کالملکھاریمحمود احمد چودھری

اے پی سی یا نواز شریف کا آخری اوور؟۔۔ چوہدری محمود احمد

پاکستان پیپلزپارٹی کی طلب کردہ 11جماعتوں کی کانفرنس ایک مرتبہ پھر بے نتیجہ رہی اور حکومت کیخلاف کوئی واضح اور دو ٹوک فیصلہ نہ کر سکی کانفرنس سے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے و یڈیو خطاب کے علاوہ میاں شہباز شریف ،بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز ،مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا اور موجودہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر کڑی تنقید کی ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے نہ صرف موجودہ حکومت کو شدید ہدف تنقید بنایا بلکہ ریاستی اداروں پر بھی کھل کر گرجے برسے اور اپنے جی ٹی روڈ والے بیانیے سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے جبکہ اس کے برعکس آصف علی زرداری نے بڑے نپے تلے انداز میں خطاب کیا اور گمان یہی ہے کہ انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کے بارے میں بھڑاس نکالنے کا سارا کام نواز شریف کے ذمے لگادیا اور انہیں اچھی طرح اندازہ تھا کہ نواز شریف ضرور بھڑکیں گے اور وہ بھڑکے بھی خوب ۔
آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں جمعیت علمائے اسلام کے سر براہ مولانا فضل الرحمن کی بھی کھل کر”خوشامد” کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کو کھل کر آڑے ہاتھوں لیا نواز شریف کے سخت خطاب کے باوجود پیپلزپارٹی کی میزبانی میں بلائی گئی یہ کانفرنس کسی ٹھوس نتیجے پر نہ پہنچ سکی اور اس میں وزیراعلیٰ پنجاب سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد یا قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجاویز پر اتفاق نہ ہوسکا ۔
مولانا فضل الرحمن اپنے اس مؤقف پر ڈٹے رہے کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان آج ہی کیا جائے جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ان تجاویز سے اختلاف کیا کانفرنس میں ٹی وی چینلوں پر براہ راست خطاب نشر نہ ہونے پر مولانا فضل الرحمن نے بلاول بھٹو زرداری سے کھل کر غصےاور پیپلزپارٹی کی قیادت سے ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی سے سندھ حکومت سے فوری علیحدگی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو بھی معاہدہ کرنا ہے وہ تحریری کیا جائے اور جو بھی اس سے پیچھے ہٹے اسے قومی مجرم ٹھہرایا جائے کثیر الجماعتی کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن کے خطاب کے دوران مریم اورنگزیب، شیری رحمن نے بار بار شدید مداخلت کی۔
کانفرنس کے بعد رانا ثنا اللہ اور چودھری منظور نے میڈیا کو بریف کیا اور کانفرنس میں ہونیوالے فیصلوں بارے بتایا کہ کانفرنس میں شریک 11میں سے 9جماعتوں نے مرحلہ وار احتجاج شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری طرف حکومتی جماعت نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے ایک بار پھر اس کانفرنس کو چوروں اور لٹیروں کا اکٹھ قرار دیا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان، ترجمان پنجاب حکومت شہباز گل نے کہا کہ یہ کانفرنس حکومت کیخلاف نہیں بلکہ اپوزیشن خود کو دھوکہ دے رہی ہے اور اس کا واحد مقصد حکومت سے این آر او لینا ہے کیونکہ فیٹف قانون کی منظوری کے بعد کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث اپوزیشن قائدین کی منزلیں جیلیں ہیں اور حکومت کسی صورت انہیں این آر او نہیں دے گی جس ماحول میں یہ کانفرنس ہوئی اور اختتام پذیر ہوئی اس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فوری طور پر اس کا حکومت پر کوئی دباؤ نہیں آئے گا کیونکہ پیپلزپارٹی نے یہ کانفرنس شاید مولانا فضل الرحمن کو خوش کرنے کیلئے کرائی جو بار بار آصف علی زرداری کی قدم بوسی کیلئے جارہے تھے اور پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ مولانا فضل الرحمن جیسے لیڈر کو جن کے پاس سٹریٹ پاور ہے ہاتھ سے نکلنے دیا جائے اور مسلم لیگ ن جن حالات سے گزر رہی ہے اس نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن کا کندھا استعمال کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ اپنی بیماری اور عدالتوں سے مفرور قرار دیئے جانے کے باوجود نواز شریف نے اپنے خطاب میں حکومت اور تمام ریاستی اداروں کے بارے جو لب و لہجہ استعمال کیا ہے کہ اس سے لگتا ہے کہ وہ اب بھی مفاہمت کے موڈ میں نہیں اور اپنی سیاسی اننگز جارحانہ انداز میں کھیلنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے جو انداز خطابت اپنایا اس سے نہیں لگتا ہے کہ ان کیلئے اداروں میں اب کوئی نرم گوشہ ہو اور انہوں نے کھل کر لڑائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے اس کا اظہار بعد میں مریم نواز نے بھی اپنے خطاب میں کیا اور کہا کہ نواز شریف نے راہ ہموار کردی ہے اب اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو چلتا کرے ۔
کانفرنس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے صرف اس لئے شرکت کی تاکہ نواز شریف خطاب کر سکیں اور عوام میں مسلم لیگ ن کو زندہ کیا جاسکے کارکنوں کو نیا حوصلہ اور ولولہ ملے اس کانفرنس سے حکومت جائے گی یا نہیں مسلم لیگ ن کی ساکھ بحال ہو گی یا نہیں شہباز شریف کی سیاست پر نواز شریف کی تقریر کے کیا اثرات مرتب ہونگے ریاستی ادارے نواز شریف کے مستقبل بارے اپنا آئندہ کیا لائحہ عمل مرتب کریں گے اس کا اندازہ آنیوالے دنوں میں ہو جائے گا۔پہلے مرحلہ میں حکومت کیخلاف اکتوبر سے احتجاجی تحریک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا اور اس میں لانگ مارچ بھی شامل ہے تاہم قومی و صوبائی اسمبلیوں سے فوری مستعفی ہونے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker