مناظرے کا موضوع تھا: ”کیا خدا کا وجود ہے؟“ اور یہ مناظرہ ہوا نئی دہلی میں، مفتی شمائل ندوی اور شاعر جاوید اختر کے درمیان۔ دلائل بھی صدیوں پرانے تھے اور جوابات بھی سینکڑوں برس سے وہی، مگر بحث کا لطف آیا۔ دو چار دنوں میں ہی یوٹیوب پر یہ پروگرام لاکھوں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، سوشل میڈیا پر زور و شور سے تبصرے جاری ہیں اور بحث میں کئی مشہور شخصیات بھی شامل ہو چکی ہیں۔ میں نے بھی یہ گفتگو دیکھی ہے اور میرا پہلا تاثر یہ ہے کہ جاوید اختر بغیر تیاری کے اِس مناظرے میں آئے، شاید موصوف کا خیال تھا کہ جس طرح انہوں نے سدھ گرو کو پچھاڑا تھا اور جس طریقے سے وہ الحاد کا پرچم تھام کر کُشتوں کے پُشتے لگا رہے ہیں اور جیسے اُن کی ویڈیوز جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہیں (بولے تو وائرل ہو رہی ہیں ) تو یہ کل کا لونڈا کہاں اُن کے سامنے ٹِک سکے گا، وہ اسے اپنی کامن سینس کا ایک گھونسہ مار کر ہی ناک آؤٹ کر دیں گے۔
مگر اُن سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے مناظرے کی تکنیک نہیں سیکھی، مناظرے میں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا اور نہ ہی حقائق پرکھے جاتے ہیں، مناظرے میں جیت اُس کی ہوتی ہے جو موقع پر (بظاہر) مضبوط دلیل دے کر مدمقابل کو لاجواب کر دے اور حاضرین سے داد سمیٹ لے۔ مناظرے میں اگر آپ آئن سٹائن کو بھی بٹھا دیں اور مناظرے کا موضوع زمان و مکان ہو اور آئن سٹائن کو موقع پر مفتی شمائل ندوی کے کسی سوال کا جواب نہ سوجھ سکے تو اِس سے آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت باطل نہیں ہو جائے گا تاہم صدی کے سب سے بڑے سائنس دان کو شکست ضرور ہو جائے گی۔
مناظرے میں مفتی شمائل کی بنیادی دلیل وہی تھی جو ساڑھے سات سو سال قبل سینٹ تھامس اِکوائنس نے دی تھی، بلکہ سینٹ تھامس نے ہی خدا کے وجود کے پانچ دلائل تراشے تھے اور آج تک خدا کے وجود کی بحث انہی دلائل کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ پانچوں دلائل تقریباً ایک ہی طرح کے ہیں، سب سے مشہور Contingency Argument ہے۔ اِس کے مطابق چونکہ کائنات اور اس میں موجود اشیا ممکن الوجود ہیں یعنی ہو بھی سکتی تھیں اور نہیں بھی ہو سکتی تھیں جیسے کہ آپ اور میں اگر پیدا نہ بھی ہوتے تو کائنات قائم و دائم رہتی اور اِس کی صحت پر فرق نہ پڑتا، سو ہمارے وجود کے لیے کسی واجب الوجود (ضروری ہستی) کا ہونا لازم ہے جو کہ ہمارے کیس میں یہ کائنات ہے۔ اب چونکہ کائنات کی ہر شے اپنے ہونے کے لیے کسی دوسری شے کی محتاج ہے لہٰذا اس پورے سلسلے کا سرا کسی ایسی ہستی پر ختم ہونا چاہیے جو واجب الوجود ہو، یعنی وہ خود کسی کی محتاج نہ ہو اور وہ ہستی سوائے خدا کے کوئی نہیں ہو سکتی۔
پہلے تو جاوید اختر کو اِس دلیل کی ہی سمجھ نہیں آئی اور انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ انہیں آسان زبان میں اِس کا مطلب سمجھایا جائے جو کہ مفتی شمائل نے سمجھایا، جس کے بعد جاوید اختر نے وہی جواب دیا جس کی مفتی صاحب کو امید تھی کہ اگر خدا کی بجائے کائنات کو ہی وہ ضروری ہستی سمجھ لیا جائے تو خدا کی ضرورت باقی نہیں رہتی، مگر مفتی صاحب بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے تھے، جھٹ سے انہوں نے کہا کہ کائنات تو طبعی ہے، خلق کی گئی تھی، یہ ’ضروری ہستی‘ نہیں ہو سکتی جبکہ خدا مابعد الطبیاتی ہے، وقت سے ماورا ہے، اسے خلق نہیں کیا گیا لہذا وہ واحد ضروری ہستی ہے۔
