تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:پاکستان کا داخلی بحران خارجہ تعلقات اور سلامتی پر اثرانداز ہوگا

ایک روز قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ تاریخ طالبان کے ساتھ معاہدہ میں منظور کی گئی یکم مئی کی تاریخ سے کئی ماہ آگے ہے، اس کے باوجود کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد وہاں امن و امان کی صورت حال کیا ہوگی۔ اور پاکستان کو اس سلسلہ میں کن حالات کا سامنا کرنا پڑےگا۔
پاکستان اس دوران اپوزیشن اتحاد کے جوڑ توڑ، تحریک انصاف میں پڑنے والی ممکنہ پھوٹ اور تحریک لبیک کے احتجاج کے بعد اس پر لگائی گئی پابندی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے بعض ایسے اشاریے سامنے آئے ہیں جن پر غور کرنے اور ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ملک کا داخلی انتشار اس کے قومی سلامتی سے جڑے مفادات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ یہ پہلو باعث حیرت نہیں ہونا چاہئے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اس خطے میں اپنی فوجی سرگرمی ختم کرنے کی تیاری کررہا ہے، عین اسی بیچ متحدہ عرب امارات کے توسط سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کا ڈول ڈالا گیا ہے۔ واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ کا کہنا ہے کہ ’ہوسکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت بہترین دوست نہ بن پائیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ ان کے درمیان ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرسکیں اور معاملات کو مل جل کر طے کرلیں‘۔
اس سے پہلے میڈیا یہ اطلاعات دیتا رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسروں نے اس سال جنوری میں دوبئی میں ملاقاتیں کی تھیں۔ بظاہر انہی روابط کے نتیجے میں فروری میں دونوں ملک لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدہ پر راضی ہوئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان سے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کی خبریں بھی موصول ہوئی تھیں لیکن کسی حکومتی سطح پر اس فیصلہ کو غلط طریقے سے نمٹنے کی وجہ سے ، وفاقی کابینہ نے اس وقت تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارت بحال کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اگست 2019 میں کئے گئے فیصلے واپس نہیں لیتا۔ مودی حکومت کی طرف سے ایسے کسی اعلان کی توقع نہیں ہے لیکن موجودہ حالات میں نئی دہلی کی طرف سے اسلام آباد سے تجارت بحال کرنے اور پھر اسے کشمیر کے معاملہ سے منسلک کرنے کے معاملہ پر کوئی شدید رد عمل بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ بھارت فی الوقت پاکستان کے ساتھ کسی سفارتی مڈبھیڑ پر آمادہ نہیں ہے اور مصالحت کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے۔
ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان اگر کبھی امن بحال ہوگاتو وہ کسی ایک ملک کی شرائط کی پر نہیں ہوسکتا۔ پاکستان بلا شبہ کشمیر کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کرسکتا ہے لیکن جب تک اسے مذاکرات یا تعلقات بحال کرنے کے ساتھ منسلک کیا جاتا رہے گا، اس وقت تک تصادم کی کیفیت برقرار رہے گی۔ اسلام آباد کی طرف سے بوجوہ ایسی سیاسی بلوغت اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے افواج کے انخلا کے بارے میں اعلان اور اماراتی سفیر کے اس انکشاف کے بعد کہ ان کا ملک پاکستان اور بھارت میں ورکنگ ریلیشن شپ قائم کروانے کی کوشش کررہا ہے، اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پاک بھارت تعلقات میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئے ۔ متحدہ عرب امارات کا پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کے حوالے سے کوئی براہ راست مفاد وابستہ نہیں ہے۔ اس کی یہ کوششیں اس علاقے میں حالات پر کنٹرول کے لئے امریکہ کے وسیع منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس منصوبہ میں افغانستان سے فوجیں نکالنے اور ایران کے ساتھ کسی مصالحت تک پہنچنے کے بعد برصغیر کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان ایسا تعلق استوار کروانا ہے جس میں امریکی مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔ امریکہ کو اندیشہ ہوگا کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کی صورت حال جاری رہتی ہے تو یہ دونوں ممالک افغانستان کو پراکسی وار کے لئے استعمال نہ کریں۔
تاہم یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے پاکستان اور بھارت کے علاوہ امریکہ کے پاس بھی کوئی ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ نہیں ہے۔ اس وقت جو صورت حال دکھائی دیتی ہے اور اگر امریکی افواج کے مکمل انخلا تک اس میں کوئی ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں نہ آئی تو افغانستان کی سرزمین پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چپقلش کا ایک نیا باب شروع ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ اس دوران سامنے آنے والی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے دو ایسے پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس اندیشہ کو حقیقی بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ زمینی حقائق پر مشتمل سالانہ جائزہ لینے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر بھارت میں دہشت گردی کا کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کا تعلق پاکستان سے جوڑا جاسکا تو نریندر مودی کی حکومت پاکستان کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گی بلکہ یہ خطرہ حقیقی ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان مستقبل قریب میں کسی معاہدے کا امکان نہیں ہے۔ امریکی افواج کے ملک چھوڑنے کے بعد طالبان کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور اسے میدان جنگ میں افغان فورسز پر برتری حاصل ہوگی۔
امریکی انٹیلی جنس کی یہ قیاس آرائی ایک جنگ زدہ افغانستان کی نشاندہی کررہی ہے۔ ایسی جنگ میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ۔ افغانستان میں پاکستان کے مفادات اور گزشتہ دو دہائی کے دوران سامنے آنے والا حالات کی روشنی میں پاکستان ان عناصر سے مکمل فاصلہ قائم نہیں کرپائے گا جو کسی نہ کسی صورت افغان حکومت سے برسر پیکار ہیں اور طالبان کے بینر تلے کابل میں حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ میدان جنگ کی صورت حال امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کو دی جانے والی امداد اور فوجی معاونت پر بھی منحصر ہوگی۔ کیا امریکہ اور اس کے نیٹو حلیف افغان فورسز کو اتنا طاقت ور بنا سکیں گے کہ وہ میدان جنگ میں طالبان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل سکیں اور بالآخر مذاکرات کے ذریعے تقسیم اقتدار کے کسی قابل عمل منصوبہ پر راضی کرلیں؟ اس منظر نامہ کا تصور کرتے ہوئے یہ سمجھنا بھی ضروری ہوگا کہ نیٹو اور امریکہ نے بیس برس تک افغانستان میں فوجی موجودگی کے دوران ملک کی ائیرفورس قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس وقت افغان فورسز امریکی و نیٹو ائیرفورس کے بل پر ہی طالبان کا مقابلہ کرتی رہی ہیں۔ یہ سہولت ختم ہونے کے بعد ان کے لئے عسکری گروہوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امریکہ کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد وہاں کیسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ایجنڈا ایک نکاتی ہے کہ اس سرزمین کو ایسے دہشت گروہوں کی آماجگاہ نہ بننے دیا جائے جو امریکہ یا اس کے حلیف ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ صدر جو بائیڈن کی تقریر میں اس جنگ کا پس منظر بتاتے ہوئے ایک بار بھی افغان شہریوں اور خواتین کے حقوق کی بات نہیں کی گئی۔ حالانکہ افغانستان پر حملہ کے بعد مسلسل یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغانستان میں شہری حقوق کی حفاظت کرنے والا جمہوری نظام بے حد اہم ہوگا۔ طالبان کے ساتھ معاہدہ میں فوجیں نکالنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان حقوق کی یقین دہانی حاصل نہیں کی گئی بلکہ یہ معاملہ ’بین الافغان مذاکرات‘ پر چھوڑ دیا گیا۔ جیسا کہ فوجیں نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے جو بائیڈن نے پاکستان کے علاوہ روس، چین، ترکی اور بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کو یقینی بنائیں۔ 20 برس تک ایک ملک کو عسکری طاقت سے تباہ کرنے کے بعد دوسرے ممالک کو امن کی ذمہ داری سونپنا خود اپنی ذمہ داری سے گریز کی نمایاں مثال ہے۔ لیکن امریکہ اپنے مفادات کے لئے ہمیشہ ایسے ہی فیصلے کرنے کا عادی رہا ہے۔
واشنگٹن اپنی افواج کے انخلا کے بعد والے افغانستان میں بھارتی کردار کا خواہش مند ہے۔ نئی دہلی حکومت خود بھی کابل حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات کی آڑ میں کسی بھی صورت افغانستان کو پاکستانی اثر و رسوخ سے بچانا چاہے گی۔ ستمبر کےبعد سامنے آنے والی صورت حال میں اگر بھارت نے اس حوالے سے پرجوش طریقے سے کام کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں مزید دراڑیں پڑیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ یہ تو چاہتا ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان مواصلت اور تعاون کا کوئی رشتہ استوار ہوجائے لیکن وہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل کے حوالے سے نہ تو کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی شاید اس پوزیشن میں ہے کہ وہ انہیں حل کرنے میں مدد فراہم کرسکے۔ کشمیر کا معاملہ اس حوالےسے سر فہرست ہے۔ اس لئے پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ کشمیر میں’ اسٹیٹس کو ‘ قبول کرلے۔ یعنی جو حصہ پاکستان کے پاس ہے وہ اس کے پاس رہے اور جس حصہ پر بھارت قابض ہے، اس پر بھارتی حکومت کا کنٹرول رہے۔
یہ حل دونوں ملکوں کو جنگ کے مسلسل خطرہ سے ضرور نجات دلا سکتا ہے لیکن پاکستان میں ایسے کسی حل کو سیاسی طور سے قبول کروانا آسان نہیں ہوگا۔ کوئی سیاسی حکومت کسی بھی معاہدہ میں مقبوضہ کشمیر کے حق خود اختیاری سے دست بردار ہونے کا اعلان نہیں کرسکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ تاہم یہ حل ان خطوط پر ممکن نہیں جو پاکستانی عوام کو ازبر کروائے گئے ہیں۔
پاک بھارت تعلقات میں جمی برف پگھلانے کے لئے امارات کی سفارت کاری اس وقت تک کارگر نہیں ہوسکتی جب تک بھارت کو بھی کچھ مراعات دینے پر آمادہ نہ کیا جائے۔ ابھی ایسے اشارے موجود نہیں ہیں۔ پاکستان کو کسی بھی پیش رفت میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے داخلی انتشار و تصادم کی صورت حال ختم کرنا ہوگی۔ تاکہ امریکہ اور بھارت کو اندازہ ہو کہ پاکستانی قوم کسی ایک مسئلہ پر ہم آواز ہے۔ اسلام آباد بوجوہ یہ تاثر قائم کرنے میں ناکام ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker