ایاز امیرکالملکھاری

ایاز امیرکا کالم:کیسے نالائقوں سے پالا پڑا ہے

اکثر اوقات مملکت خدا داد کے معمولات سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں کے واقعات کو لے لیجئے۔ یہ آگ ایک دم نہیں بھڑکی، عرصے سے سلگ رہی تھی‘ اور حالات کو یہاں تک لانے والے کوئی اور نہیں ٹھیکے دارانِ قوم ہی تھے۔ پہلے تو جتھے اکٹھے کرنے والوں کو سر پہ خود ہی چڑھایا۔ جائز بات کیا ہر نا جائز اُن کی مانی۔ جہاں سٹینڈ لینا چاہئے تھا وہاں پسپائی اختیار کی۔ اگلوں نے پھر سر چڑھنا ہی تھا۔
اب پابندیاں لگا دی گئی ہیں لیکن جب پانی سر سے گزر چکا۔ حکومت کی نالائقی کیا کمزوری عیاں ہو گئی۔ احتجاج شروع ہوا تو پہلے ایک دو روز ایسے لگا کہ حکومت نام کی چیز مملکت خدا داد میں غائب ہو چکی ہے۔ پولیس کی رسوائی شاید اِس سے پہلے کبھی اِتنی نہ ہوئی ہو۔ جو پولیس والا ہتھے چڑھا اُس کی ایسی پٹائی ہوئی کہ خدا کی پناہ۔ پابندی بھی کس انداز سے لگی ہے۔ وزارت داخلہ کا انگریزی میں لکھا ہوا اعلامیہ پڑھ لیجئے۔ اتنی کمزور ڈرافٹنگ کہ اعلیٰ حکام کی قابلیت پہ شرم آتی ہے۔ اعلامیہ میں یہ بھی درج ہے کی جتھے والوں نے ریاست کو مرعوب کرنے کی کوشش نہ کی بلکہ مرعوب کر دیا۔ اعلامیہ پڑھ لیجئے اُس میں یہی کچھ درج ہے۔ کوئی حکومت کبھی ایسا اقرار کرتی ہے؟ یقینا دانستہ ایسا نہیں لکھا گیا ہوگا لیکن جہاں حواس کھو گئے ہوں یا قابلیت ہی اتنی محدود ہو ایسی تحریریں ہی لکھی جاتی ہیں۔
جتھے والے ایک لحاظ سے تو ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا اور پھر وعدہ نبھایا نہ گیا۔ اندازہ لگائیے کہ موجودہ افلاطونوں نے جتھے والوں سے واقعی مذاکرات کئے تھے اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ تین ماہ میں فرانس کے حوالے سے درپیش مسئلے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ پھر اِس تاریخ میں دو ماہ کی توسیع مانگی گئی۔ ظاہر ہے جس قسم کی باتیں جتھے والے کر رہے تھے اُنہیں کوئی حکومت نہیں مان سکتی تھی‘ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مطالبات ہی لا یعنی قسم کے تھے تو حکومت مذاکرات میں کیوں گئی؟ تین ماہ کی مہلت کیوں مانگی گئی؟ پھر اِس دورانئے میں دو ماہ کا اضافہ کیوں کیا گیا؟ حکومت کو پہلے ہی اتنا شعور ہونا چاہئے تھاکہ جتھے والوں سے مذاکرات کی بنیاد کوئی بنتی ہی نہیں‘ لیکن اس سے بڑھ کر یہ خبریں بھی آئیں کہ مطالبات مان لئے گئے ہیں اور صرف اِن پہ عمل درآمد کرانے کیلئے وقت کی مہلت مانگی گئی ہے۔
حکومت صرف کمزوری کی مرتکب نہ ہوئی بلکہ انتہا کی بے وقوفی کی بھی۔ فرانس کے صدر نے جو بھی کہا ہو، فرانس میں جو بھی قانون پاس کیا گیا ہو، ریاست پاکستان کہاں سے احمقانہ اقدامات کر بیٹھتی؟ احمقانہ اقدامات ایک طرف اور وہ بھی ایک گروہ کے پریشر کے تحت۔ کس ملک میں ایسا ہوتا ہے؟ لیکن ریاست پاکستان سے توقع کی جا رہی تھی کہ اقوام عالم میں اپنے لئے جگ ہنسائی کا سامان پیدا کرے۔ یہاں پھر ایک سوال اٹھتا ہے، کیا حکومت ان سب عوامل سے بے خبر تھی؟ اُسے معلوم نہیں تھا کہ جو مطالبات کئے جا رہے ہیں اُن کو ماننا اس کیلئے ناممکن تھا؟ تو پھر اِن سے پوچھا جائے کہ آپ مذاکرات میں گئے کیوں تھے؟ آپ میں اتنی اخلاقی جرأت ہونی چاہئے تھی کہ آپ تب کہتے کہ مطالبات غلط ہیں اور انہیں کوئی حکومت نہیں مان سکتی‘ لیکن لیت و لعل سے کام لیا گیا، حیلے بہانوں کا سہارا لیا گیا اور وقت ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ بلا ٹلی نہیں، اپنے وقت پہ رونما ہوئی اور جہاں پہلے کسی اصول پہ کھڑے ہوتے تو نقصان کم ہوتا مصلحت پسندی کی وجہ سے نقصان بہت زیادہ اٹھانا پڑا۔
