پاکستان کا حالیہ الیکشن 2024ء نتائج کے حوالے سے شدید زخمی جسے سلیکشن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ باوجود اس کے الیکشن کمیشن کے منہ پر طمانچہ سے کم یہ الیکشن نہ تھا۔جسے اکثریت کو اقلیت میں بدل کرایک ڈھونگ رچایاگیا۔ اب آخر اس کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے حکومتی ڈھانچہ بالآخر تین پارٹیوں میں طے پاگیاہے۔ اب متوالے صدرپاکستان صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف ہی ہوسکتے ہیں۔پنجاب کی وزیراعلیٰ کا منصب محترمہ مریم نواز شریف کے سپرد کرکے جمہوریت کے فروغ کیلئے تین بڑی سیاسی جماعتوں کے صاحبان منصب جس میں کوئی شک نہیں کہ بڑے تجربہ کار‘مکمل فہم وفراست‘ذہین‘بڑی سوچ کے مالک شخصیات کہا جاسکتا ہے۔سیاسی تجربے کا ادراک ان شخصیات میں بدرجہ اتم موجود ہے بلکہ سیاست کے جادوگر جناب آصف علی زرداری اس منصب پر دوسری بار فائز ہونگے۔ جبکہ دختر پنجاب محترمہ مریم نواز کی جیل‘ قیدوصعوبتیں برداشت کرکے پارٹی کی سیاست کے نشیب وفراز طے کرکے اس منصب تک فائز ہوئی ہیں۔
اس وقت پاکستان کا یہ نیا سیاسی سیٹ اپ شاندار ہی نہیں بلکہ تجربہ کار بھی ہے۔ اب سوالیہ نشان یہ ہے کہ ملک اور عوام اس وقت جس معاشی دلدل کے بحران میں مبتلا ہیں کوئی بھی سیاسی لیڈر موجودہ حالات میں عوام کا پرسان حال نہ ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں امیر‘امیر سے امیرتر ہورہا ہے اور غریب‘غریب تر ہوتا جارہا ہے۔وہاں گیس‘ بجلی‘ تیل‘ کی مہنگائی ، بے روزگاری انتہا کو پہنچ رہی ہے ۔قانون کی حکمرانی ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ روزمرہ کی اشیاء خوردونوش کے ریٹ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ اُدھر ملک پاکستان IMF کے قرضوں تلے دبا ہوا ہے۔ یعنی میں کس کے ہاتھ پہ لہو اپنا لہو تلاش کریں۔اب آنے والا تجربے کار سیاسی سیٹ اپ عوام کو کس قدرخوشحالی کی نوید سناسکتا ہے۔ کچھ دنوں بعد ماہ رمضان کی آمد آمد ہے۔ عبادات کے ساتھ مریم نواز کیلئے اس صورتحال کا اندازہ عوام کو کیسے سمجھ آسکتا ہے۔اب کیا کہتے ہیں کہ راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے۔
راقم الحروف کی تجویز یہ ہے کہ شاعروں‘ ادیبوں اور فنون لطیفہ کی شخصیات کیلئے رائٹرویلفیئر فنڈ کمیٹی کو نہ صرف مضبوط کیا جائے بلکہ اُس میں اُس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان لکھاری حضرات کو معاشی حوالے سے مضبوط کیا جائے۔ جبکہ موصوف وزیراعلیٰ پنجاب نے اُس وقت ان کمیٹیوں کا اجراء کیا تھا۔اب کیونکہ جناب شہبازشریف وزیراعظم پاکستان بن چکے ہیں تو تجویز یہ ہے کہ اب ان کمیٹیوں کو پورے پاکستان میں بالخصوص اور بالعموم پنجاب میں بھی نافذالعمل کیا جائے۔
مشکلات میں گھرا ہوا پاکستان اور صدرپاکستان آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت اور پیپلزپارٹی کا سلوگن روٹی‘ کپڑا اورمکان۔اب جاگ رہا ہے ہر انسان۔بلکہ مشکلات میں گھرا ہوا پاکستان۔پھر نئی سیاسی‘باوقاربصیرت کا آئینہ دار نوجوان جناب چیئرمین بلاول بھٹوپیپلزپارٹی اپنے نانا جان قائد شہید ذوالفقارعلی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیربھٹو صاحبہ کے وژن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے شہید بی بی کا ایک طرہئ امتیاز تھا کہ وہ اپنے ورکروں سے بلاامتیاز ساتھ رکھتی تھیں۔اب سب پارٹی لیڈران کیلئے بھی بہت بڑا ٹارگٹ ہے اس کو عبور کرنا تمام صاحب اقتدار اصحاب کیلئے ایک بڑا چیلنج ہی نہیں بلکہ بہت بڑا ٹارگٹ بھی ہے۔اس کو عبور کرنا ان اصحاب کیلئے مشکل تو ہوسکتا ہے مگر نا ممکن نہیں۔
فیس بک کمینٹ

