مقبولیت کا اعجاز ہے کہ بعض اشعار ضرب الامثال کے مقام پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شعر ہے:
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی
استاد شاعر بیاض سونی پتی کا یہ شعر زباں زد عام ہے۔ مگر ان کا کلام کسی ترتیب اور تدوین میں نہیں تھا کہ لوگوں تک پہننچتا۔ جستہ جستہ اشعار اور نظمیں کہیں سننے کو مل جاتی تھیں۔ وہ تو بھلا ہو محمد شاہ نواز خان کا کہ انہوں نے بیاض کا کلام یکجا کیا اور "بیاض کی بیاض سے” کے عنوان سے گرد و پیش پبلی کیشنز سے ابھی چند دن پہلے شائع کروایا۔ اس کی پہلی تقریب رونمائی پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں 19 ستمبر 2023 کو منعقد ہوئی جس میں بیاض صاحب کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
بیاض سونی پتی ہریانہ سٹیٹ کے علاقے سونی پت میں 1929 میں پیدا ہوئے۔ سونی پت دریائے جمنا کے کنارے ایک صنعتی شہر ہے۔ پانی پت بھی ہریانہ ہی کا شہر ہے۔ بچپن میں تاریخ کی کتابوں میں ہمیں ظہیر الدین بابر اور ابراہیم لودھی کے درمیان پانی پت کی لڑائی بہت جوش و جذبے سے پڑھائی جاتی تھی شاید اس لئے کہ مسلمان اغیار کی نسبت آپس میں زیادہ جذبہ ایمانی سے لڑتے ہیں۔ سونی پت کی جنگ بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ یہ اٹھارویں صدی کے آغاز میں ہوئی جس میں سکھوں نے مغل فوج کا شکست دی تھی۔
تقسیم کے بعد بیاض پاکستان میں کوٹ ادو کے مقام پر آباد ہوئے۔ گویا جمنا کے کنارے سے اٹھے اور دریائے سندھ کے کنارے پر آباد ہو گئے۔ غزل کے علاوہ نعت گوئی ان کا میدان ہے۔ ان کے کلام میں صوفیانہ رنگ کا در آنا ایک قدرتی عمل ہے کیونکہ وہ نقشبندی سلسلے سے منسلک تھے۔ بہت عمدہ شعر کہتے تھے۔ فرماتے ہیں:
لمحوں کی ٹہنیوں پہ ہے لرزاں مرا وجود
پتوں کی طرح اڑتے چمن چھوڑ جاؤں گا
ادبی تنظیم "سخن ساز” بالخصوص اس کے سربراہ جناب ساجد حیات کو بہت مبارک کہ انہوں نے اہم اور تاریخی شاعر کو ادبی دنیا سے روشناس کیا۔
فیس بک کمینٹ

