عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:جہالت کے کنوئیں!

گزشتہ روز کتابوں کی جھاڑ پونچھ کے دوران میری نظر ایک کتاب ’’نفسیاتی و اعصابی بیماریاں‘‘ پر پڑی جس کے مصنف کا نام ڈاکٹر محمد شعیب شاہد تھا۔ جو کتاب مجھے ملی یہ حصہ دوم پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد میں نے اس کتاب کا حصہ اول تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر مجھے نہیں ملا۔ یہ کتاب اللہ جانے کب سے کتابوں کے ڈھیر تلے دبی آخری سانس لے رہی تھی کیوں کہ اسے دیمک لگ چکی تھی اور بہت سے صفحات پڑھے نہیں جا رہے تھے، میں نے اس کتاب کے ابتدائی صفحات پڑھے تو سخت دکھ ہوا اور خود پر بہت غصہ بھی آیا کہ چالیس سال سے یہ کتاب میری دوسری کتابوں میں پڑی تھی اور میں اِسے دیکھ ہی نہ پایا تھا۔ حالانکہ میری ڈگری نفسیات پر نہیں لیکن نفسیات سے مجھے گہری دلچسپی ہے چنانچہ میرے ٹی وی ڈراموں کی کردار نگاری پسند کئے جانے کی وجہ ان کرداروں کی نفسیات میں جھانک کر ان کی تجسیم کرنا تھی۔
میں متذکرہ کتاب پر تبصرہ لکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا، صرف اس کے بنیادی نکتے کو بیان کرنا مقصود ہے، جس سے عوام کی بات تو چھوڑیں ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی بےخبر ہیں اور یوں محض ایک نفسیاتی پروبلم کی وجہ سے ساری عمر خود بھی پریشان رہتے ہیں اور معاشرے میں بھی بےسکونی پیدا کرتے ہیں۔ کتاب کے مصنف کے بقول صورتحال یہ ہے کہ نفسیاتی امراض کے شکار افراد کے بظاہر جسمانی اعضا تندرست دکھائی دیتے ہیں مگر مریض اس کے باوجود ایک مسلسل کرب اور اذیت کا شکار رہتا ہے اور اندر ہی اندر پگھلتا رہتا ہے۔ جسمانی تندرستی کے باوجود جب خوف و ہراس، وہم اور وسوسے، نیز گونا گوں اندیشے اور دیگر نفسیاتی مسائل شدت اختیار کر لیں تو سارا اعصابی نظام ان کے زیر اثر کام کرنے لگتا ہے۔ اس کرب ناک عذاب میں مبتلا شخص جس قدر حساس ہوگا اس پر یہ اثرات اتنے ہی گہرے ہوں گے۔ اس صورت میں ہر قسم کے میڈیکل ٹیسٹ اور معائنے بےمعنی ہوں گے کیونکہ امراض کا تعلق اس کے جسم سے نہیں بلکہ اس کے ذہن سے ہوتا ہے۔
مریض نفسیاتی طور پر کمزور، بےبس اور عدم تحفظ سے دوچار ہو کر شکاری کے خوف سے بھاگتے ہوئے شکار کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔ اعصابی کشمکش کے باعث جسم کے مخصوص، کمزور اور حساس حصے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ایسے مریضوں کا علاج مسکن ادویات سے بھی کیا جاتا ہے مگر یہ عارضی ہوتا ہے بلکہ ؎
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
والی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، جب تک معالج کی خصوصی توجہ اسے حاصل رہتی ہے، اسے ایک سہارا سا محسوس ہوتا رہتا ہے مگر بالآخر اس میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے چنانچہ اس کے بعد بلکہ ہمارے ہاں تو بالکل آغاز ہی میں تعویز، گھنڈوں والوں کی چاندی ہونا شروع ہو جاتی ہے، حالانکہ ابتدا ہی میں اگر کسی ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کی جائیں اور ادویات کی بجائے کونسلنگ سے علاج کو اہم سمجھا جائے تو صورت حال پر ایک حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے بےشمار افراد نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں اوربہت تکلیف دہ زندگی نہ صرف یہ کہ خود بسر کر رہے ہیں بلکہ ان کے متعلقین بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ ہمارے ہاں نفسیاتی امراض کے حامل افراد اپنی بیماری کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے بلکہ اگر انہیں کہا جائے کہ وہ کسی ماہر نفسیات کے پاس جائیں تو ان کا جواب ہوتا ہے ’’میں کوئی پاگل ہوں‘‘۔
میں خود ایک زمانے میں نفسیاتی عوارض کا شکار ہو گیا تھا، اللہ بھلا کرے ڈکٹر سعد ملک کا کہ انہوں نے میرے ساتھ دس بارہ سیشن کئے اور کچھ ادویات بھی دیں، الحمدللہ اب عرصہ دراز سے میں نارمل زندگی بسر کر رہا ہوں۔ میں ایک دفعہ نہیں تین چار بار اپنے کالموں میں یہ تجویز پیش کر چکا ہوں کہ لڑکیوں اور لڑکوں کے کالجوں میں نفسیات کے ماہرین متعین کئے جائیں کیونکہ ابتدائے جوانی میں ہزار طرح کے وسوسے ذہنوں میں جنم لیتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو نئی نسل دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہوئی ہچکچاتی ہے، اگر شروع ہی میں انہیں اوہام سے نکال دیا جائے تو ان کی آئندہ زندگیاں پرسکون ہو جائیں۔
مگر ایسا نہیں ہوتا اور یوں ان کی ذہنی بیماریاں ان کی عمر کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اس طرح عوام الناس کے لئے کیمپ لگائے جانے چاہئیں، جہاں ذہنی امراض کے حامل افراد کی کونسلنگ کی جائے اور وہ پیروں، فقیروں اور تعویز گھنڈوں والوں کا شکار ہونے سے بچ جائیں۔ یوں تو ہمارے ہاں جہالت پڑھے لکھے لوگوں میں بھی بہت عام ہے مگر ان پڑھ لوگ تو بہت بری طرح اس کا شکار ہیں اور وہ اپنے امراض کا علاج لاؤڈ اسپیکر پر پیر صاحب کی ماری ہوئی پھونکوں سے ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خدا کے لئے قوم کو جہالت کے ان کنوؤں سے نکالیں، ہمارا معاشرہ پاگلوں کا معاشرہ بنتا جا رہا ہے، اب مزید چشم پوشی کی گنجائش نہیں رہی!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker