ہم اس بات پر فخر کررتے ہیں کہ ہم عطاء الحق قاسمی صاحب کے عہد میں سانس جی رہے ہیں ، ہمارا شمار ان کے ہم عصروں میں ہوتا ہے ، اور ہمیں ان کی محبتیں حاصل ہیں ۔ فخر تو ہمیں امجد اسلام امجد صاحب ، جناب مستنصر حسین تارڑ ، محترم احمد فراز اور افتخار عارف صاحب کی رفاقتوں پر بھی ہے کہ ہم نے ان عہد ساز ہستیوں کے ساتھ مشاعرے پڑھے ، ان کے ساتھ تقریبات میں شرکت کی طویل سفر کیے اور ان سے داد بھی وصول کی ۔ اگر اپنے وسیب کی بات کریں تو یہاں ہمیں عرش صدیقی ، محترمہ بشریٰ رحمان ، ارشد ملتانی ، مقصود زاہدی ، ڈاکٹر انوار احمد اقبال ارشد اور حسین سحر سمیت کئی عہد ساز ہستیوں کی ہم عصر ی کا اعزاز حاصل ہوا ۔ ایک پورا عہد ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے دیکھا ۔ایک کہکشاں تھی جس میں یہ سب نام ستاروں کی طرح جگمگاتے تھے لیکن پھر ایک ایک کر کے وہ ہستیاں رخصت ہوئیں تو تاریکی بڑھتی چلی گئی ۔ ایسا صرف شعرو ادب کے میدان میں نہیں ہوا ۔ ہر شعبہ زندگی میں ہمیں یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے ۔
عطا صاحب ایک کالم نگار اور مزاح نگار کی حیثیت سے دنیا بھر میں پاکستان کا مسکراتا چہرہ ہیں ۔ ایک ایسا پاکستان جس کی شناخت مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ، ایک ایسا پاکستان ہیں جہاں بہت سے دکھ ہیں ، جہاں غربت اور جہالت ہے ، جہاں بھوک افلاس اور بیماریاں ہیں اور جہاں لسانی ، گروہی اور فرقہ وارانہ تعصبات ہیں ۔ جہاں ایک ہجوم ہے قاتلوں کا اور ایک ہجوم ہے بھیڑ بکریوں کی طرح زندگیاں گزارنے والے غلاموں کا ۔دکھوں کی ماری اور مایوسی کا شکار اس قوم کے چہرے پر مسکراہٹ لانا کوئی آسان کام نہیں ۔لیکن قاسمی صاحب یہ مشکل کام ہنستے مسکراتے بہت سہولت کے ساتھ غیر محسوس انداز میں سر انجام دے رہے ہیں ۔
عطا صاحب کے ساتھ پہلی بار 1982 میں ملنے کا اتفاق ہوا چوبیس نومبر تاریخ تھی اور ہم اس زمانے میں سول لائنز کالج ملتان کے طالب علم تھے ۔ عطاء صاحب کے ساتھ لاہور سے ڈاکٹر سلیم اختر اور امجد اسلام امجد اور راول پنڈی سے منصور قیصر صاحب بھی اس ملتان آئے تھے ۔ ملتان آرٹس کونسل میں ایک شام افسانہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔آرٹس کونسل اس زمانے میں شیر شاہ روڈ پر ہمارے گھر کے قریب ہوتی تھی ۔ ہم شاکر حسین شاکر کے ہمراہ اس تقریب میں شریک ہوئے اور مہمانوں سے آٹو گراف حاصل کیے ۔ پھر ایک طویل وقفہ ہے کالج کے بعد ہم صحافت سے منسلک ہوئے اور قاسمی صاحب کو باقاعدگی کے ساتھ پڑھنا شروع کیا ۔ ان کی کتابیں ، سفر نامے سبھی کچھ زیر مطالعہ رہا ۔ 1990 میں ہم نوائے وقت کے ساتھ منسلک ہوئے تو تعلق کا ایک اور پہلو نکل آیا ۔ ہمارے نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ لاہور میں عطاء صاحب کے رفیق کار رہے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب نوائے وقت مشکلات کا شکار تھا ۔ کبھی اشتہارات کی بندش اور کبھی کوئی اور مسئلہ ۔ عاشق صاحب نے قاسمی صاحب کے ساتھ ایک دو مرتبہ ہماری بات کرائی اور ان کے بہت مزے مزے کے قصے بھی سنائے اور وہ شعر بھی سنایا جو آج کے زمانے میں بھی کارکن صحافیوں کی حالات زار کی عکاسی کرتا ہے ۔
دینے ہیں تیرے چار سو فی الحال چار رکھ
’’ پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ ‘‘
سو اس شعر کےسہارے ہم بھی کم و بیش گیارہ سال نوائے وقت کے شجر سایہ دار کے ساتھ پیوستہ رہےاور وہاں کے دوستوں کی محبتیں سمیٹتے رہے ۔ لیکن پھر ایک روز امید بہار دم توڑ گئی تو ان گیارہ برسوں کو ضیاء آمریت کے گیارہ برسوں والے کٹھن برسوں کی طرح ماضی کے نہاں خانے میں ڈال کر ’’ خودی کا سرِ نہاں ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے ۔ پھر قاسمی صاحب کے ساتھ ہمارا رابطہ اس زمانے میں ہوا جب اطہر ناسک کینسر کا شکار ہوا ۔ یہ سال 2011 کاتھا جب ایک روز اطہر ناسک نے فون پر ہمیں بتایا کہ وہ کینسر کا شکار ہو گیا ہے ۔ اور بہت سے دوستوں کی طرح ہم نے بھی اس کی بات پر یقین نہ کیا ۔لیکن ایک روز جب وہ اجڑے ہوئے خزاں رسیدہ بدن کے ساتھ ملتان آیا تو اس کی جان بچانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی گئی ۔ اس موقع پر نوشی گیلانی ، سعید خان ،اختر شمار اور دیار غیر میں موجود دیگر دوستوں نے ناسک کی بھر پور مالی معاونت ملتان اور سرائیکی خطے سے بھی سب دوست متحرک ہوئے ۔ ناسک کی علالت کی خبر عطاء صاحب تک پہنچی تو ایک روز ان کا فون آیا ۔ وہ اس حوالے سے بہت تشویش کا شکار تھے ۔ پہلا سوال یہی کیا کہ کیا یہ خبر درست ہے ؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگے
’’یہ اللہ کا بندہ اتنے جھوٹ بولتا ہے کہ مجھے اس خبر پر یقین نہیں آ رہا تھا ، اب آپ نے تصدیق کر دی ہے میں کچھ کرتا ہوں آپ اس کی میڈیکل رپورٹس بھیج دیں ‘‘ ناسک کی صاحب زادی نے یکم مارچ 2012 میں یہ رپورٹیں ہمیں ارسال کیں جو ہم نے عطاء صاحب کو ارسال کر دیں
پھر اس کے بعد محکمہ صھت والوں کی دوڑیں لگ گئیں ۔ نشتر ہسپتال کے ایم ایس کو ناسک کا سرکاری طور پر اطہر ناسک کے علاج معالجے کے احکامات موصول ہو گئے ۔ ملتان کے نام ور کینسر سپیشلسٹ ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود سے شاکر حسین شاکر نے رابطہ کیا ۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ وقت طے ہوا لیکن ہم سب ناسک کا انتظار ہی کرتے رہ گئے ۔ وہ دم درود اور دیسی علاج پر یقین رکھتا تھا ۔ خود بھی’’ بابا ‘‘ بن چکا تھا ۔ پھر ایک روز لاہور سے اس کی میت ملتان آئی اس نے ہمیں صرف جنازے میں شرکت کی ہی مہلت دی ۔
فیس بک کمینٹ

