عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

گلہ بکریانوالہ کوچہ لیرچونیاں۔۔عطا ءالحق قاسمی

میں خوش ہوں کہ میرا بچپن ابھی تک میرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اس سے بھی زیادہ اس بات پر کہ میرے اندر میرے بچپن کے علاوہ میرا بچپنا بھی زندہ ہے۔ میری یادوں کا سلسلہ 1950کی دہائی سے شروع ہوتا ہے جب میں سات سال کا تھا اور وزیر آباد کے گلہ بکریانوالہ کے محلہ لیرچونیاں میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک گھر میں رہتا تھا۔ محلہ لیرچونیاں ایک ”کٹڑی“ کی طرح تھا کیونکہ مین بازار سے اس کے گیٹ میں داخل ہو کر ایک راﺅنڈ لگانے کے بعد ہم دوسرے گیٹ سے دوبارہ مین روڈ پر آ جاتے تھے۔ میرا خاندان جس گھر میں رہتا تھا وہ بہت بڑا تھا۔ گلی میں داخل ہوتے ہی ایک چھوٹا سا مکان چھوڑنے کے بعد ہمارے گھر کی حدود شروع ہو جاتی تھیں اور پھر یہ گلی دائیں جانب مڑ جاتی تھی اور ہمارا مکان بھی اس کے ساتھ گھوم جاتا تھا اور پھر کچھ دور آگے چل کر اس کا مین گیٹ آتا تھا، جس کے دائیں اور بائیں جانب تھڑے بنے ہوئے تھے، جس پر ہم دوست آمنے سامنے بیٹھ کر گپ شپ کرتے تھے۔ اس دو منزلہ مکان میں آٹھ کمرے، دو صحن اور بہت وسیع و عریض چھت تھی۔ گراﺅنڈ فلور پر میری بڑی ہمشیرہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھیں اور فرسٹ فلور ہمارا مسکن تھا۔ ان دنوں بیت الخلاچھت پر ہوا کرتے تھے اور فلش سسٹم وغیرہ کا کوئی وجود نہ تھا۔


گھروں میں نلکے نہیں بلکہ زمین میں بور کر کے پمپ لگائے جاتے تھے جنہیں ہاتھ سے ”گیڑنا“ پڑتا تھا۔ یہ وہ دور ہے جب نیا نیا پاکستان بنا تھا۔ لوگ ہندوستان کے مختلف حصوں سے لٹے پٹے اپنی اس پناہ گاہ میں آئے تھے جس کے لئے انہوں نے بےبہا قربانیاں دی تھیں۔ وزیر آباد کے مقامی لوگ انہیں ”پناہ گزین“ کہتے تھے اور ان ”پناہ گزینوں“ میں ایک خاندان ہمارا بھی تھا۔ ہم امرتسر سے اپنے بزرگوں کی قبریں، عظیم الشان لائبریری اور اس کے علاوہ صابن کا ایک کارخانہ اور ایک مکان چھوڑ کر اور اپنی جانیں اور عزتیں بچا کر وزیرا?باد چلے آئے تھے۔ ہم بالکل خالی ہاتھ یہاں پہنچے تھے۔ مقامی لوگوں نے ہمیں بنیادی ضروریاتِ زندگی فراہم کیں اور ہم نے نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیا۔ محلہ لیرچونیاں میں جفت سازوں کے بہت سے گھر تھے اور یہ بھی سب مہاجر تھے اور مشرقی پنجاب کے مختلف شہروں سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے تھے۔ ہمارے گھر کے دائیں ہاتھ پر واقع ایک بالکل چھوٹا سا گھر تھا جو صرف ایک کمرے اور ایک مختصر سے صحن پر مشتمل تھا۔


یہ کنبہ کرنال سے ہجرت کرکے وزیر آباد آباد ہوا تھا۔ اس گھر کے سربراہ کا نام صابو تھا، اس کے چہرے پر چیچک کے داغ تھے اور اس کی صرف ایک آنکھ تھی۔ مجھے اللہ جانے کیوں لگتا تھا کہ یہ آنکھ اس کے ماتھے کے عین درمیان میں لگی ہوئی ہے۔ اس دور میں غریب تو کم و بیش سبھی تھے لیکن یہ کنبہ کچھ زیادہ ہی غریب تھا۔ میں اپنے مکان کی چھت پر سے ان کے صحن میں جھانکتا تو ان کی عورتیں کونڈی ڈنڈے سے سرخ مرچیں پیستی نظر آتیں جن سے سالن کا کام لیا جاتا تھا۔ ہمارے سامنے والے گھر میں بھی کرنال کے مہاجر رہتے تھے۔ انتہائی بھلے مانس، وضعدار اور مہذب، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان کا نام قاری عبدالرحیم تھا۔ میں نے قرا?ن مجید ناظرہ انہی سے پڑھا۔ صابو کے گھر سے اگلا مکان ملک عبدالرحیم کا تھا۔ ہماری طرح یہ بھی امرتسر کے کشمیری تھے، ملک صاحب ریلوے میں گڈس کلرک بھرتی ہو گئے تھے۔ محلے کے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، ان کے اندر بھی ابھی تک ان کا خوبصورت بچپنا موجود تھا، وہ اکثر بچوں میں کھانے پینے کی مختلف چیزیں تقسیم کرتے چنانچہ جب کبھی ان کی بالکونی سے ”بالو کڑیو ونڈی دی پھلیاں لے جاﺅ“ کا ”اعلان“ ہوتا، ہم سب بچے بچیاں ان کے مکان کے باہر کھڑے ہو جاتے اور من کی مرادیں پاتے۔


محلہ لیرچونیاں میں ایک بہت بڑا مکان جموں سے آئے ہوئے مہاجروں کا بھی تھا۔ اس میں ایک ہی خاندان کے کئی لوگ آباد تھے مگر لگتا تھا غربت اور بیماری نے اس گھر کا راستہ دیکھ لیا ہوا تھا۔ اس خاندان کی ایک قابلِ احترام خاتون دوا نہ ملنے کی وجہ سے سسک سسک کر دم توڑ گئی اور اس کا ایک جوان بیٹا ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوا۔ اس گھر کے پچھواڑے میں ایک کنال جگہ خالی پڑی تھی جسے ہم اللہ جانے کیوں ”کھولا“ کہتے تھے اور یہ کھولا محلے بھر کے بچے بچیوں کی پلے گراﺅنڈ تھی۔ ہمارے ”کھیل“ بھی کیا تھے؟ یہی ”پٹھو گرم“ یعنی ایک گیند لے کر نشانہ باندھ کر پوری قوت سے مخالف ”کھلاڑی“ کو مارنا اور اسے ”ناک آﺅٹ“ کرنے کی کوشش کرنا۔


ناک آﺅٹ یوں کہ اکثر ناک ہی کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ یا پھر گ±لّی ڈنڈا تھا، ایک سادہ سا ڈنڈا اور گھڑی ہوئی لکڑی کی گ±لّی، جس کی نوک پر ڈنڈا مار کر اسے ہوا میں اچھالتے اور پھر ہوا ہی میں اس پر ڈنڈے سے ضرب لگاتے۔ اس کے علاوہ بنٹے (کانچ کی گولیاں) کھیلتے جس کا طریقہ یہ تھا کہ زمین کھرچ کر ایک ”کھتّی“ بناتے۔ اس کے بعد ذرا فاصلے پر کھڑے ہو کر بنٹے اس کھتّی کی جانب لڑھکاتے، جو بنٹے کھتّی میں جا گرتے وہ ہماری مہارت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہوتے۔ کھولے سے باہر یعنی سڑک پر ہم ”ریڑھا“ دوڑایا کرتے تھے، یہ ریڑھا لوہے کے ایک رنگ نما پہیّے پر مشتمل ہوتا تھا جسے ایک پتلی سی راڈ میں پھنسا کر ہم سڑکوں پر دوڑاتے تھے۔ اسے آپ سائیکل، موٹر سائیکل یا کار کا وزیر آبادی ابتدائی ماڈل قرار دے سکتے ہیں جس کے ساتھ پیدل دوڑنا پڑتا تھا۔ (قند ِ مکرر)
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker