ملتان : معروف شاعر ،دانشور اور فلسفے کے استاد ڈاکٹر محمد امین نے کہا ہے کہ بیاض سونی پتی کی شاعری اپنے عہد کی آوازہے۔ وہ ایک متحرک شاعر تھے جنہوں نے کوٹ ادو میں بیٹھ کر پورے برصغیر میں اپنی پہچان کرائی۔ ان کے اشعار انسانی احساسات کے آئینہ دار ہیں اوران کے بعض اشعار تو ضرب المثل کی صورت اختیارکرچکے ہیں۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے ادارہ استحکام شرکتی ترقی( ایس پی او )کے زیراہتمام بیاض سونی پتی کی کتاب ”بیاض کی بیاض سے“ کی تعارفی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ڈاکٹرامین نے کہاکہ بیاض صاحب جیسے بہت سے قلم کاروں کو ان کی زندگیوں میں نظراندازکیاگیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاسم راز نے کہاکہ بیاض صاحب اپنی ذات میں انجمن تھے۔ رضی الدین رضی نے کہاکہ گردوپیش پبلی کیشنز ان شاعروں کی تخلیقات کومنظرعام پر لارہا ہے جومالی وجوہات کی بناءپر اپنی کتابیں شائع نہیں کراسکے۔انہوں نے کہاکہ کتاب کلچر کو عام کرناوقت کی اہم ضرورت ہے۔
قمررضا شہزاد نے کہاکہ شاعر اورادیب اپنی تخلیقات کے ذریعے معاشرے میں خوبصورتیاں پیدا کرتے ہیں۔ شاکر حسین شاکر نے کہاکہ بیاض سونی پتی کا نعتیہ کلام بھی منظرعام پرآنا چاہیے۔ پروفیسر امجد رامے نے کہاکہ کتاب دوستی اور اردو کے فروغ کے لیے ہمارا مشن جاری رہے گا۔شاہ نوازخان نے کہا کہ وہ میرے چچا تھے اور انہی کی وجہ سے مجھے بچپن سے ادبی محفلوں میں جانے کا موقع ملا۔ بڑے بڑے شاعروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور ادب کے ساتھ میری وابستگی بیاض سونی پتی کی مرہون منت ہے۔پروفیسر مرزا شفیق بیگ نے کہاکہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ بچپن میں میرا بہت سا وقت بیاض صاحب کے پاس گزرا۔ وہ ایک خوددار شاعر تھے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔
تقریب میں نامور شاعرشیرافگن جوہر ،بیاض سونی پتی کے صاحبزادوں شہزاد بیاض اور اعظم بیاض اور مومنہ ادریس، خدیجہ پروین سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
فیس بک کمینٹ

