انگریزی کے لفظ فینٹیسی (Fantasy) کا اردو ترجمہ عموماً تخیل یا تصور کیا جاتا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس لفظ کے لیے دیومالا ئی یا مافوق الفطرت جیسے الفاظ زیادہ بہتر ہیں۔ بچپن میں ہم سب کو فینٹیسی ورلڈ اپنی جانب کھینچتی ہے۔ ہمارے بچپن میں کوہِ قاف، عمرو عیار اور علی بابا کی کہانیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔ کچھ بڑے بچے ٹارزن کی کہانیوں اور عمران سیریز کی جانب راغب ہوتے تھے۔ یہ عمر کا تقاضا ہوتا ہے۔ بچوں کو یہ کہانیاں حقیقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔
میرے بچے ڈورے مون دیکھتے تھے۔ اگرچہ مجھے بھی ایسی کہانیاں پسند تھیں، لیکن میرے والد مجھے یہ ادب پڑھنے سے روکتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ ان کا یہ رویہ درست تھا یا نہیں، لیکن چونکہ میں ان کے بہت قریب تھا اور ان کی شخصیت سے بے حد متاثر تھا، اس لیے کوشش کرتا تھا کہ ان کہانیوں سے دور رہوں۔ اس کے بجائے میرے والد مجھے حقیقی دنیا کی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے، جن میں سیاسی شخصیات کی تصانیف اور شاعری کی کتب شامل تھیں۔
مجھے یہ کتابیں کم ہی سمجھ آتی تھیں، لیکن میں ان کے قریب رہنے کی کوشش کرتا تھا۔ چونکہ وہ سابق فوجی آمر ضیاءالحق کا دور تھا، اس لیے میرے والد مجھے یہ حقیقت بتاتے تھے کہ وہ ایک سفاک انسان ہے اور اس نے ایک مقبول سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو سازش کے ذریعے قتل کیا۔ وہ یہ بھی بتاتے تھے کہ بھٹو صاحب کی ایک دختر، بینظیر بھٹو ہیں، جو ضیاء کی آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔
مجھے فیض احمد فیض بہت بھاتے تھے۔ ان کی نظم "ہم دیکھیں گے” ان دنوں بہت مقبول تھی، جسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ شاعری کی دنیا بھی اگرچہ فینٹیسی میں شمار کی جا سکتی ہے، لیکن فیض، فراز اور جالب جیسے شعرا چونکہ انسانی مزاحمت اور جدوجہد کی شاعری کرتے تھے، اس لیے ان کی تخلیقات حقیقت کے زیادہ قریب تھیں۔ پروین شاکر خواتین کی نمائندہ شاعرہ تھیں، اور خاتون ہونے کے باوجود مرد شعرا کی صف میں بھی سب سے نمایاں تھیں۔ اسی لیے ترقی پسندوں کو ان کی تصوراتی دنیا بھی حقیقت محسوس ہوتی تھی۔
میں فیض کی نظمیں ان کا مکمل مفہوم سمجھے بغیر زبانی یاد کر لیتا تھا۔ بہت بعد میں، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس کی کلاس میں، جب میں نے نظم "ہارٹ اٹیک” سنائی تو استاد میرے پاس آئے اور کہا کہ مجھے وہی شاعری پڑھنی چاہیے جو میری عمر سے مطابقت رکھتی ہو۔ میں حیران رہ گیا، کیونکہ اس وقت میں وہ نظم مکمل طور پر سمجھ سکتا تھا۔
میں پھر اپنے بچپن کی طرف لوٹتا ہوں۔ میرے والد مجھے بتاتے تھے کہ دنیا میں دو ہی طرح کے انسان ہیں: ایک وہ جن کے پاس سب کچھ ہے، اور دوسرے وہ جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ جن کے پاس سب کچھ ہے، وہ کچھ نہ رکھنے والوں کا استحصال کرتے ہیں، اور ہمیں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جن کے پاس کچھ نہیں۔ اسے مزاحمت کہتے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے تھے کہ مزاحمت اور جدوجہد کے ذریعے بہت سے کمزور انسان مٹھی بھر طاقتور انسانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اسے انقلاب کہتے ہیں۔
پھر وہ فیض کی نظم ہم دیکھیں گے اقبال بانو کی آواز میں سنتے اور ہمیں بھی سناتے:
"جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے”
یہ سن کر ہم سب پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی۔ میرے والد اور ہم سمجھتے تھے کہ یہی حقیقت ہے، اور ہماری ترقی پسندی ہی اصل حقیقت پسندی ہے۔
میں بڑا ہوا تو میں نے اور بھی بہت سے حقیقت پسندوں کے بارے میں اور خود ان کی تحریریں بھی پڑھیں۔ ان میں کارل مارکس، ولادیمیر لینن، فیدل کاسترو اور چی گویرا شامل تھے۔ آپ کو یہ تحریر طنزیہ لگ رہی ہو گی، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے بھی تو یہ طنز صرف مجھ پر ہے، ان شخصیات پر نہیں۔ میں ساری عمر انہی نظریات کو اپنے ساتھ لے کر چلا ہوں، لیکن ان نظریات کے ساتھ زندہ رہنا بہت مشکل ہے۔
کبھی کبھی انسان تھک جاتا ہے، نڈھال ہو جاتا ہے، مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے۔ میں ان دنوں ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہوں۔ میں نے اپنے والد سے رہنمائی چاہی تو انہوں نے مجھے برٹرینڈ رسل کی ایک تحریر بھیج دی۔ اس کے اردو ترجمے کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں:
"محبت اور علم، جہاں تک ممکن ہوا، مجھے آسمانوں کی طرف لے گئے، مگر ہمدردی ہمیشہ مجھے زمین پر واپس لے آئی۔ درد بھری چیخوں کی بازگشت میرے دل میں گونجتی ہے۔ قحط کے مارے بچے، جابروں کے ہاتھوں اذیت پانے والے مظلوم اور بے بس بوڑھے جو اپنے بیٹوں پر ناپسندیدہ بوجھ ہیں اور تنہائی، غربت اور دکھ کی یہ پوری دنیا انسانی زندگی کے حسین خواب کا مذاق اڑاتی ہے۔ میں برائی کو کم کرنا چاہتا ہوں، مگر کر نہیں پاتا، اور میں خود بھی دکھ سہتا رہتا ہوں۔”
وہ ایک عظیم مفکر تھے، مگر ترقی پسند نہیں تھے۔ شاید ان کا ماننا تھا کہ جس دنیا کی تعمیر کے لیے ہم ترقی پسند جدوجہد کر رہے ہیں، وہ درحقیقت وجود ہی نہیں رکھتی۔ ان کے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ یہ ظلم اور استحصال کی دنیا ہمیشہ قائم رہے گی۔ یہ ایک نہایت تکلیف دہ حقیقت ہے، مگر حقیقت ہے، کیونکہ یہ موجود ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ کارل مارکس کی دنیا اس وقت موجود نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دنیا دور حاضر میں ہمارے لیے محض ایک تخیلاتی دنیا، یعنی ایک فینٹیسی ہے۔ اور تب میں سوچنے لگا کہ مجھے بچپن میں فینٹیسی ورلڈ سے دور رکھنے والے میرے والد صاحب دراصل مجھے ایک فینٹیسی سے دوسری فینٹیسی کی طرف لے گئے تھے، ایک خوبصورت دنیا کی طرف، جو ہماری بدصورت حقیقی دنیا سے بالکل مختلف ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم اس کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

