سخن ساز ثقافتی و لٹریری فورم کے زیر اہتمام کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر بیاض سونی پتی کی کتاب ’’ بیاض کی بیاض سے‘‘ کی تقریبِ رونمائی و شعری نشست پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔جس میں جڑواں شہر سے آئے ہوئے شعراء کرام کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والےافراد نے بھی شرکت کی۔
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی
جیسے ضرب المثل شعر کے خالق کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی یہ تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی پہلا حصہ بیاض سونی پتی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی پر مشتمل تھا جس کی صدارت ملک کےمایہ ناز شاعر ڈاکٹر وحید احمد صاحب نے کی ۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلامِ الٰہی اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب ناصر علی ناصر نے سر انجام دیے جبکہ مہمانِان خصوصی شاہنواز خان ، رانا شاہد ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر راولپنڈی اور اصغر بھٹی تھے جبکہ مہمانِ اعزاز امر روحانی راولپنڈی سے تشریف لائے تھے۔
اس تقریب میں بیاض سونی پتی کے فن شاعری اور شخصیت پر بھر پور روشنی ڈالی گئی، سب سے پہلے شاہنواز خان نے ان کی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر گفتگو کی اور سامعین کو بیاض سونی پتی کی شاعری سنا کر خوب داد سمیٹی۔ اس دوران انہوں نے بیاض سونی پتی کے پوتے عدنان صاحب کی موجودگی کا بھی احساس دلایا جو اس تقریب میں باقاعدہ شرکت کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔
انہوں نے گردو پیش کے روحِ رواں رضی الدین رضی صاحب کا بھی تذکرہ کیا جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام کیا ۔ اس کے بعد رانا شاہد نے بیاض سونی پت کی شاعری پر گفتگو کی ۔ا ن کے بعد جمیل اصغر بھٹی نے کہا کہ یہ شہر ادب کے عظیم لوگوں کا شہر ہے جہاں کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والے بیاض سونی پتی کو خراج تحسین کرنا بہت خوبصورت روایت ہے انہوں نے مختصر مگر جامع گفتگو میں بیاض سونی پتی کے مجموعہ کلام کا تذکرہ کیا ۔ جن کے بعد امر روحانی نے اس وقت کے ادبی منظر نامے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ وہ دور ادب کا سنہری دور تھا نہ سوشل میڈیاتھا اور ہی موبائل فون لیکن لوگ ادب سے محبت کرتے تھے اور کتابیں پڑھا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں محسن نقوی نیاز کوکب، خیال امروہوی، نسیم لیہ ، قاسم راز ، جسارت خیالی و دیگر نام اہمیت کے حامل ہیں۔ تقریب کے آخری مقرر جناب ڈاکٹر وحید احمد تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاہنواز خان صاحب کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے جس محبت سے برصغیر کے اہم شاعر بیاض سونی پتی کا کلام یکجا کیا اور چھاپا اور اس کو اسلام آباد اور رولپنڈی میں لے کر آئے جس سے اسکی روشنی دوسرے شہروں میں بھی پھیلے گی۔انہوں نے کہا یہ تقریب ہر لحاظ سے بہت اہم ہے اور ادب جس طرح مضافات میں پروان چڑھتا ہے بڑے شہروں کا مقدر ہی نہیں۔جہاں علم و ادب کی پہچان اور محبت مضافات میں ہو گی بڑے شہروں میں نظر نہیں آئے ، کتاب جس محبت سے مضافات میں پڑھی جائے گی اس محبت سے شہر میں کم ہی پڑھی جاتی ہے،ا نہوں نے کہا یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہےاس کو لائبریر یوں تک پہنچنا چاہئے،
رپورٹ ِ:ساجدحیات
فیس بک کمینٹ