لیکن یہ بلا صرف فرانس والے مسئلے سے شروع نہیں ہوتی۔ کڑیاں دور تک جاتی ہیں۔ کھل کے بات نہیں کی جا سکتی، احتیاط لازم ہے لیکن اِتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ صرف اِس حکومت کی نہیں بلکہ پوری ریاست کی کمزوریوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ لوگوں کے جذبات جو بھی ہوں ریاست کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور اِن میں سے سرفہرست جان و مال کا تحفظ ہے۔ جتھے والے احتجاج کی راہ پہ اتر آتے ہیں اور راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ حکومت اور ادارے تماشا دیکھتے رہتے ہیں اور پھر وہی مذاکرات کا ڈھونگ چلتا ہے جس کا آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو اور شہ ملتی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ جب احتجاج کرنے والے منتشر ہونے پہ آمادہ ہوتے ہیں تو اُن میں ریاست کی ایما پہ سفر کا خرچہ تقسیم کیا جاتا ہے۔
یہاں ایک اور کمزوری بھی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے خیالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مذہبی اقدار کا سب سے بڑا پاسبان سمجھتے ہیں۔ انسان کے جو بھی خیالات ہوں اُن سے کیا اختلاف کرنا لیکن جب آپ کو ریاست کی ذمہ داری سونپی گئی ہو تو پھر اولین فرض یہی بنتا ہے کہ آپ اپنے فرائض صحیح انداز سے پورا کر سکیں۔ کوئی اور حکومت ہوتی تو فرانس والے مسئلے پہ شاید جتھے والوں سے مذاکرات نہ کرتی‘ لیکن یہ مذاکرات میں گئے اور جیسا ہم دیکھ رہے ہیں نہ صرف وزیر اعظم بلکہ پوری مملکت کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
اور صرف یہ نہیں کہ اِس خاص مسئلے میں ایسا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے زمانے میں جب جنرل پرویز مشرف امریکہ کے قریب چلے گئے تو ایک طرف امریکہ سے تعلقات سنوارے جا رہے تھے اور دوسری طرف دہشت گردی کے خطرے کا صحیح ادراک نہ کیا گیا۔ القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان نے ریاست پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور ریاستی اداروں سے صحیح لائن وضع نہ ہو سکی۔ 2014ء تک حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ بہ امر مجبوری ریاست پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنا پڑا۔ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی ریاستی رویہ یہی کچھ رہا۔ سیاسی مصلحتوں کی خاطر ایم کیو ایم کے خطرے کو صحیح طریقے سے نہ سمجھا گیا۔ ایم کیو ایم کے خلاف کچھ کرنا کیا تھا اُس کے ساتھ برتاؤ نہایت نرم ہاتھوں سے روا رکھا گیا۔ نتیجہ اِن پالیسیوں کا یہ نکلا کہ تحریک طالبان پاکستان نے اپنی تقریباً الگ ریاست قبائلی علاقوں میں بنا لی اور ایم کیو ایم کا راج کراچی میں قائم ہو گیا۔ بڑے جتن اور بڑی قربانیوں کے بعد اِن دونوں تسلطوں کا زور توڑا گیا۔
ہم جیسے بیوقوف تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف جنگ کے بعد کسی قسم کی مذہبی انتہا پسندی کی جگہ پاکستان میں نہیں رہے گی‘ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ جتھے والے اٹھے اور زور پکڑتے گئے اور ان کے سامنے ریاست پیچھے کے قدموں پہ آ گئی۔ یعنی نمونہ وہی پرانا کہ خطرے کی ممکنہ سنگینی کو شروع میں نہ سمجھا گیا۔ خطرہ زور پکڑتا گیا اور پھر بالآخر جب حالات انتہا کو پہنچ گئے تب ہی حکومت اور ریاستی اداروں کی آنکھیں کھلیں اور کچھ کرنے کیلئے اِدھر اُدھر کی تگ و دو شروع ہونے لگی۔
بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ جب وقت ہو ایک لائن کھینچنے کا تب ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ ریاست کی یہ کیا روش ہے کہ عقل پہ اتنی جلدی پردے پڑے جاتے ہیں؟ ریاستی ادارے عارضی مصلحتوں کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ خدا ہمارا بھلا کرے۔ یہاں ایک مصیبت ٹلتی ہے تو خواہ مخواہ کی ایک اور کھڑی ہو جاتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker