ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ کمترین بغرضِ ایصالِ ثواب اور زیارتِ نایاب آستانہ عالیہ پیر سائیں مرچو سرکار حاضر ہوا۔ جیسے ہی کمترین نے اپنےقدم ِناپاک آستانہ پاک کی دہلیز ِ مقدس پر رکھے۔ سرکار کی کاجل بھری آنکھوں میں اک عجیب سی چمک درآئی ۔ اور وہ کچھ بہک, پر زیادہ تر لہک لہک کر گانا شروع ہو گئے ۔پیر صاحب کے منہ سے اپنے لیے گانا سن کر پہلے تو کمترین حیران پھر پریشان ہوا۔ اور وسوسہ پیدا ہوا کہ شاید کمترین سےکوئی ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہے کہ جسے جھاڑنے کے لیے سرکار کو لہک لہک کر گانا پڑ رہا ہے۔جب اس امر کا اظہار مرید خاص سے کیا۔تواس ناہنجار نے بڑی حقارت سے باآواز بلند کہا ، سن اوئے مورکھ! پیر صاحب تمہارے گناہ جھاڑنے کے لیے گانا نہیں گا رہے۔بلکہ ۔۔ گانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ۔۔ آپ جناب کی "دوائی ” ختم ہو گئی ہے۔ جب بھی ان کی "دوائی ” ختم ہوتی ہے تو آپ جناب ، یونہی اول فول "ارشاد” فرماتے ہیں ۔ پھر کمترین سے مخاطب ہو کر بولا۔اور جہاں تک تمہارے لیے گانے کا تعلق ہے۔تو اے کمترین! تم گناہوں کی بہت بڑی پوٹلی ہو۔انہیں جھاڑنے کے لیے اگرمرچو سرکار ایک سال تک گانا گائیں،بلکہ سپیشل چلہ بھی ارشاد فرمائیں۔ تب کہیں جا کر شاید تیرے گناہوں کی پوٹلی تھوڑی سی ڈھیلی ہو گی۔
مرید خاص کا طعنہ سن کر (جانے کہاں سے) کمترین کی غیرتِ حقیقی جاگ اٹھی۔اور وہ غصے کی اکثریت سے تلملانے ہی لگا تھا کہ اسے خیال آیا۔ یہ کون سا پہلی بار ہوا ہے!۔پھر دوسرا خیال آیا۔مائینڈ کرنا ہی بنتا ہے کیونکہ کمترین اپنی خانگی حدود میں نہیں ہے۔تیسری دفعہ پھر خیال آیاسرکار کے ڈیرے کو اپنا ہی گھر سمجھو۔ چنانچہ کمترین نے اپنی جاگی ہوئی غیرتِ حقیقی کو واپس اپنی جگہ ری سیٹ کیا۔ غصے کی اس بھاری اکثریت کو اقلیت میں بدلا ۔اور اپنی تلملاہٹ کسی نہایت ہی کمزور بندےکے لیے ملتوی کر دی ۔( ویسے بھی کمترین کو ہمیشہ اپنے سے کمزور بندے پر بہت غصہ آتا ہےتو پھر جانے کا نام ہی نہیں لیتا) ۔ پھر مرید خاص کی طرف دیکھ کر خواہ مخواہ ہی مسکرانے لگا۔ جو اپنی ہی دھن میں کہہ رہا تھا کہ اے کمترین! اگر تو گناہوں سے پاک ہونا چاہتا ہے تو تیرے لیئے اک آسان راستہ موجود ہے اور وہ یہ کہ فوراً سے پہلے پیر سائیں کے لیئے "دوائی” کا بندوبست کر ( کہ گلشن کا کاروبار چلے)۔پھر خود ہی کہنے لگا کہ اس سے پہلے پیر صاحب جس تھانے سے” دوائی "خریدلاتے تھےاس کا ایس ایچ او تبدیل ہو گیا ہے۔اب نئے والا زیادہ پیسے مانگ رہا ہے۔ کہتا ہے اس بار اصل مال پکڑا ہے۔اس گراں فروشی پر یقیناً وہ داخل جہنم ہو گا۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ جملہ و من جملہ احباب کو پیر سائیں مرچو سرکار کے بارے میں کچھ آگاہی دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ محلے کے اس گھر میں پیدا ہوئے۔ جہاں پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔آپ کے والدِ ماجد قبلہ بڑے مرچو صاحب کا شمار شہر کے نامور تاجروں میں ہوتا تھا۔ جن کی تجارت کی بنیاد ہی ‘خالص ملاوٹ’ پر قائم تھی۔اور خدا گواہ ہے کہ آپ اس دھندے میں کبھی بھی بےایمانی کے مرتکب نہیں ہوئے ۔ قبلہ کی شہرت چہار دانگ عالم میں یوں پھیلی ہوئی تھی جیسے کبھی دنیا میں ‘کرونا’ پھیلا تھا ۔ لوگ انہیں بطور عقیدت ‘تاجر”کم اور ‘ملاوٹ کا مستند کاریگر ” زیادہ مانتے تھے ۔ آپ پسی ہوئی سرخ مرچوں میں لکڑی کا برادہ اتنی صفائی سے ملایا کرتے تھے کہ اسے دیکھ کر انسان تو کیا،خود مرچیں بھی چکرا جاتیں کہ اس برادے کا تعلق کسی کھیت سے ہے یا کسی ترکھان کی دکان سے آیا ہے؟ (ایسے تھے ہمارے بڑے مرچو صاحب)۔ چنانچہ ملاوٹ کے اس بے تاج بادشاہ کے گھر جب پیر سائیں سرکار تشریف لائے۔تو آپ کی حیاتِ حسرت آیات کا جشن ولادت بااہتمام ِخاص منایا گیا ۔ جوں ہی آپ نے زندگی کا پہلا سانس لیا اس وقت قبلہ بڑے مرچو صاحب پوری ایمانداری سے مرچوں میں برادہ ملا رہے تھے۔چنانچہ اس مرچ آلود فضا میں سانس لیتے ہی آپ نے جوکھینچ کر چھینک ماری تو سیدھی دائی کے سینے میں ٹھاہ لگی۔ اس سے مائی صاحبہ جان گئیں کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے چنانچہ انہوں نے فوراََ ہی یہ تاریخی اعلان کر دیا ۔ یہ بچہ عام نہیں ہے ۔کیونکہ اس کی چھینک سے مرچوں کی خوشبو آتی ہے ۔ بس پھر کیا تھا، محلے والوں کو فوراً ادراک ہو گیا کہ مستقبل کا یہ ولی بڑا ہو کر پورے محلے کا ناطقہ اور نفس ناطقہ دونوں بند کرے گا ۔الحمداللہ ان کا اندازہ درست ثابت ہوا ۔ اسی دن سے آپ کا نام ” سائیں مرچو”پڑ گیا۔پھر مناسب موقعہ دیکھ کر آپ نے "پیراور سرکار” کا اضافہ بقلم خود کر لیا۔ پیر سائیں کو بچپن ہی سے سُر اور تان اڑانے کا اتنا شوق تھا کہ جنہیں سن کر محلے کے آوارہ کتے بھی کانوں میں ہیڈ فون لگا لیتے تھے۔ شنید ہے کہ پیر صاحب خود بھی یہی کان ٹوپے چڑھا کر نصیبو لعل کے ممنوعہ گانے (بڑے شوق سے) سنتے ہیں ۔ موسیقی میں آ پ چاہت فتع علی خان سے بہت متاثر ہیں۔ آپ مخلوق خدا کا روحانی علاج گانے سے کرتے ہیں ۔آپ کے گانے میں ایسی تاثیر ہے کہ ان کے آگے بڑے بڑے جید لوگ بھی پانی بھرتے ہیں۔ایک دو کو تو کمترین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ پانی بھرنے کے بہانے ایسے گئے کہ پھر واپس مڑ کر نہیں آئے۔
مرید خاص کا کہنا ہے کہ سرکار کے گانے سے نہ صرف گناہ جھڑتے ہیں بلکہ بجلی کے بل آدھے اور گیس پوری آتی ہے کون سے والی ؟ یہ وضاحت نہیں فرمائی۔ویسے تو موسیقی روح کی غذا ہے لیکن آپ کا گانا سن کر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہیں کہیں روح کی سزا بھی ہے۔ کمترین اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے کہ سرکار نے کیسے کیسے اجل جنات کو اپنے گانے کے زور سے بھگایا ہے ادھر سرکار گانا شروع کرتے۔ادھر بڑے بڑے جنات جو لوگوں کی ہڈیاں تک چبا جایا کرتے تھے۔ سر پہ پاؤں رکھ کر ایسے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ جاتے جاتے بہ آواز بلند یہ اعلان بھی کرتے کہ سرکار کا گانا سن کرمرنے سے بہتر ہے کہ بندہ خود ہی کسی اندھےکنویں میں چھلانگ لگا دے ۔
اس وقت آپ کی کرامات محلے سے نکل کر قریہ قریہ ۔شہر شہر اور گاؤں گاؤں ایسےپھیل چکی ہیں کہ جیسے سوشل میڈیا پر افواہ پھیلتی ہے ۔ بعض عقیدت مندوں کا تو یہاں تک دعوٰی ہے کہ سرکار کے گانے کا اثر یہ ہے کہ بارش تو خیر اپنے وقت پر ہوتی ہے، مگر بطورِ جرمانہ چھت اضافی طور پر ٹپکنے لگتی ہے ۔آپ کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ کم از کم "کان کا درد” ضرور عطا فرماتے ہیں۔سرکار کی ایک کرامت یہ بھی مشہور ہےکہ ان کے گانے کی تاثیر سے محلے کی مرغیاں جوان اور مرغے وقت سے پہلے اذان دینے لگتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے مرغا کس کا نام رکھا ہے؟
فیس بک کمینٹ

