(بھائی رضی الدین رضی کی کتاب ’رفتگان ملتان‘ کے تیسرے ایڈیشن پر یہ چند سطریں 18 اکتوبر 2025 کو ملتان آرٹس کونسل کے محترم ڈائریکٹر سلیم قیصر صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر تحریر کی تھیں۔ ان میں رضی بھائی کی والدہ ماجدہ کا ذکر بھی آیا۔ تب معلوم نہیں تھا کہ رضی الدین رضی کی والدہ محض ایک ماہ بعد 27 اور 28 نومبر کی درمیانی شب ہمیں داغ مفارقت دے جائیں گی)۔
بلدہ ملتان کے بارے میں زرخیز روایات اور ملفوظات کا ذخیرہ بے کنار ہے اور اسے ایک ہزار برس سے پرچہ نویس اور مخبر رقم کرتے آئے ہیں۔ ناچیز کی افتاد طبع کسی بھی معاملے میں کامل یقین کی نعمت سے محروم ہے۔
تاہم میری رائے میں ملتان کو رضی الدین رضی کی طرح محبت کرنے والا، ہر سانس میں ملتان کو جینے والا اور ہر حال میں ملتان کو چاہنے والا شاید ہی کوئی دوسرا شخص نصیب ہوا ہو۔ رضی الدین رضی سے میری نیاز مندی کل ملا کر چار دہائیوں پر محیط ہے۔ لیکن ہمارے مشترکہ دکھوں کی کتاب چھ عشروں پر پھیلی ہوئی ہے۔ غموں کی اس سانجھ میں ہماری دوستی، محبت اور رفاقت کی لکیروں میں امید اور ملال کے رنگ بھرے ہیں۔ ہماری محرومیوں، ہمارے خوابوں، ناکامیوں اور ایک عمر پہ محیط رائیگانی نے ہمیں ایک ایسے بندھن میں باندھ رکھا ہے جسے میں تو عمر رواں کا حاصل سمجھتا ہوں۔ رضی کے ایک بہت اچھا شاعر، دیانت دار صحافی اور حرف و معنی کی سرگم سے ترتیب پانے والے ادب کا تخلیق کار ہونے میں شاید کسی کو شک ہو لیکن شفقت اور خلوص کی اس چادر کے نیچے بے پناہ غصے کا آتش فشاں چھپا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے میں نے اپنی رعونت پر انکسار کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ ہم دونوں پشتینی شودر ہیں۔ دنیا بھر کے ظالموں کو اس مخلوق کے غیظ و غضب سے خبردار رہنا چاہیے۔
کوئی سترہ یا شاید اٹھارہ برس پرانی ایک یاد حافظے کی تختی پر ابھر آئی ہے۔ رضی بھائی کی کتاب ’رفتگان ملتان‘ کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی۔ سیاہ اور سفید رنگوں کے امتزاج سے ترتیب پانے والا ٹائٹل آنکھوں کو بھلا لگا۔ مختصر سی کتاب تھی جس کے پہلے مضمون ہی کا عنوان تھا۔ ’پہلا جنازہ‘ ۔ میں نے یہ تحریر پڑھ ڈالی۔ بیچ بیچ میں کئی مقامات پر ضبط کا پشتہ ٹوٹا۔ اس تحریر کے ختم ہوتے ہوتے میں یوں بلک بلک کے رویا کہ پھر بہت دنوں اس کتاب کا اگلا صفحہ نہیں پڑھ سکا۔ یتیمی کے کئی رنگ ہوتے ہیں اور اس کی چبھن وہی بیان کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کے کچوکے سہے ہیں۔ بھیڑ میں بچھڑنے کی بے بسی دیکھی ہے اور اپنے پیروں کے نیچے زمین تحلیل ہونے کی کیفیت سے گزرے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ رضی الدین رضی کے قلم نے اس صنف کو دریافت کر لیا ہے جس کے لئے اس نے قلم کاری اختیار کی تھی۔
وہ ارض ملتان سے دائمی مفارقت اختیار کرنے والے ایک کے بعد ایک دوست، استاد، ادیب اور شاعر کی زندگیاں قلم بند کرتا رہا۔ بہت دن ہوئے، میں نے تیز بارش میں ایک فاختہ کو اپنے بچوں کو اپنے پھیلے ہوئے پروں کے حصار میں لیے ہوئے دیکھا تھا بارش بہت تیز تھی۔ ہر لحظہ میرا خوف بڑھ رہا تھا کہ شاید یہ گھونسلا اس بارش کا مقابلہ نہ کر سکے لیکن فاختہ کی ممتا فتح مند رہی۔ اب خیال آتا ہے کہ بھائی رضی کے بارے لکھتے ہوئے وہ فاختہ کیوں یاد آئی۔ رضی الدین رضی کی زندگی کے چھ عشروں کی دھوپ اور کہرے پر بھی ایک فاختہ نے سایہ کر رکھا ہے اور وہ فاختہ رضی کی والدہ ماجدہ ہیں۔ بیوگی کی چادر میں بھلے کتنے ہی سوراخ کیوں نہ ہوں، اس میں زندگی بخش حرارت کا بہلاوا ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ’رنگ لایا ہے دوپٹہ ترا میلا ہو کر‘ ۔
اب مڑ کے دیکھتا ہوں تو کچھ ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ گویا اہل ملتان اپنے رفتگاں کو سپرد خاک کر کے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں لیکن رضی الدین رضی تازہ مٹی سے دونوں بازو پھیلائے لپٹ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں فراموش نہیں ہونے دوں گا، میں تمہیں واماندگاں کی دائمی یادداشت کے لئے قلم بند کروں گا، میں تمہاری خوبصورت زندگی پر فراموشی کی دھول نہیں گرنے دوں گا اور پھر رضی کی انگلیاں جاگ اٹھتی ہیں اور وہ اپنا قلم سنبھالے چند صفحات میں مرنے والے کی کتھا بیان کر دیتا ہے۔ ’رفتگان ملتان‘ کی یہ تین جلدیں گواہی دیتی ہیں کہ رضی الدین رضی نے اپنے ہم عصر رفتگاں سے باندھا عہد پوری سچائی سے نبھایا ہے۔

آج سے کئی سو برس بعد اگر کسی محقق نے ملتان شہر کے دو صدیوں میں بٹے ساٹھ برس کی تمدنی، تہذیبی، علمی اور ثقافتی تصویر کھینچنے پر کمر باندھی تو رضی الدین رضی کی ’رفتگان ملتان‘ اس موعودہ محقق کے لئے بنا بنایا مرقع ثابت ہو گی۔ میری دعا ہے کہ انسانوں سے محبت کرنے والا، ان کے دکھوں پر غم زدہ ہونے والا اور ان کی محرومیوں کو دستاویز کرنے والا میرا دوست رضی الدین رضی ہمیشہ سلامت رہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)