یہاں جاوید اختر کے پاس موقع تھا کہ وہ مفتی صاحب کو آڑے ہاتھوں لیتے اور پوچھتے کہ یہ کیسے فرض کر لیا گیا کہ خدا مابعدالطبیعاتی حقیقت ہے کیونکہ یہ تو مذہب کا دعویٰ ہے اور اسے بنیادی سچائی مان کر آگے بڑھنا دراصل ایک مغالطہ ہے جسے circular reasoning کہتے ہیں مگر جاوید اختر نے یک دم پلٹا کھایا اور مسئلہ جبر و قدر اور خیر و شر میں پناہ لی۔ حالانکہ انہیں برٹرینڈ رسل کی دلیل دینی چاہیے تھی کہ اگر کائنات کی ہر شے کسی سبب کی مرہونِ منت ہے تو ضروری نہیں کہ کائنات بحیثیتِ مجموعی بھی کسی سبب کی محتاج ہو کیونکہ یہ کہنا ایسا ہی غیر منطقی ہے کہ ہر شخص کی ماں ہوتی ہے اِس لیے پوری انسانیت کی بھی ایک اجتماعی ماں ہونی چاہیے۔
جاوید اختر نے اگر ڈیوڈ ہیوم کو پڑھا ہوتا تو وہ کہتے کہ کسی بات کا ”ضروری“ ہونا صرف ریاضی یا منطق کی حد تک درست ہو سکتا ہے (جیسے دو جمع دو چار) ، کسی وجود کا ”خارجی طور پر“ ہونا کبھی بھی منطقی طور پر ضروری نہیں ہو سکتا، سادہ الفاظ میں ہم کسی بھی ہستی کے ”نہ ہونے“ کا تصور کر سکتے ہیں اور اس تصور سے کوئی منطقی تضاد پیدا نہیں ہو گا، لہذا یہ دعویٰ کہ ایک ہستی کا ہونا ”عقلاً ناگزیر“ ہے، ٹھوس دلیل نہیں۔ اِس قسم کے مباحث میں ایک بات یہ بھی فرض کر لی جاتی ہے کہ ہر واقعہ علت و معلول کا محتاج اور انسانی عقل اسی طرح واقعات کو سمجھ سکتی ہے مگر کیا کریں کوانٹم فزکس نے اِس مفروضے کی بھی دھجیاں اُڑا دی ہیں، مثلاً سب subatomic level پر بہت سے واقعات جیسے تابکاری بغیر کسی ظاہری سبب کے محض اتفاقیہ طور پر رونما ہوتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر واقعے کے لیے سبب کا ہونا کوئی آفاقی قانون نہیں۔
لیکن جاوید اختر نے یہ تمام دلائل دینے کی بجائے وہ سوال کیا جس کا مفتی صاحب کو اندازہ تھا کہ اگر ہر وجود کا کوئی خالق ضروری ہے تو پھر اس واجب الوجود ہستی کا خالق کون ہے؟ اور مفتی صاحب نے نہایت سہولت کے ساتھ infinite regress کی اصطلاح استعمال کی جو جاوید اختر کے سر کے اوپر سے گزر گئی اور مفتی صاحب نے مزید کہا کہ چونکہ لامتناہی طور پر یہ سلسلہ علت و معلول ماضی میں نہیں چلایا جا سکتا لہذا کہیں رکنا پڑے گا تو جہاں رکیں گے وہاں خدا کا وجود ثابت ہو گا۔
اِس مناظرے میں جاوید اختر کا انحصار مسئلہ خیر و شر اور جبر و قدر کے دلائل پر تھا۔ یہ مسائل بھی صدیوں پرانے ہیں اور معتزلہ کے زمانے سے اِن پر بحث ہو رہی ہے۔ اِس میدان میں مفتی صاحب نے جو دلائل اور مثالیں دیں وہ خاصی بچگانہ تھیں کہ جیسے امتحان میں ممتحن ہوتا ہے ویسے خدا نے اِس دنیا کا پرچہ تشکیل دیا ہے اور وہ انسانوں کو آزادی دے کر آزما رہا ہے، جو بچے غزہ میں مر رہے ہیں انہیں آخرت میں انصاف اور جنت ملے گی، وغیرہ۔ اِن دلائل سے اب اکیسویں صدی کا دماغ مطمئن نہیں ہو سکتا، اِس کے لیے اب کوئی نیا علم الکلام ایجاد کرنا پڑے گا۔
مجھ سے اگر پوچھیں تو اِس مناظرے میں میزبان کا کردار زیادہ پسند آیا، اُس نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ گفتگو منعقد کروائی۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کسے شکست ہوئی، سوال یہ ہے کہ اگر اِس طرح کے مکالمے نئی دہلی میں ہو سکتے ہیں تو لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں کیوں نہیں ہو سکتے۔ ہم بھی شائستگی کے ساتھ گفتگو کر سکتے ہیں، اپنے اپنے عقائد اور نظریات پر کاربند رہ کر سوال کر سکتے ہیں۔ خدا کا وجود کسی دلیل کا محتاج نہیں، یہ تو ذاتی معاملہ ہے، اگر آپ پر قلبی واردات گزری ہے تو پھر رچرڈ ڈاکنز یا کرسٹوفر ہچنز جیسے ملحدین کی گفتگو بھی آپ کو قائل نہیں کر سکتیں، اور اگر آپ کا زندگی کا تجربہ مختلف ہے تو کوئی مفتی شمائل آپ کو متاثر نہیں کر سکتا۔ یہ سائنس یا ریاضی نہیں، جسے تسلیم کرنا مجبوری ہو، یہ دل کا معاملہ ہے، اور دلوں کے معاملات کا کوئی منطقی جواز نہیں ہوتا، یقین نہیں آتا تو محبت میں گرفتار کسی شخص سے پوچھیں دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں، وہ جواب میں کہے گا: ”یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں، شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی۔“
( بشکریہ : ہم سب )
فیس بک کمینٹ

