی تقاضوں کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے۔ تاہم، قانونی طور پر ترمیم ممکن ہے اگر مطلوبہ پارلیمانی اکثریت میسر آئے۔ مگر قانونی امکان اور عملی صورت دو الگ چیزیں ہیں۔
قانونی ماہرین اور تشریح نگار اس نکتہ پر متفق ہیں کہ آئینی طور پر ترمیم کی گنجائش موجود ہے مگر اسے عدالت میں چیلنج ہونے کے امکانات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ بالخصوص سپریم کورٹ کی جانب سے ابھرنے والا بیانیہ کہ’’ آئین کی بنیادی ساخت یا جمہوری قباحتیں محفوظ رہیں ‘‘ نے اس امکان کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بیرِسٹر سلمان اکرم راجہ اور دیگر قانونی ماہرین نے 27ویں ترمیم کی مخالفت میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی ترامیم آئینی شفافیت اور عدالتی آزادی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے عوامی اور قانونی ردعمل کی وارننگ بھی دی ہے۔ اسی نوعیت کی تشویش پاکستان کی مختلف سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بھی موجود ہے۔
عدالتی نقطۂ نگاہ سے خاصی حساسیت پائی جاتی ہے۔ پاکستان کی عدالتی روایت میں “بنیادی ڈھانچے” کے نظریے کی بنیاد پر عدالتیں ایسی ترامیم کا جائزہ لے سکتی ہیں جو آئین کی روح یا بنیادی جمہوری ڈھانچے کو تبدیل کریں۔ اگر اسمبلی کی مدت بڑھانے کی ترمیم کو ایسی نوعیت قرار دیا جائے کہ وہ عوامی رائے دہی کے بنیادی حق کو کمزور کرے، تو امکان ہے کہ اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور سپریم کورٹ از سرِنو اس کی آئینییت کا فیصلہ دے سکتی ہے۔ مزید یہ کہ عدالتی ادارے کی جانب سے ردِعمل یا استعفے جیسی حرکتیں اس بات کی علامت ہیں کہ عدلیہ خود اس نوعیت کی ترامیم کو آئینی خطرہ سمجھ رہی ہے، اور یہ عمل آئینی کشمکش کو گہرا کرے گا۔
سیاسی حقیقت یہ ہے کہ مدت میں توسیع صرف ایک آئینی بل نہیں بلکہ سیاسی مفادات، طاقت کے توازن اور عوامی قبولیت کا سوال ہے۔ ملک میں طاقت کے وہ شواہد جو حالیہ ترامیم کے دوران ظاہر ہوئے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ طاقت کے بگاڑ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی عدم موجودگی ایسے فیصلوں کو متنازعہ بنا سکتی ہے۔ عوامی ناپسندیدگی، اپوزیشن کی تجاویز یا بائیکاٹ، اور سول سوسائٹی کی مزاحمت سب مل کر کسی بھی طویل مدتی توسیع کے نفاذ کو مشکل کردیں گے۔ اس کے علاوہ، اگر مدت کو بڑھانے کا جواز “سیاسی استحکام” یا “معاشی منصوبہ بندی” کے نام پر پیش کیا جائے، تو بھی اس کی قانونی اور اخلاقی توجیہ کا کُھرا جواب درکار ہوگا، ورنہ یہ اقدام آئین کے بنیادی مقصد — عوامی احتساب — کے منافی قرار پائے گا۔
عملی امکانات کا جائزہ بتاتا ہے کہ ایسی ترمیم کا کامیاب نفاذ اس وقت مشکل دکھائی دیتا ہے: پارلیمانی کم اکثریتی صورتِ حال، عوامی ردعمل، اور ایک فعال عدالتی نگرانی — یہ تینوں عوامل مل کر کسی بھی مدتِ اضافے کو ناکام یا عدالتی چیلنج کا شکار بنا سکتے ہیں۔ پھر بھی معاملہ متحرک ہے: عدالتی استعفے اور آئینی تبدیلیوں نے جو نیا منظرنامہ بنایا ہے، وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئینی حقوق، عدالتی آزادی اور پارلیمانی اختیارات کے درمیان توازن ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ اسمبلی کی مدت میں اضافہ قانونی طور پر ممکن مگر سیاسی اور آئینی طور پر انتہائی پیچیدہ، متنازع اور خطرناک ہوگا۔ اگر مقصد واقعی جمہورتی استحکام ہے تو حل مدت بڑھانے میں نہیں بلکہ انتخابی نظام، شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور گورننس کے مسائل کے حل میں تلاش کرنا چاہیے۔ آئین کا مقصد اقتدار کی مسلسل جائز منتقلی اور عوامی احتساب کو یقینی بنانا ہے؛ کسی بھی ایسی اقدام جو اسے مؤخر یا کمزور کرے، جمہوریت کی روح کے خلاف سمجھا جائے گا اور آئینی و عدالتی تنازع کو جنم دے گا

