مظفر آباد : پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’تشدد کے راستے سے کسی بھی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔‘
چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ ’اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جاری مظاہروں میں بدھ کے روز خاصی شدت دیکھی گئی اور چمیاٹی کے مقام پر جھڑپ کے دوران تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔‘
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’عوامی ایکش کمیٹی کے پرامن احتجاج کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم پاکستان نے میری ذمہ داری لگائی کہ آپ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کریں اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے کوشش کریں۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات کو تسلیم کیا ہے اور مزید پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا وفاقی وزیر طارق فضل کے بعد کہنا تھا کہ ’پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ تین روز سے جاری مظاہروں کی وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، مختلف مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔‘
چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ’بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چمیاٹی کے مقام پر تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔‘ ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پولیس کے علاوہ عام ان پرتشدد واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے تاحال تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بدھ کے روز یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ’تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے اور بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ تشدد کے راستے سے کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے۔‘
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کیا ہیں
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔
اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔
حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مزاکرات ناکام ہوئے تھے۔
پاکستان کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دعویٰ کیا کہ ’ایکشن کمیٹی کے ساتھ دوران مذاکرات تمام عوامی مطالبات مان لیے گئے تھے مگر کشمیر کے اندر آئینی معاملات کو ہم ایک کمرے میں بیٹھے کر کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔‘
ان کے مطابق ’وہ اختیار ہمارے پاس نہیں بلکہ اسمبلی کے پاس ہے۔ ان کے بیشتر مطالبات، جو آئین و قانون کے دائرہ کار میں آتے تھے اور جن کا تعلق کشمیری عوام کی بہتری سے تھا، خواہ وہ مرکزی حکومت سے متعلق تھے یا کشمیر حکومت سے، مان لیے گئے۔ آخر میں ایکشن کمیٹی نے کچھ غیر قانونی مطالبات رکھ دیے، جن میں کشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔‘
امیر مقام نے کہا کہ ’کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے، آپ عوام کا مینڈیٹ لے کر الیکشن جیتیں اور اسمبلی میں آئیں، پھرترامیم کرائیں، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

