ادبسرائیکی وسیب

جاوید ایاز خان کا مضمون : بیاض سونی پتی اور احساس کے انداز ( پہلا حصہ )

احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی
1960 ء میں ادبی حلقے اس وقت چونک اُٹھے جب آل پاکستان محفل مشاعرہ میں ایک سانولی رنگت کے جاذب نظر نوجوان شاعرنے اپنا کالم سنا کر سامعین کو ششدر کر دیا اور جب یہ شعر پڑھا تو داد دیتے ہو ُے لوگ کھڑے ہو کر مکرر مکرر کی صدائیں بلند کرنے لگے اور اس مشاعر ے میں اس شعر کو کوئی دس مرتبہ پڑھا گیا اور اس غزل کے ہر شعر کو باربار سنا گیا۔اور پھر تو ان کا یہ شعر ہر دوسرے شخص سے سننے کو ملنے لگا ۔
یہ نوجوان شاعر بیاض سونی پتی تھا جس نے شعرگوئی کا آغاز تو قیام پاکستان سے قبل ہی کردیا تھا مگر ادبی حلقوں میں ابھی متعارف نہ ہو سکا تھا اور اس آل پاکستان محفل مشاعرہ
میں اس نے پہلی مرتبہ کلام پیش کیا اور مشاعرہ لوٹ کر افق شاعری کا ایک درخشاں ستارا بن گیا اور اس کے اشعار اب ہر زبان خاص وعام ہوگئے اور اپنی شاعرانہ انفرادیت کی باعث نوجوان طبقہ کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ 1947ء میں آپ نے ہندوستان
کے مشہور ادبی شہر سونی پت سے ہجرت کرکے کو ٹ ادو کو مسکن بنایا آپ کے نانا حکیم ولی محمد مجبور کا شمار دہلی کے مشہور شعراء میں ہوتا تھا۔۔ ان کے ہم اثر مشہور شاعر کشفی ملتانی اور حکیم عبدالمجید راحی نے آل پاکستان مشاعرہ کا انعقاد کیا اور ملک کے تما م بڑے بڑے شعراء کرام کو مدعو کیا تو مقامی شاعر ہونے کے ناتے انھیں
بھی دعوت کلام دی گئی ۔جہاں قتیل شفائی ۔منیر نیازی ۔حبیب جالب ۔احمد ندیم قاسمی ۔عاصی کرنالی ۔کشفی ملتانی نسیم لیہ۔محسن نقوی ۔۔جیسے کہنہ مشق شاعر اسٹیج پر موجود ہوں ایک نوجوان کا اپنے ہلکے پھلکے ، سادہ وپر معنی اور موسیقیت سے لبریز اشعار کا انفرادی رنگ اور اس پر شعر پڑھنے کا ایک منفرد انداز تمام محفل کو گرویدہ کرگیا ۔اور پھر تو
وہ ہر مشاعرہ کی جان ٹھہرے۔ان کے اشعار اور غزلیں ہر سننے اور پڑھنے والے کو متاثر کرنے لگیں۔اخبارات ورسائل میں ان کی شاعری کے چرچے ہونے لگے۔ ریڈیو پاکستان ملتان کا آغاز ہوا تو ہر مشاعرے میں مدعو کیے جانے لگے ۔آج بھی ان کی مرقد کے کتبہ پر لکھا ان کا ہر دلعزیز شعر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہےکہ
ہر چیز پہ قادر وہی معبود خدا ہے
انسان تو مجبور ہے راضی بہ رضا ہے
کب جانیے کب اس کو بجھا دے کو ئی جھونکا
یہ زیست لرزتا ہوا مٹی کا دیا ہے
بیاض سونی پتی کا اصل نام محمد بیاض خان تھا ہجرت سے قبل سونی پت بھارت کے باسی تھے اس لیے اپنے نام کے ساتھ سونی پتی لکھتے لیکن تخلص بیاض ؔ ہی کرتے تھے ۔جوانی میں پہلوانی اور کسرت کا شو ق رہا ہجرت کے خونین منظر اور واقعات اور خاندان کی ان فسادات میں تباہی کا اثر بڑا گہرا اثر لیا اور پھر شوق حصول شہادت جہاد کشمیر میں لے گئی
وہاں جرات وبہادری دکھانے پر جنگی اعزاز سے نوازا گیا ۔فوج چھوڑنے کے بعد عرائض نویسی شروع کی اور کوٹ ادو کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔کوٹ ادو شہر میں شاعری اور ادب کے محور بن گئےاور بزم فکر وفن کی بنیاد رکھی ۔ان کی شخصیت کے بارے میں مشہور نقاد ۔ادیب و شاعر محمد حیات چغتائی کا خیال ہے۔ ” منکسر المزاج سراپا محو مروت مسکراتا سنجیدگی سے مزین چہرہ ۔کشادہ جبیں۔سرمئی ارنگت ۔میانہ قد۔سوچ وفکر کے اوراق الٹنے والی آنکھیں ۔جوانی وپیری کے سنگم پر کھڑا ہوا دست قدرت کا عظیم اور الفانی شاہکار خالق کی کی وہ تخلیق ہے جو بیاض سونی پتی کے نام سے مشہور ہے۔اس عظیم شخصیت کی جبیں پر لہراتی ہوئی فکر کی لہریں نہ جانے لوح و اوراق کی کتنی زمینوں کو سیراب کر چکی ہیں ”
( جاری ہے )‌

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker